Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals · Chapter 8

(اس باب میں قبروں کی زیارت کا جائز ہونا، زیارت قبور کی فضیلت اور زیارت

10 narrations · In source reading order

Hadith 2216

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2591
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ میں نے تم کو پہلے قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا (اور عورتوں کے لئے یہ ارشاد ہوا تھا کہ ”لَعَنَ اللّٰهُ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ“)(یہ حدیث ماجہ کے آخر میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس کو یہاں لے لیا گیا ہے۔)(قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو) یہ دونوں حکم مردوں اور عورتوں کے لئے اسلام کے شروع زمانہ کے ہیں، اب یہ دونوں حکم منسوخ ہو گئے ہیں) اس لئے مردوں اور عورتوں دونوں کو یہ حکم ہو رہا ہے، ”فَزُورُوهَا“ مرد ہو یا عورت دونوں کو زیارت قبور کی اجازت ہے (اور یہ مستحب ہے، زیارت قبور سے موت اور آخرت کی یاد آ جاتی ہے اور دنیا سے نفرت ہو جاتی ہے، دنیا میں پھنس کر گناہوں میں مبتلا ہوتے تھے، زیارت قبور سے دنیا کی ناپائیداری آنکھوں کے سامنے ہو جاتی ہے اس لئے دنیا کرتے بھی ہیں
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 977a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1762 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 1762

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

I had forbidden you from visiting graves, but now you may visit them.

(1) The statement: "I had forbidden you from visiting graves, but now you may visit them." This means there is no harm in visiting graves; rather, it is recommended, as mentioned in Al-Bahr, quoting Al-Mujtaba. It would have been appropriate to explicitly state this due to the command in the Hadith, as mentioned in Al-Imdad. Graves may be visited every week, as mentioned in Mukhtarat An-Nawazil. In Sharh Lubab Al-Manasik, it is said: "However, the best days for visiting are Friday, Saturday, Monday, and Thursday. Muhammad ibn Wasil said, 'The deceased are aware of their visitors on Friday, the day before, and the day after.' It is recommended to visit the martyrs of Uhud on Friday, as Ibn Abi Shaybah narrated that the Prophet (ﷺ) would visit the graves of the martyrs of Uhud every year and say, 'Peace be upon you for your patience. What an excellent abode you have attained.' It is best to do this on Thursday while in a state of purity and early in the day so as not to miss the Zuhr prayer at the Prophet’s Mosque." It is understood from this that visiting graves is recommended, even if the graves are far away. However, whether traveling specifically for visiting graves, as is customary for visiting the graves of Ibrahim (Abraham), his family, his children, or other great figures like Sayyid Al-Badawi, is recommended is not explicitly stated by our scholars. Some Shafi'i scholars have prohibited it, except for visiting the Prophet’s Mosque, drawing an analogy to the prohibition of traveling to mosques other than the three sacred mosques. However, Al-Ghazali refuted this by clarifying the distinction, as other mosques are equal in virtue, whereas the graves of saints vary in their closeness to Allah and their benefit to visitors based on their knowledge and spiritual secrets. Ibn Hajar said in his fatwas: "Visiting graves should not be abandoned due to the presence of innovations or corrupt practices, such as mixing between men and women. Rather, one should perform the act of worship and reject innovations, even removing them if possible." This is mentioned in Radd Al-Muhtar.

