Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 939

Chapter on the Adhan

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on the Adhan

Zujajat al-Masabih 939Volume 1

English

It is narrated from Bilal (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said to him: "Do not call the Adhan until the dawn becomes clear to you like this," 1 and he spread his hands horizontally. [Narrated by Abu Dawud, who did not weaken it and Al-Bayhaqi also narrated something similar] In Al-Imam, it is said: "The narrators of its chain are trustworthy." In the narration of 'Abdul-'Aziz ibn Abi Rawad from Ibn 'Umar, it is mentioned that Bilal called the Adhan before Fajr, and the Messenger of Allah (peace be upon him) became angry.

العربية

Typed, pending editorial approval
٩٣٩ - وَعَنْ بِلَالٍ : أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ لَهُ : لَا تُؤَذِّنْ حَتَّى يَسْتَبِينَ لَكَ الْفَجْرُ هَكَذَا 1، وَمَدَّ يَدَيْهِ عَرْضًا . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ يُضَعَّفْهُ، وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ نَحْوَهُ. قَالَ فِي الْإِمَامِ»: رِجَالُ إِسْنَادِهِ ثِقَاتٌ. وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ ﷺ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1050Noor 1051
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تک فجر کی روشنی اس طرح ظاہر نہ ہو جائے اذان مت دیا کرو، اس طرح فرماتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دست مبارک کو آسمان کی طرف عرض میں پھیلایا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ابوداؤد نے اس حدیث کو ضعیف نہیں قرار دیا اور بیہقی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔ الامام میں کہا ہے کہ اس سند کے راوی سب ثقہ ہیں۔) عبدالعزیز بن ابی رواد کی روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے اذان دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہوئے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 534 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Do not call the Adhan until the dawn becomes clear to you like this

(1) Explanation of the statement: "Do not call the Adhan until the dawn becomes clear to you like this": This means that the Adhan should not be called before the time for prayer has entered, and it should be repeated at the correct time. This is because the Adhan is for informing people, and calling it before the time is misleading. Abu Yusuf and Imam Shafi'i held the opinion that it is permissible to call the Adhan for Fajr in the latter half of the night, based on the practice of the people of the Two Holy Mosques. However, the evidence against this is this hadith. As mentioned in Al-Hidayah: "If it is said that the hadith states, 'Do not be deceived by Bilal's Adhan,' and it is understood that he used to call the Adhan before the time, we respond that this is evidence for us, as the Prophet (peace be upon him) did not consider his Adhan valid and instructed people not to rely on it like they would rely on the Adhan called at the correct time. He said, 'Do not be deceived by Bilal's Adhan, for he calls it to wake up those who are praying at night, to allow those fasting to eat their pre-dawn meal, and to wake up those who are sleeping. So eat and drink until Ibn Umm Maktum calls the Adhan.' Ibn Umm Maktum was blind and would not call the Adhan until he heard people saying, 'It has become morning.'"

Note 1

قوله

(۱) قوله : لا تؤذن حتى يستبين لك الفجر هكذا يعني لا يُؤذِّنُ لصلاة قبل دخول وقتها ويعاد في الوقت؛ لأن الأذان للإعلام، وقبل الوقت تجهيل. وقال أبو يوسف وهو قول الشافعي: يجوز للفجر في النصف الأخير من الليل؛ لتوارث أهل الحرمين. والحجة على الكل هذا الحديث. قاله في الهداية». وقال في النهاية»: فإن قيل: جاء في الحديث: لايغرنكم أذان بلال، ويعلم به أنه كان يؤذن قبل الوقت. قلنا: هو حجة لنا حيث لم يعتبر النبي ﷺ أذانه، وأمر الناس بأن لا يعتبروا أذانه مثل اعتبارهم الأذان في الوقت. وقال: ولا يغرنكم أذان بلال؛ فإنه يؤذن ليرجع قائمكم ويتسحر صائمكم ويقوم نائمكم، فكلوا واشربوا حتى يؤذن ابن أم مكتوم، وكان هو أعمى، لا يؤذن حتى يسمع الناس يقولون: أصبحت.

Note 1

ف(1): اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ جب تک صبح صادق نہ ہو فجر کی اذان نہ دیا کرو، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وقت سے پہلے اذان دینا جائز نہیں ہے۔12 ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ جب تک صبح صادق طلوع نہ ہو فجر کی اذان نہ دیا کرو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی نماز کی اذان اس کے وقت کے شروع ہونے سے پہلے نہ دی جائے اور اگر وقت سے پہلے اذان دی گئی ہے تو وقت شروع ہونے پر اس کا اعادہ کیا جائے اس کی وجہ یہ ہے کہ اذان جماعت کی اطلاع کیلئے دی جاتی ہے اور وقت سے پہلے اذان دینے سے اذان کی جو غرض ہے کہ جماعت کے وقت سے مطلع کیا جائے، وہ غرض حاصل نہیں ہوتی تو گویا وقت سے پہلے اذان دینا جماعت کے وقت سے بے خبر رکھنا ہوا، البتہ فجر کی اذان کے بارے میں امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ رات کے نصف آخر میں فجر کی اذان جائز ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے، کیونکہ اس پر اہل حرمین کا نسلاً بعد نسلٍ عمل درآمد ہے لیکن یہ حدیث سب پر حجت ہے یہ ہدایہ سے ماخوذ ہے اور نہایہ میں مذکور ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ حدیث میں ”لَا يَغُرَّنَّكَ أَذَانُ بِلَالٍ“ (یعنی تم کو بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دھوکہ نہ دے) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ قبل از وقت اذان دیا کرتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بھی ہماری دلیل ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کے اذان کا اعتبار نہیں کیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ بلال رضی اللہ عنہ کے اذان کا ایسا اعتبار نہ کریں جیسا کہ وقت کے اندر کی اذان کا اعتبار کیا کرتے ہیں، جب ہی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تم کو دھوکہ نہ دے، بلال رضی اللہ عنہ اس لئے اذان دیتے ہیں کہ شب میں عبادت کرنے والا عبادت کو ختم کر دے، روزہ دار سحری کرے اور سونے والا نیند سے اٹھے اس لئے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے اذان شروع کرنے تک کھاتے پیتے رہو، کیونکہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور جب تک لوگوں سے یہ نہ سن لیتے تھے کہ صبح صادق ہو چکی ہے اس وقت تک اذان نہیں دیا کرتے تھے۔12