Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Etiquette · Chapter 21

باب ظلم ختم ہوا

14 narrations · In source reading order

Hadith 4915

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6514
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ظلم قیامت کے دن 1تاریکیاں ہوگا۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2447 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2579 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Oppression will be darknesses

(1) His statement: “Oppression will be darknesses”: Just as righteous deeds are a cause for light that goes before the believers, so too is oppression a cause for darkness that surrounds the oppressors. It is said that “darknesses” refers to hardships. The plural “darknesses” is used either because oppression is a genus, or because each oppressor has a darkness, or because each has darknesses due to the severity of this heinous act, or because the darkness goes before them and on their right, making it seem multiple. (As stated in Al-Lama’at)

Note 1

قوله

(۱) قوله: الظلم ظلمات كما أن العمل الصالح سبب لنور يسعى بين أيدي المؤمنين، كذلك الظلم سبب للظلمة وأحاطتها للظالمين. وقيل: المراد بالظلمات الشدائد، ثم جمع الظلمات إما لأن المراد بالظلم الجنس، أو بالنسبة إلى المراد لكل ظالم ظلمة، أو لكل واحد ظلمات لشدة هذه الشنيعة، أو لأن الظلمة لما كان يسعى بين أيديهم وبأيمانهم جعل كأنها متعددة. كذا في «اللمعات».

Hadith 4916

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6515
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو مفلس آدمی کون ہے؟ تو صحابہ نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ کوئی سامان، تو آپ نے فرمایا کہ میری امت میں سے مفلس وہ آدمی ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ زکوٰۃ لیکر آئیگا اور وہ اس حالت میں آئیگا کہ اسکو گالی دی ہوگی اسکو تہمت لگایا ہوگا، اس کا مال کھایا ہوگا، اسکا خون بہایا ہوگا اور اسکو مارا ہوگا تو اسکی نیکیوں میں سے کچھ۔ اس (مظلوم) کو دیدی جائیگی اور اسکی نیکیوں میں سے کچھ اُس (مظلوم) کو دے دی جائے گی اور اگر اسکے ذمہ جو کچھ حقوق ہیں اس کو ادا کرنے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو ان (مظلوموں) کے گناہ لے کر اس (ظالم) کے اوپر ڈال دئے جائیں گے، پھر اس کو آگ میں 2ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2581 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Then he is thrown into the Fire

(1) His statement: “Then he is thrown into the Fire”: This implies that there is no forgiveness or intercession for the rights of people unless Allah wills to satisfy the claimant as He pleases. Al-Mazari said: Some innovators claimed this Hadith contradicts Allah’s statement: “No bearer of burdens will bear the burden of another” (Al-An’am: 164). This is baseless and clear ignorance, for he is punished for his own actions, and his burdens are due to the rights owed to his creditors. These are paid from his good deeds, and when his good deeds are exhausted, the sins of his creditors are placed upon him. The essence of the punishment is caused by his oppression, and he is not punished for anything other than his own offense. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: ثم طرح في النار وفيه إشعار بأنه لا عفو ولا شفاعة في حقوق العباد، إلا إن شاء الله يرضي خصمه بما أراد. قال المازري: زعم بعض المبتدعة أن هذا الحديث معارض بقوله تعالى: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى (الأنعام: ١٦٤) وهو باطل، وجهالة بينة؛ لأنه إنما عوقب بفعله، ووزروه فتوجهت عليه حقوق لغرمائه، فدفعت إليهم من حسناته، فلما فرغت حسناته أخذ من سيئات خصومه فوضعت عليه، فحقيقة العقوبة مسببة عن ظلمه، ولم يعاقب بغير جناية منه التقطته من «المرقاة».

Hadith 4917

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6516
اور انہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس اپنے بھائی (مسلمان) کا اُس کی عزت یا کسی اور چیز سے متعلق کوئی حق ہو تو اس کو آج ہی اس سے حلال کر لے (معافی لے لے) اس سے پہلے کہ اس کے پاس نہ کوئی دینار ہو اور نہ کوئی درہم ہوگا اگر اس کے پاس کوئی نیک عمل ہوگا تو اس سے اس کے حق کی مقدار میں (وہ نیک عمل) لے لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں تو اس کے ساتھی کی (جس کا حق ادا کرنا ہے) برائیاں لی جائیں گی اور اُس کے اوپر ڈال دی جائیں گی۔ (بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2449 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4918