Note 1

قوله

(۱) قوله : نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها أي لا بأس بزيارة القبور، بل تندب كما في البحر» عن «المجتبى»، فكان ينبغي التصريح به للأمر بها في الحديث المذكور كما في الإمداد»، وتزار في كل أسبوع كما في «مختارات النوازل». قال في شرح لباب المناسك : إلا أن الأفضل يوم الجمعة والسبت والاثنين والخميس، فقد قال محمد بن واسع : الموتى يعلمون بزوارهم يوم الجمعة ويوما قبله ويوما بعده، فتحصل أن يوم الجمعة أفضل فيه يستحب أن يزور شهداء جبل أحد؛ لما روى ابن أبي شيبة أن النبي ﷺ كان يأتي قبور الشهداء بأحد على رأس كل حول، فيقول: السلام عليكم بما صبرتم فنعم عقبة الدار. والأفضل أن يكون ذلك يوم الخميس متطهرا مبكرا؛ لئلا تفوته الظهر بالمسجد النبوي اهـ. قلت: استفيد منه ندب الزيارة وإن بعد محلها، وهل تندب الرحلة لها كما اعتيد من الرحلة إلى زيارة خليل الرحمن وأهله وأولاده وزيارة السيد البدوي وغيره من الأكابر الكرام لم أر من صرح به من أئمتنا، ومنع منه بعض الأئمة الشافعية إلا لزيارته قياسًا على منع الرحلة لغير المساجد الثلاث. ورده الغزالي بوضوح الفرق، فإن ما عدا تلك المساجد الثلاثة مستوية في الفضل، فلا فائدة في الرحلة إليها. وأما الأولياء فإنهم متفاوتون في القرب من الله تعالى ونفع الزائرين بحسب معارفهم وأسرارهم. قال ابن حجر في فتاوايه ولا تترك لما يحصل عندها من منكرات ومفاسد كاختلاط الرجال بالنساء وغير ذلك؛ لأن القربات لا تترك لمثل ذلك، بل على الإنسان فعلها وإنكار البدع، بل وإزالتها إن أمكن اهـ. كذا في رد المحتار».

Note 1

تو آخرت کے ساتھ، عورتوں کو زیارت قبور کی اجازت تو ہوگئی ہے مگر ان کو چاہئے کہ زیارت قبور کے وقت جزع وفزع اور نوحہ نہ کریں، کیونکہ یہ شرعاً ممنوع ہے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی ارشاد فرمائے ہیں کہ (قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا مستحب ہے: ایک حصہ فقراء کو دینا چاہئے، اور دوسرا حصہ قرابت داروں کو اور تیسرا حصہ اپنے گھر والوں کے لئے رکھنا چاہئے، ایک زمانہ ایسا گزرا کہ بہت سے فقراء قحط کی وجہ سے مدینہ منورہ میں آگئے تھے ان کے لحاظ سے ارشاد ہوا کہ وہ تیسرا حصہ جو تمہارا ہے، اس کو گھر کے خرچ کے موافق رکھ کر باقی گوشت تین دن سے زیادہ نہ رکھنا چاہئے، اس کو بھی خیرات کردینا چاہئے، اب قحط کا زمانہ نہیں رہا، اس لئے) اب تم کو اجازت ہے کہ تم قربانی کے اپنے حصہ کو تین دن سے زائد جب تک چاہو رکھ سکتے ہو۔ مرقات میں ایسا ہی لکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی ارشاد فرمائے ہیں کہ میں نے پہلے تم کو مشکیزہ کے علاوہ دوسرے برتن (جس میں شراب رکھی جاتی تھی) ان میں نبیذ رکھ کر پینے سے منع کیا تھا (شراب کی حرمت سے پہلے جن برتنوں میں شراب بنائی جاتی اور رکھی جاتی تھی، شراب کی حرمت کے بعد نبیذ یعنی کھجور یا انگور کے شربت کو ان برتنوں میں رکھنے اور پینے سے بھی منع کردیا گیا تھا، شراب کی حرمت کو جب ایک مدت گزر گئی اور شراب کی برائی دلوں میں بیٹھ گئی تو ان برتنوں کے استعمال کی اجازت مل گئی اور ان برتن کے استعمال کی ممانعت کا حکم منسوخ ہوگیا اور ارشاد ہوا کہ) اب تم تمام برتنوں میں (خواہ وہ شراب رکھنے اور شراب بنانے کے برتن ہی کیوں نہ ہوں) ان میں نبیذ رکھ کر پی سکتے ہو، ہاں (اس کا خیال رہے کہ نبیذ شراب نہ ہو جائے کیونکہ ان برتنوں کے مسامات بند رہنے سے نبیذ جلد شراب ہوجاتی ہے۔ اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Hadith 2217

