Narrated Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ said: "There is no faith for the one who does not fulfill his trust, and there is no religion for the one who does not uphold his covenant. By Him in Whose Hand is the soul of Muhammad, the faith of a servant will not be upright until his tongue is upright, and his tongue will not be upright until his heart is upright. And a person will not enter Paradise if his neighbor is not safe from his harm." It was asked: "What is meant by harm, O Messenger of Allah?" He said: "His oppression and injustice." And any man who acquires wealth through unlawful means and spends from it will not be blessed in it. Even if he gives charity from it, it will not be accepted, and whatever remains will increase his punishment in the Fire, except that the good deeds will expiate the bad ones."
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا ایمان کامل نہیں جو امانتدار نہیں، اور اس کا دین مکمل نہیں جو عہد کا
پابند نہیں، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے اس وقت
تک کسی بندہ کا دین درست نہ ہوگا جب تک کہ اس کی زبان درست نہ ہو، اور زبان درست نہ ہوگی
تاوقتیکہ دل درست نہ ہو، اور وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا، جس کا پڑوسی اس کے بوائق سے امن میں
نہ ہو، تو عرض کیا گیا : بوائق کیا ہیں؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ارشاد ہوا: اس کا ظلم و ستم
۔ اور جو شخص حرام مال حاصل کرے اور اس کو خرچ کرے تو اس میں اس کے لئے کوئی برکت نہ ہوگی
اور اگر اس مال کو خیرات کرے تو قبول نہ ہوگی اور جو کچھ بچ رہے وہ اس کے لئے دوزخ کا توشہ ہے۔
سنو! گندی چیز گندی چیز کو نہیں مٹاتی لیکن پاک چیز مٹا دیتی ہے۔ (طبرانی نے اس کی معجم کبیر میں
روایت کی ہے۔)
Narrated Ubadah bin al-Samit (may Allah be pleased with him): I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever bears witness that there is no god but Allah, and that Muhammad is the Messenger of Allah, Allah has forbidden the Fire for him."
عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ” لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ
رَّسُوْلُ اللّٰهِ “ کی گواہی دے گا اللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کو حرام فرما دیں گے۔ (مسلم نے اس کی
روایت کی ہے)۔
Narrated Uthman (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever dies knowing that there is no god but Allah will enter Paradise."
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ جس شخص کی موت اس یقین پر ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو وہ جنت میں داخل
ہوگا۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)۔
Narrated Jabir (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ said: "There are two causes that lead to salvation." A man asked: "O Messenger of Allah, what are the two causes?" He said: "Whoever dies associating anything with Allah will enter the Fire, and whoever dies without associating anything with Allah will enter Paradise."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: کہ دو باتیں واجب کرنے والی ہیں، ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ وہ واجب کرنیوالی
دو باتیں کیا ہیں؟ فرمایا: جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتے ہوئے مرے وہ دوزخ میں داخل
ہوگا، اور جو شخص خدا کیساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے مرے؛ وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسلم نے
اس کی روایت کی ہے)۔
Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased with him): We were sitting around the Messenger of Allah ﷺ, and with us were Abu Bakr and Umar (may Allah be pleased with them), and a group of people. The Messenger of Allah ﷺ stood up from among us and delayed in returning, and we feared that something might have happened to him, and we were alarmed. So, we got up, and I was the first to be alarmed. I went in search of the Messenger of Allah ﷺ until I came to a garden of the Ansar of Banu Najjar. I circled around it looking for a gate, but I could not find one. Then I saw a stream entering a garden from an area outside. The stream was called "Rabi'a." I hurriedly entered and found the Messenger of Allah ﷺ.
The Messenger of Allah ﷺ said: "O Abu Huraira, what is the matter with you?" I said, "You were among us, and then you stood up and delayed in returning. We feared something might have happened to you, and we became alarmed. I was the first to become alarmed, and I went in search of you until I reached a garden of the Ansar of Banu Najjar. I found no gate, but I saw a stream entering from the outside. I quickly entered and found you."