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6517
اور انہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ضرور قیامت کے دن حق والوں کو ان کے حقوق ادا کر دیئے جائیں گے یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے بے سینگ بکری کا بدلہ دلا دیا جائے گا۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2582 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4919

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6518
سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دفتر (اعمال نامے) تین قسم کے ہیں، ایک دفتر وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرتا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اللہ بزرگ و برتر فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ (4۔ النساء، آیت:48) (بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے) اور ایک دفتر ہے اللہ تعالیٰ اس کو نہیں چھوڑتا، بندوں کا آپس میں ظلم کرنا، یہاں تک کہ بعض کا بعض سے بدلہ لے گا اور ایک دفتر وہ ہے اللہ تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتا یعنی بندوں کا اپنے اللہ کے درمیان ظلم کرنا ہے (حقوق اللہ میں کوتاہی کرنا) تو یہ اللہ کے حوالے ہیں اگر وہ چاہے تو اسے سزا دے اور اگر چاہے تو معاف کر دے۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔

[Narrated by Al-Bayhaqi in Shu’ab al-Iman]

Hadith 4920

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6519Noor 6520
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب آیت مبارکہ ”الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ“ (6-الانعام، آیت:82) (جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا) نازل ہوئی تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر شاق گزری اور انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں کون آدمی ہے جو اپنے نفس پر ظلم نہ کیا ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مراد نہیں اس کے سوا نہیں کہ وہ (ظلم) شرک1 کرنا ہے کیا تم نے لقمان علیہ السلام کا قول نہیں سنا جو انہوں نے اپنے صاحبزادے سے کہا: ”يٰبُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ، إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ“ (31-لقمن، آیت:13) (بیٹا! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بلا شبہ شرک بڑا ظلم ہے۔ اور ایک روایت میں (یہ الفاظ ہیں) (ظلم سے مراد) وہ نہیں ہے جیسا کہ تم سمجھ رہے ہو، بیشک وہ تو ایسا ہے جیسا لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا ہے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 32 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 124a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

It is not as you think, it refers to shirk, etc.

(1) His statement: “It is not as you think, it refers to shirk, etc.”: This is evidence for the true position of Ahl as-Sunnah wal-Jama’ah, contrary to the Khawarij, Mu’tazilah, and other innovators. This Hadith establishes that sins do not negate faith, as the people of truth have stated. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: ليس ذاك إنما هو الشرك إلخ فيه دليل على مذهب الحق الذي عليه أهل السنة والجماعة خلافا للخوارج والمعتزلة وسائر المبتدعة، فثبت بهذا الحديث أن المعاصي لا ينافي الإيمان، كما قال أهل الحق. أخذته من «المرقاة».

Hadith 4921

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6521
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس درجہ کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے برا آدمی وہ بندہ ہے جو دوسرے کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت2 خراب کرلے۔ (ابن ماجہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3966 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

For the worldly gain of another

(1) His statement: “For the worldly gain of another”: This refers to one who oppresses people to secure worldly gain for someone else, as done by workers and aides of oppressors. It may also mean one who exalts worldly people for their wealth and obeys them, thereby oppressing himself and losing his Hereafter. The first interpretation is more apparent. (As stated in Al-Lama’at)

Note 1

قوله

(۱) قوله: بدنيا غيره والمراد من يظلم الناس ليجعل به دنيا لأحد، كما يفعله العمال وأعوان الظلمة، ويحتمل أن يراد من يعظم أهل الدنيا لدنياهم ويطيعهم، فيظلم نفسه بذلك، فيذهب آخرته بذلك، والأول هو الظاهر. كذا في اللمعات».