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2592
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ میں پہلے تم کو زیارت قبور سے منع کیا تھا مگر اب تم کو قبروں کی زیارت کرنے کی اجازت دیتا ہوں کہ (مرد ہو یا عورتیں) قبروں کی زیارت کیا کریں، کیونکہ زیارت قبور دنیا سے بے رغبت کردیتی ہے اور آخرت کی تیاری میں لگا دیتی ہے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1571 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: مذکورہ بالا دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ زیارت قبور مستحب ہے، اگرچہ کہ زیارت کے لئے دور دراز مقام پر سفر کرنا پڑے، جیسا کہ لوگوں کی عادت ہے کہ اولیاء اللہ کے اور بزرگوں کے قبور کی زیارت کے لئے سفر کرتے ہیں، لوگوں کا اس طرح بزرگوں کی مزارات کی زیارت کے لئے جانا جائز اور سنت ہے جیسا کہ ابن ابی شیبہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہدائے احد کی زیارت کے لئے ہر سال تشریف لے جایا کرتے تھے۔ حالانکہ احد مدینہ منورہ سے کافی فاصلہ پر واقع ہے۔ (یہ پورا مضمون رد المحتار سے ماخوذ ہے۔)12

Hadith 2218

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2593
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی والدہ ماجدہ کی قبر کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے (قبر کے پاس صرف آنسو بہا کر) خود بھی روئے اور آس پاس جو صحابہ تھے ان کو بھی رلائے اور ارشاد فرمائے: میں نے اپنے پروردگار سے اپنی والدہ کے لئے دعائے مغفرت کرنے کی اجازت مانگی لیکن مجھے اجازت نہیں ملی، پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی (پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمائے کہ قبر کی زیارت کی جو اجازت مجھ کو ملی ہے یہ صرف میرے لئے ہی خاص نہیں ہے بلکہ تم لوگوں کے لئے بھی ہے اس لئے) تم لوگ بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ قبروں کی زیارت سے (جو موت سے غافل ہیں ان کو) موت یاد آ جاتی ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 976b (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

It was not granted.

(1) The statement: "It was not granted." In Ashi'at Al-Lama'at, it is said: "What is mentioned in this Hadith and similar narrations reflects the approach of the early scholars. Some said that the verse, 'It is not for the Prophet and those who have believed to ask forgiveness for the polytheists, even if they were near relatives' (Quran 9:113), and the verse, 'And do not plead for those who are in Hellfire' (Quran 2:119), were revealed regarding this matter. As for the later scholars, they affirmed that his parents and all his ancestors up to Adam (peace be upon him) were Muslims. They provided three ways to affirm this: either they followed the religion of Ibrahim, or they were not reached by the call due to the period of ignorance before the Prophethood, or Allah revived them at his hands through his supplication, and they believed in him. Although the Hadith about their revival is weak in itself, it has been strengthened and considered Hasan due to multiple chains. This knowledge was hidden from the early scholars, but Allah revealed it to the later scholars. Allah grants His mercy to whom He wills. Sheikh Jalal Ad-Din As-Suyuti wrote treatises on this, providing evidence and responding to the objections of opponents." In summary, it is safest for a cautious and devout person to refrain from speaking about what is inappropriate and to observe proper conduct. This issue is not among those that will be asked about in the grave, on the Day of Resurrection, or in the gathering. This is also clarified in the fiqh commentaries, such as At-Tahtawi and Ash-Shami in their commentaries on Ad-Durr Al-Mukhtar. What is attributed to Abu Hanifah in Al-Fiqh Al-Akbar is disputed, and its authenticity is uncertain, as mentioned by At-Tahtawi. In Radd Al-Muhtar, under the chapter on apostasy, it is said: "Our Prophet (ﷺ) was honored by Allah with the life of his parents until they believed in him, as mentioned in a Hadith authenticated by Al-Qurtubi, Ibn Nasir Ad-Din, the Hafiz of Sham, and others. Thus, they benefited from faith after death, contrary to the usual rule, as an honor to the Prophet (ﷺ). Just as Allah revived the slain man of the Israelites to reveal his killer, and as Isa (Jesus) revived the dead, so too did Allah revive several people at the hands of our Prophet (ﷺ). It is also authentic that Allah returned the sun to him after it had set so that Ali (may Allah be pleased with him) could pray Asr. Just as Allah honored him by returning the sun and the time after it had passed, He also honored him by granting life and faith after death. The claim that the verse, 'And do not plead for those who are in Hellfire' (Quran 2:119), was revealed regarding his parents is not authentic. The Hadith in Muslim, 'My father and your father are in Hell,' was before he knew of their faith."