He then gave me his sandals and said: "Go with these sandals and whoever you meet behind this garden, who bears witness that there is no god but Allah, and whose heart is certain in this belief, give him the good news of Paradise."
The first person I met was Umar, who asked: "What are these sandals, O Abu Huraira?" I said: "These are the sandals of the Messenger of Allah ﷺ. He sent me with them to give the good news of Paradise to whoever bears witness that there is no god but Allah, with certainty in his heart." Umar struck me between the chest, and I fell to the ground. He said: "Return, O Abu Huraira." I returned to the Messenger of Allah ﷺ, weeping, and Umar followed me.
The Messenger of Allah ﷺ asked: "What is the matter, O Abu Huraira?" I replied: "I met Umar, and I informed him of what you had sent me with. He struck me between the chest, causing me to fall, and said: 'Return.'"
The Messenger of Allah ﷺ asked Umar: "O Umar, what made you do this?" Umar replied: "By my father and mother, O Messenger of Allah, did you send Abu Huraira with your sandals to give the good news of Paradise to anyone who meets him and believes in the testimony of faith with certainty in his heart?" The Messenger of Allah ﷺ confirmed: "Yes." Umar said: "Do not do this, for I fear that people will rely on it, and they will neglect to work for their deeds." The Messenger of Allah ﷺ responded: "Let them continue their work."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم حضرت رسول پاک صلی اللہ
علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے تھے اور ہمارے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی حاضرین
کی جماعت میں شامل تھے، دفعۃً حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے سے اٹھ کھڑے ہوئے، اور
دیر تک تشریف نہ لائے، ہم کو خوف ہوا کہ کہیں (خدا نخواستہ) کوئی آفت نہ پڑی ہو، اس لئے ہم گھبرا کر
اٹھ کھڑے ہوئے اور سب سے پہلے مجھے گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں
نکلا اور انصار بنی نجار کے ایک باغ تک پہنچا، ہر چند باغ کے چاروں طرف گھوما، مگر اندر جانے کا کوئی
دروازہ نہ ملا، اتفاقاً ایک ربیع (نہر) دکھائی دی جو بیرونی کنویں سے باغ کے اندر جاری تھی۔ اور ربیع،
نہر کو کہتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اسی نہر میں سمیٹ کر گھس گیا اور حضور والا صلی اللہ
علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! میں نے عرض کیا: جی حضور!
آپ نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ ہمارے پاس تشریف فرما تھے پھر ایک دم
اٹھ کر تشریف لے گئے اور واپس تشریف آوری میں آپ نے دیر فرمائی تو ہم کو خوف ہوا کہ
(خدانخواستہ) کہیں حادثہ نہ گزرا ہو، اس لئے ہم گھبرا گئے، سب سے پہلے مجھے ہی گھبراہٹ پیدا ہوئی
(تلاش کرتے کرتے) میں اس باغ تک پہنچا اور لومڑی کی طرح سمیٹ کر نہر کے راستہ سے اندر
آ گیا، اور لوگ میرے پیچھے ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نعلین مبارک مجھے دے کر
فرمایا: ابوہریرہ! میری یہ دونوں جوتیاں (بطور ثبوت کے) لے جاؤ اور باغ کی دیوار کے ادھر جو شخص
یقین قلبی کے ساتھ ”لا اِلٰه اِلَّا الله“ کی گواہی دیتا ہوا ملے اس کو جنت کی بشارت دے دو۔ (میں
نے حکم کی تعمیل کی) سب سے پہلے مجھے عمر رضی اللہ عنہ ملے اور دریافت کیا: ابوہریرہ یہ جوتیاں کس کی
ہیں؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیاں ہیں، حضور نے یہ دونوں جوتیاں دے کر مجھے
بھیجا ہے کہ جو شخص یقین قلبی کے ساتھ ”لا اله الا الله“ کی شہادت دینے والا تجھے ملے، میں اس کو
جنت کی بشارت دے دوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر میرے سینے کے بیچ میں ایک ضرب لگائی جس کی
وجہ سے میں سرین کے بل گر پڑا، اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوٹ جاؤ اے ابوہریرہ، چنانچہ میں
لوٹ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آواز سے رونے لگا۔ میرے پیچھے پیچھے عمر رضی اللہ
عنہ بھی آ پہنچے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوہریرہ! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: میری ملاقات عمر
رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور جو پیام دے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا میں نے ان کو پہنچا دیا،
انہوں نے میرے سینے پر ایک ضرب لگائی جس کی وجہ سے میں سرین کے بل گر پڑا اور پھر کہنے لگے کہ
لوٹ جا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر تم نے ایسا کیوں کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا حضور نے ابوہریرہ کو اپنے نعلین مبارک
