اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 871
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم نے ایک رات نماز عشاء میں اتنی تاخیر فرمائی کہ رات ختم ہونے کے قریب تھی اور مسجد کے
نمازی سو گئے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم برآمد ہوئے اور نماز عشاء ادا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ بے شک
رات کا آخری حصہ بھی نمازِ عشاء کا وقت ہے اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اسی
وقت نماز عشاء پڑھنے کا حکم دیتا۔ (اس کی روایت امام طحاوی، نسائی اور مسلم نے کی ہے۔) (یہ ترجمہ
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ کی بنایہ شرح ہدایہ سے ماخوذ ہے۔12)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 638 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Regarding the phrase "most of the night," At-Tahawi, in his explanation of the Athar, made a good point. His summary is as follows: From the collection of narrations, it appears that the last time for Isha is when Fajr (dawn) begins. This is because Ibn Abbas, Abu Musa al-Ash'ari, and Abu Sa'id al-Khudri narrated that the Prophet ﷺ delayed it until a third of the night. Abu Huraira and Anas also narrated that he delayed it until midnight, while Ibn Umar narrated that it was delayed until two-thirds of the night had passed. Aisha narrated that he delayed it until most of the night had passed. All these narrations are found in the Sahih collections. Therefore, it is established that the entire night is a valid time for the Isha prayer, as stated by the scholar Al-Aini in his explanation of "Al-Hidayah."
Note 1
(۱) وقوله: عامة الليل وتكلم الطحاوي في شرح الآثار ههنا كلامًا حَسَنًا، ملخصه: أنه قال: يظهر من مجموع الأحاديث أن آخر وقت العشاء حين يطلع الفجر، وذلك أن ابن عباس وأبا موسى الأشعري وأبا سعيد الخدري رووا: «أن النبي ﷺ أخرها إلى ثلث الليل»، وروى أبو هريرة وأنس لهما : أنه أخرها حين انتصف الليل»، وروى ابن عمر الله أنه أخرها حين ذهب ثلثا الليل». وروت عائشة : أنه أعتم بها حتى ذهب عامة الليل»، وكل هذه الروايات في الصحيح، قال: فثبت بذلك أن الليل كله وقت له، قاله العلامة العيني في شرح الهداية».
Note 1
ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح الآثار میں اس مقام پر ایک بڑی اچھی بات لکھی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان جملہ احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نماز عشاء کا آخری وقت صبح صادق کے طلوع ہونے تک رہتا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ ابن عباسؓ، ابو موسیٰ اشعریؓ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کی ادائی میں ایک تہائی شب تک تاخیر فرمائی ہے اور ابو ہریرہ اور انس رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں نصف نصف شب تک تاخیر فرمائی ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں اس وقت تک تاخیر فرمائی کہ رات کا دو تہائی حصہ گزر چکا تھا اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں تاخیر فرمائی، یہاں تک کہ رات ختم ہونے کے قریب تھی۔ یہ تمام روایتیں صحیح میں مذکور ہیں۔ اس بناء پر امام طحاوی نے وضاحت کی ہے کہ ان احادیث کی روشنی میں یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ پوری رات نماز عشاء کا وقت ہے۔ اس کو علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے ہدایہ کی شرح میں ذکر کیا ہے۔