Hadith 4922

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6522
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لکھا کہ آپ مجھے ایک خط لکھیں جس میں آپ مجھ کو نصیحت کریں اور زیادہ نہ کریں، پس آپ نے لکھا تم پر سلام ہو اُس کے بعد یہ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی لوگوں کی ناراضگی سے اللہ کی خوشنودی تلاش کرے اللہ تعالیٰ لوگوں کی حاجت میں اس کیلئے کافی ہو جائیگا، اور جو آدمی اللہ کی ناراضگی سے لوگوں کی خوشی تلاش کریگا اللہ تعالیٰ اسکو لوگوں کے حوالے کر دے گا، اور تم پر سلام ہو۔ (بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2414 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5130 (unverified) 93% confidence

Mishkat (candidate) 5130

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4923

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6523
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب 1 اسکو پکڑ لیتا ہے تو چھوڑتا نہیں، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ”وَكَذٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ“ الایۃ (11 ھود، آیت:102) (آپ کے پروردگار کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں والوں کو پکڑتا ہے جب کہ وہ ظلم کرتے ہیں)۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4686 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2583 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

When He seizes him, He does not let him escape

(1) His statement: “When He seizes him, He does not let him escape”: This consoles the oppressed in the present and warns the oppressor, lest he be deceived by the respite. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : إذا أخذه لم يفلته : فيه تسلية للمظلوم في الحال ووعيد للظالم؛ لئلا يغتر بالإمهال. كذا في «المرقاة».

Hadith 4924

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6524
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ظالم اپنے نفس کو ہی تکلیف دیتا ہے، تو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیوں نہیں خدا کی قسم یہاں تک کہ سرخاب پرندہ یقیناً ظالم کے ظلم کی وجہ سے اپنے گھونسلے میں دبلا ہو کر مر جاتا ہے۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔

[Narrated by Al-Bayhaqi in Shu’ab al-Iman]

Hadith 4925

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6525
سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام حجر سے گذرے تو آپ نے فرمایا: تم ان لوگوں کے گھروں میں 2 داخل مت ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا مگر اس طرح کہ تم رونے والے ہو (اس خوف سے) کہ جو مصیبت ان پر آئی تم کو آ جائے گی، پھر آپ نے اپنے سر انور کو ڈھانک لیا اور رفتار تیز فرمائی یہاں تک کہ اس وادی کو پار کر لیا۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4419 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2980b (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Do not enter the dwellings of those who wronged themselves, etc.

(1) His statement: “Do not enter the dwellings of those who wronged themselves, etc.”: This alerts the Prophet’s community that places have an effect from Allah relative to their inhabitants, as a trial or a blessing, just as times do, like seasons of obedience and hours of acceptance. This is supported by the narration: “In your days, Allah has breezes, so expose yourselves to them.” It was previously mentioned that the most beloved places to Allah are mosques, and the most despised are markets. Similarly, the company of the righteous and the wicked has an effect, as indicated by narrations and the legacy of the righteous. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: لا تدخلوا مساكن الذين ظلموا أنفسهم إلخ فيه تنبيه نبيه على أن الأماكن لها تأثير من عند الله تعالى بالنسبة إلى سكانها محنة ومنحة، كما في الأزمنة من موسم الطاعات وساعات الإجابة، ومنه ما روي أن الله في أيام دهركم نفحات، ألا فتعرضوا لها. وقد تقدم أن أحب البلاد إلى الله المساجد، وأبغضها إليه الأسواق، ونظير ذلك تأثير صحبة الأخيار والأشرار، على ما ورد به الأخبار وآثار الأبرار. كذا في «المرقاة».

Hadith 4926

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6526
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم مظلوم کی بد دعا سے بچو اس کے سوا نہیں وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ کسی حق دار سے اس کا حق نہیں روکتا۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔

[Narrated by Al-Bayhaqi in Shu’ab al-Iman]

Hadith 4927

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6527
سیدنا اوس بن شُرَحْبِیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو کسی ظالم کے ساتھ چلے تاکہ اس کو قوت دے اور وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے خارج ہو گیا۔

[Narrated by Al-Bayhaqi in Shu’ab al-Iman]

Hadith 4928

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6528
سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تابع و نقال 1 نہ بنو کہ تم کہنے لگو اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر وہ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے، لیکن تم اپنے نفس کو اس بات کا عادی بناؤ کہ اگر لوگ بھلائی کریں گے تو تم بھی بھلائی کرو اور اگر وہ ظلم کریں گے تو تم ظلم مت کرو۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2007 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Follower, etc.

(1) His statement: “Follower, etc.”: This refers to one who says: “I am with people as they are with me; if good, then good; if evil, then evil.” His statement “who says, etc.” explains and defines the follower. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : إمعة إلخ : المراد هنا الذي يقول: أنا أكون مع الناس كما يكونون معي، إن خيرا فخير، وإن شرا فشر. وقوله: يقولون إلخ بيان وتفسير للإمعة. التقطته من «المرقاة».