دے کر حکم دیا تھا کہ جو شخص قلبی یقین کے ساتھ لا اله الا الله کی شہادت کا قائل ملے اس کو جنت کی
بشارت دے دینا؟ ارشاد فرمایا: ہاں! عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: حضور! ایسا نہ کیجئے۔
مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے ان کو چھوڑ دیجئے کہ وہ عمل کریں، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا چھوڑ دو۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے۔)
Narrated by Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him), he said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: "The keys to Paradise are the testimony that there is no god but Allah."
معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جنت کی کنجیاں ”لا اله الا الله“ کی شہادت ہے۔ (امام احمد نے اس کی روایت کی ہے)۔
Narrated by Uthman (may Allah be pleased with him), he said: When the Prophet ﷺ passed away, some of the companions were saddened to the extent that some of them began to have doubts. Uthman said: "I was one of them. While I was sitting, Umar and Abu Bakr passed by me, but I did not realize they had passed. Then Umar complained to Abu Bakr, and they both came to me and greeted me. Abu Bakr asked, 'What prevented you from responding to your brother Umar's greeting?' I said, 'I did not do that.' Umar replied, 'Yes, by Allah, you did!' I said, 'By Allah, I did not realize that you had passed by or greeted me.' Abu Bakr said, 'Uthman is speaking the truth; something has occupied him.' I said, 'Yes.' He asked, 'What is it?' I replied, 'Allah took His Prophet ﷺ before we could ask him about the safety of this matter.' Abu Bakr said, 'I asked him about that.' I went to him and said: 'O Messenger of Allah, you are the most deserving of this matter.' I asked, 'O Messenger of Allah, what is the salvation of this matter?' The Messenger of Allah ﷺ replied: 'Whoever accepts from me the words I have offered him and rejects them, it will be salvation for him.'"
عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی وفات پر رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اصحاب نہایت غم زدہ ہوئے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ بعض (نجات کے
بارے میں) وسوسہ میں پڑ جائیں، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بھی ان ہی لوگوں میں
تھا، میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گزر ہوا، اور انہوں نے سلام کیا، مگر مجھے کچھ
معلوم نہ ہو سکا، عمر نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس کی شکایت کی تو دونوں تشریف لائے اور دونوں
نے سلام کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا چیز باعث ہوئی کہ آپ نے اپنے بھائی عمر رضی اللہ تعالیٰ
عنہ کے سلام کا جواب نہیں دیا، میں نے کہا: میں نے ایسا نہیں کیا، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: خدا کی قسم
آپ نے ایسا ہی کیا ہے۔ میں نے کہا کہ خدا کی قسم مجھے آپ کے گزرنے اور سلام کرنے کا علم ہی نہیں
ہوا، ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سچ کہہ رہے ہیں، ان کو کسی بات نے مشغول
کر رکھا ہے، میں نے کہا: ہاں (یہی بات ہے) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ کیا بات ہے؟ میں نے کہا
کہ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے قبل ہی اٹھا لیا کہ ہم آپ سے (اس امر کی) نجات کی
نسبت دریافت کر لیتے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی
نسبت دریافت کر لیا ہے، عثمان رضی اللہ عنہ ہے میں اٹھ کر ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قریب ہو گیا اور
کہا: میرے ماں باپ آپ پر سے قربان، آپ ہی اس کے زیادہ اہل تھے، ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے رسول اللہ اس دین کی نجات کس میں
ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ سے اُس کلمہ کو قبول کر لیا، جس کو میں نے اپنے
چچا پر پیش کیا تھا اور انہوں نے اس کو رد کر دیا، یہ کلمہ قبول کرنے والے کے لئے موجب نجات ہے۔
(امام احمد نے اس کی روایت کی ہے)۔
Narrated by Al-Miqdad (may Allah be pleased with him), he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "There will not remain a house of mud or leather on the face of the earth, except that Allah will bring the word of Islam into it, either with honor from Allah the Almighty, making them among its people, or with humiliation, so that they submit to it." I asked: "So, will the entire religion be for Allah?"
مقداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو
فرماتے ہوئے سنا کہ روئے زمین پر کوئی مٹی کا مکان یا خیمہ ایسا نہ ہوگا جس میں اللہ تعالیٰ کلمۂ اسلام کو
داخل نہ فرمائیں، عزت دینے عزیز کے ساتھ یا ذلت دینے ذلیل کے ساتھ، یا تو ان کو اللہ تعالیٰ معزز
فرمائے گا تو ان کو اس کلمہ کا اہل بنا دے گا، یا ان کو ذلیل کرے گا تو وہ اس کی اطاعت قبول نہ کریں
گے، میں نے کہا: تب تو دین تمام کا تمام اللہ ہی کا ہوگا۔ (امام احمد نے اس کی روایت کی ہے)۔
Narrated by Wahb ibn Munabbih (may Allah have mercy on him), he was asked: "Isn't there no god but Allah the key to Paradise?" He replied: "Yes, but every key has teeth. If you bring a key with teeth, it will open for you; otherwise, it will not open."
وہب بن منبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ وہب سے کہا گیا کہ
کیا ”لا اله الا الله“ جنت کی کنجی نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن ہر کنجی کے دندان
ہوتے ہیں اگر تم ایسی کنجی لاؤ گے جس کو دندان ہوں تو تمہارے لئے جنت کو کھولا جائے گا ورنہ نہیں۔
(بخاری نے اس حدیث کی ترجمۃ الباب میں روایت کی ہے۔)
Narrated by Abu Huraira (may Allah be pleased with him), he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "When one of you improves his Islam, every good deed he performs will be recorded for him as ten times its reward, up to seven hundred times, and every bad deed he performs will be recorded as one single deed, until he meets Allah."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے اسلام کو (اخلاص کے ساتھ) بہتر بنا لے تو جو نیکی کرے گا اس
کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک لکھا جائے گا اور جو برائی کرے گا تو اتنی ہی لکھ دی جائے گی، یہاں
تک کہ وہ ملاقات کرے اللہ سے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
Narrated by Abu Umama (may Allah be pleased with him): A man asked the Messenger of Allah ﷺ: "What is faith?" He replied: "When your good deeds please you and your bad deeds sadden you, then you are a believer." The man said: "O Messenger of Allah, what is sin?" He said: "If something troubles your soul, leave it."
ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے
دریافت کیا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ ارشاد ہوا: جب تجھ کو تیری نیکی سے خوشی ہو اور برائی سے رنج ہو تو تُو
مومن ہے، پھر اس نے کہا: یا رسول اللہ گناہ کس کو کہتے ہیں؟ فرمایا: جب تیرے دل میں کوئی چیز کھٹک
جائے تو تُو اس کو چھوڑ دے۔ (امام احمد نے اس کی روایت کی ہے)۔
Narrated by Amr ibn Abasa (may Allah be pleased with him), he said: I came to the Messenger of Allah ﷺ and asked: "O Messenger of Allah, who is with you in this matter?" He replied: "A free person and a slave." I asked: "What is Islam?" He replied: "Good speech and feeding the poor." I asked: "What is faith (Iman)?" He replied: "Patience and generosity." I asked: "Which Islam is the best?" He replied: "One from whom other Muslims are safe from his tongue and hands." I asked: "Which faith is the best?" He replied: "Good character." I asked: "Which prayer is the best?" He replied: "Long standing in prayer (Qunut)." I asked: "Which migration is the best?" He replied: "To abandon what your Lord dislikes." I asked: "Which jihad is the best?" He replied: "One whose horse is killed and whose blood is shed." I asked: "Which hours are the best?" He replied: "The last part of the night."
عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں حضرت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ (دین کے) اس کام میں آپ کے
ساتھ کون تھے؟ فرمایا: ایک حر (آزاد یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ) اور ایک عبد (غلام یعنی بلال رضی اللہ
تعالیٰ عنہ) میں نے عرض کیا: اسلام کیا ہے؟ ارشاد ہوا: خوش کلامی اور کھانا کھلانا، میں نے عرض کیا:
ایمان کیا ہے؟ ارشاد ہوا: صبر اور سخاوت کرنا، میں نے عرض کیا: کونسا اسلام (یعنی مسلمان) افضل
ہے؟ ارشاد ہوا: جس کے زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، میں نے عرض کیا: کونسا
ایمان افضل ہے؟ ارشاد ہوا: اچھے اخلاق، راوی نے کہا: میں نے عرض کیا: کونسی نماز افضل ہے؟ ارشاد
ہوا: جس میں قیام زیادہ ہو، راوی نے کہا کہ میں نے عرض کیا کونسی ہجرت، بہتر ہے؟ ارشاد ہوا: ان
باتوں کو ترک کرنا جن کو تیرا رب پسند نہیں کرتا، راوی نے کہا میں نے عرض کیا: کونسا جہاد افضل ہے؟
ارشاد ہوا: جس کا گھوڑا ہلاک کیا جائے اور اس کا خون بہایا گیا ہو، میں نے عرض کیا: کونسا وقت بہتر ہے؟
ارشاد ہوا: اخیر شب کا درمیانی وقت۔
(امام احمد نے اس کی روایت کی ہے)۔
Narrated by Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him), he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever meets Allah without associating anything with Him, prays the five daily prayers, and fasts during Ramadan, will be forgiven." I asked: "Shall I not give them the good news, O Messenger of Allah?" He replied: "Let them continue to do their deeds."
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اللہ سے اس حالت میں ملے کہ اس نے (1) اس کے ساتھ
کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، (2) پنج وقتہ نماز ادا کرتا رہا اور (3) رمضان کے روزے رکھا تو اس کی
بخشش ہوگی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ اس کی خوشخبری لوگوں کو دے دوں؟ آپ نے فرمایا: ان کو
چھوڑ دو کہ وہ عمل کریں۔ (امام احمد نے اس کی روایت کی ہے)۔
Narrated by Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him), he said: I asked the Prophet ﷺ about the best of faith. He replied: "To love for the sake of Allah and to hate for the sake of Allah, and to use your tongue in the remembrance of Allah." I asked: "What else, O Messenger of Allah?" He replied: "To love for the people what you love for yourself and to hate for them what you hate for yourself."
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے دریافت کیا: افضل ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: (1) اللہ کے لئے محبت کرنا اور (2)
اللہ کے لئے دشمنی رکھنا اور (3) زبان کو ذکر الٰہی میں جاری رکھنا، انہوں نے کہا: اور کیا چیز ہے یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ ارشاد ہوا: (4) لوگوں کے لئے وہی بات پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو،
اور ان کے لئے اس بات کو ناپسند کرو جس کو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔ (امام احمد نے اس کی روایت
کی ہے)۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: دندان سے مراد اعمال ہیں۔