Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 761

(یہ باب اوقات نماز کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب اوقات نماز کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 761Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 856Noor 857
عبداللہ بن رافع رضی اللہ عنہ جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں، ان سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وقت نماز کے متعلق دریافت کیا تھا تو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں تم کو ظہر اور عصر کے نمازوں کا وقت بتلاتا ہوں، نماز ظہر اس وقت پڑھو جب کہ تمہارا سایہ (سایہ اصلی کو چھوڑ کر) تمہارے ایک مثل ہوجائے اور نماز عصر اس وقت ادا کرو جب کہ تمہارا سایہ (سایہ اصلی کو چھوڑ کر) تمہارے دو مثل ہوجائے۔ (اس کی روایت امام مالک نے اسناد صحیح کے ساتھ کی ہے اور عبدالرزاق نے بھی اسی طرح مرفوعاً کی ہے اور تمہید میں بھی عبداللہ بن رافع سے ہی مرفوعاً اسی طرح مروی ہے۔) بخاری شریف کی ایک روایت میں مرفوعاً مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص سے فرمایا ”اَبْرِدْ حَتّٰى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ“ (نماز ظہر کو) ٹھنڈی کر کے پڑھو یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو جائے (اور جب سایہ ٹیلوں کے برابر ہو جاتا ہے تو دو مثل ہو جاتا ہے اور
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 6 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Unnumbered commentary

Pray Dhuhr when your shadow is equal to your height

The statement "Pray Dhuhr when your shadow is equal to your height" is explained in "Al-Siraj" by Shaykh al-Islam, where the preferred approach is to not delay Dhuhr until the shadow is equal to the height. It is also advised not to pray Asr until the shadow reaches twice the height. This way, one ensures that both prayers are performed within their respective times according to consensus (Ijma'), as mentioned in "Radd al-Muhtar."

Note 1

قوله

(۱) قوله: صل الظهر إذا كان ظلك مثلك والأحسن ما في «السراج» عن شيخ الإسلام: أن الاحتياط أن لا يُؤخر الظهر إلى المثل، وأن لا يصلى العصر حتى يبلغ المثلين؛ ليكون مؤديا للصلاتين في وقتهما بالإجماع، كذا في «رد المحتار».

Note 1

ف: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے الفاظ ”صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَكَ“ نماز ظہر اس وقت پڑھو جب کہ تمہارا سایہ (سایہ اصلی کو چھوڑ کر) تمہارے ایک مثل ہوجائے۔ حدیث کے ان الفاظ سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ نماز ظہر کا شروع کرنا اس وقت بھی جائز ہے جب کسی چیز کا سایہ اس کے سایہ اصلی کو چھوڑ کر اس چیز کے ایک مثل کو پہنچ جائے اور یہ ایک واضح بات ہے کہ جب نماز ایک مثل پر شروع کی جائے گی تو باقی نماز ایک مثل کے بعد ہی ادا ہوگی، اگر ایک مثل کے بعد ظہر کا وقت باقی نہیں رہتا ہے تو پھر یہ نماز جو ایک مثل کے بعد ادا ہو رہی ہے اس کا شمار ادا میں ہوگا یا قضا میں؟ حدیث شریف سے تو یہی معلوم ہو رہا ہے کہ ایک مثل کے بعد بھی ادا ہونے والی نماز کا شمار ادا میں ہوگا تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ایک مثل کے بعد ظہر کا وقت باقی رہتا ہے اور یہی حنفی مذہب ہے۔

Note 2

نماز ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے)۔ بخاری شریف کے ان مذکورہ الفاظ ”اَبْرِدْ حَتّٰى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ“ سے دو چیزیں ثابت ہو رہی ہیں (1) ایک تو یہ چیز کہ ظہر کا وقت ایک مثل کے بعد بھی باقی رہتا ہے اور یہ لفظ ”اَبْرِدْ“ (نماز ظہر کو) ٹھنڈی کر کے پڑھو سے حاصل ہوا کیوں کہ ٹھنڈک ایک مثل کے بعد ہی شروع ہوتی ہے اور حدیث کے باقی الفاظ ”اَبْرِدْ حَتّٰى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ“ (یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو جائے) ان الفاظ سے (2) دوسری یہ چیز ثابت ہو رہی ہے کہ نماز ظہر کا وقت سایہ ٹیلوں کے برابر ہونے تک باقی رہتا ہے اور یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب کہ سایہ دو مثل کو پہنچ جائے تو اس سے ثابت ہوا کہ نماز ظہر کا وقت دو مثل پر ختم ہو جاتا ہے اور یہی حنفی مذہب ہے۔ ف: واضح ہو کہ مذکورہ فائدہ (1) میں نماز ظہر کے وقت کے بارے میں جو وضاحت کی گئی ہے وہ از راہ تحقیق ہے اس لئے مناسب یہ ہے کہ شیخ الاسلام نے سراج میں جو لکھا ہے اسی پر عمل ہو اور وہ یہ ہے کہ گو ظہر کا وقت ایک مثل کے بعد بھی باقی رہتا ہے لیکن احتیاط اس میں ہے کہ نماز ظہر کو ایک مثل سے پہلے ختم کر دیں اور نماز عصر اس وقت تک نہ پڑھی جائے جب تک کہ دو مثل نہ ہو جائیں اس سے دونوں نمازیں بالاجماع اپنے اپنے وقت پر ادا ہوں گی یہ رد المحتار میں مذکور ہے۔