English
It is narrated from Abu 'Umayr ibn Anas, from his uncles among the Ansar, that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) was concerned about how to gather people for prayer. It was suggested to him, "Raise a flag when it is time for prayer, and when people see it, they will inform each other." However, he did not like this idea. It was also suggested to use a horn (Shabur), but he did not like that either, saying, "That is from the practice of the Jews." Then it was suggested to use a bell, and he said, "That is from the practice of the Christians."
Then 'Abdullah ibn Zayd left, deeply concerned about the matter that troubled the Messenger of Allah (peace be upon him). He was later shown the Adhan in his dream. He said: "I went to the Messenger of Allah (peace be upon him) the next morning and said, 'O Messenger of Allah, while I was between sleep and wakefulness, someone came to me and showed me the Adhan.'" 'Umar ibn Al-Khattab had also seen it before but had kept it to himself for twenty days. He then informed the Prophet (peace be upon him), who asked, "What prevented you from telling me?" 'Umar replied, "Abdullah ibn Zayd preceded me, and I felt embarrassed." The Messenger of Allah (peace be upon him) said, "O Bilal, stand up and see what Abdullah ibn Zayd instructs you to do, and then do it." Bilal then called the Adhan. Abu Bishr, the narrator, said: "Abu 'Umayr informed me that the Ansar believed that if Abdullah ibn Zayd had not been ill that day, the Messenger of Allah (peace be upon him) would have appointed him as the Mu'adhdhin (caller to prayer)."
العربية
Typed, pending editorial approval
۸۷۰ - وَعَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُوْمَةٍ لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: اهْتَمَّ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ لِلصَّلَاةِ كَيْفَ يَجْمَعُ النَّاسَ لَهَا، فَقِيلَ لَهُ: انْصِبْ رَايَةً عِنْدَ حُضُورِ الصَّلَاةِ، فَإِذَا رَأَوْهَا آذَنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ. قَالَ: وَذُكِرَ لَهُ القُنْعُ - يَعْنِي الشَّبُوْرَ - فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ، وَقَالَ: «إِنَّهُ مِنْ أَمْرِ الْيَهُودِ». قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ النَاقُوْسُ، فَقَالَ: «هُوَ مِنْ أَمْرِ النَّصَارَى».
فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ مُهْتَمُّ لِهَمَّ رَسُوْلِ اللهِ ، فَأُرِيَ الْأَذَانَ فِي مَنَامِهِ. قَالَ: فَغَدًا عَلَى رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنِّي لَبَيْنَ نَائِمٍ وَيَقْظَانَ إِذْ أَتَانِي آتٍ فَأَرَانِي الْأَذَانَ. قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ، فَكَتَمَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا. قَالَ: ثُمَّ أَخْبَرَ النَّبِيِّ ، فَقَالَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُخْبِرَنِي؟ فَقَالَ: سَبَقَنِي بِهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ فَاسْتَحْيَيْتُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : «يَا بِلَالُ، قُمْ فَانْظُرْ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ، فَافْعَلْهُ، فَأَذَّنَ بِلَالُ. قَالَ أَبُو بِشْرِ الرَّاوِي: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عُمَيْرٍ أَنَّ الْأَنْصَارَ تَزْعَمُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مَرِيضًا يَوْمَئِذٍ لَجَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ مُؤَذِّنَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 974
ابوعمیر بن انس رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک انصاری چچا سے روایت کی ہے کہ ان
کے چچا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فکر کررہے تھے کہ لوگوں کو نماز کیلئے کس طرح جمع کیا
جائے؟ آپ سے عرض کیا گیا کہ نماز کے وقت ایک جھنڈا قائم کر دیں، جب لوگ اس کو دیکھیں گے تو
ایک دوسرے کو آگاہ کر دیں گے، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پسند نہ آیا، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ
سے سینگھ بجا کر (نماز کیلئے) بلانے کا ذکر کیا گیا، آپ نے اس کو بھی پسند نہ کیا اور فرمایا کہ یہ یہود کا
طریقہ ہے، راوی نے کہا کہ پھر آپ سے ناقوس کا ذکر کیا گیا، آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ نصاریٰ کا
شعار ہے، اس کے بعد عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ گھر واپس ہو گئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
فکر کی وجہ سے خود بھی متفکر تھے تو ان کو خواب میں اذان سکھائی گئی راوی کہتے ہیں صبح کو جب رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے خواب بیان کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم میں کچھ نیند اور کچھ بیداری میں تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے اذان سکھائی
راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے بھی بیس روز پہلے اسی طرح خواب دیکھا تھا
اور اسے چھپائے ہوئے تھے، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اب اس کا ذکر کیا تو حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ تم نے مجھے اپنے خواب کی اطلاع کیوں
نہیں دی؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ مجھ سے پہلے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ذکر
کر دیا تھا اس لئے مجھے شرم معلوم ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بلال! اٹھو
اور عبداللہ بن زید تم کو جو سکھائیں اُس پر عمل کرو! تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی۔
ابوبشر راوی کا بیان ہے کہ مجھ سے ابوعمیر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا کہ انصار کا یہ خیال تھا کہ اس روز
عبداللہ بن زید بیمار نہ ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بجائے بلال رضی اللہ عنہ کے) ان کو مؤذن
مقرر فرماتے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 498 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.