Note 1

قوله

(۱) قوله: فلم يؤذن لي: وفي أشعة اللمعات ما ترجمته: إن ما ذكر في هذا الحديث وأمثاله طريقة المتقدمين. وقال بعضهم: نزل في هذا الباب قوله تعالى: ﴿ما كَانَ لِلنَّبِي وَالَّذِينَ ءَامَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُوْلِي قُرْبَى) (التوبة: ۱۱۳) وقوله: ﴿وَلَا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحَابِ الجَحِيمِ ﴾ (البقرة: (۱۱۹) على قراءة المعلوم. وأما المتأخرون فقد أثبتوا إسلامهما، بل جميع آبائه وأمهاته إلى آدم ، ولهم في إثباته طرق ثلاثة: إما أنهما على دين إبراهيم، وإما أنهما لم يلغهما الدعوة وما تأتي الفترة قبل زمان النبوة، وإما أنهما أحياهما الله تعالى على يده بدعائه، فآمنا به. وحديث إحيائه لهما وإن ضعف في ذاته فقد صححوه وحسنوه بتعدد الطرق. وهذا العلم كأنه كان مستورًا مختفيا على المتقدمين، فكشفه وفتحه الله على المتأخرين. والله يختص برحمته من يشاء بما يشاء من فضله. والشيخ جلال الدين السيوطي صنف رسائل، وأثبته بدلائل، وأجاب عن شبهات المخالفين انتهى. وبالجملة لا أقل في هذا الباب للمحتاط المتسنن أن يكف لسانه ولا يلوث بما لا يليق بشأنه ، ويلاحظ دأبه ويحفظ آدابه ، ومع ذلك ليست هذه المسألة مما يسأل عنها في القبر والمحشر والموقف، وقد صرح بذلك في الشروح الفقهية أيضًا كالطحطاوي والشامي في الحاشية على الدر المختار». وما نقل أنه مذهب أبي حنيفة على ما ذكره في الفقه الأكبر»، فقيل: إنه مدسوس على الإمام وإن استناد «الفقه الأكبر إليه أيضًا متردد فيه كما ذكره الطحطاوي. قاله في تنسيق النظام في مسند الإمام. وقال في رد المحتار في باب المرتد : إن نبينا قد أكرمه الله تعالى بحياة أبويه له حتى آمنا به، كما في حديث صححه القرطبي وابن ناصر الدين حافظ الشام وغيرهما، فانتفعا بالإيمان بعد الموت على خلاف القاعدة إكراما لنبيه ، كما أحيى قتيل بني إسرائيل ليخبر بقاتله، وكان عيسى يحيي الموتى، وكذلك نبينا له أحيى الله تعالى على يديه جماعة من الموتى. وقد صح أن الله تعالى رد عليه الشمس بعد مغيبها حتى صلى علي كرم الله وجهه العصر، فكما أكرم بعود الشمس والوقت بعد فواته، فكذلك أكرم بوعد الحياة ووقت الإيمان بعد فواته. وما قيل: إن قوله تعالى: ﴿وَلَا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ ﴾ (البقرة: (۱۱۹) نزل فيهما لم يصح. وخبر «مسلم»: «أبي وأبوك في النار» كان قبل علمه انتهى.

Note 1

ف: اس حدیث شریف اور اس قسم کی دوسری حدیثوں سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے والدین کے لئے دعائے مغفرت کرنا چاہے تو آپ کو اجازت نہیں ملی تو آپ اس وقت صرف قبر کی زیارت کی اجازت لے کر قبر کی زیارت کے لئے گئے آپ کا اس وقت بہت درد کے ساتھ رونا اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش میں لانے کا سبب بنا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب مبارک پر القاء فرمایا کہ آپ اپنے والدین کے دوبارہ زندہ ہونے اور مشرف بالاسلام ہونے کی دعا فرمائیں تو حضور دعاء فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا، قبول فرمائی اور آپ کی خوشنودی کے خاطر بطور معجزہ آپ کی والدین کو زندہ فرمایا، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اگلے پیغمبروں سے بھی مردوں کو زندہ کرنے کے ایسے واقعات ظاہر ہوئے ہیں، چنانچہ سورہ بقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے مقتول کو اللہ تعالیٰ نے زندہ فرمایا تا کہ وہ اپنے قاتل کی خبر دے اور حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام بھی بطور معجزہ مردوں کو زندہ کرتے تھے اور ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ نے بہت سارے مردوں کو زندہ فرمایا ہے اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ سے آفتاب ڈوبنے کے بعد واپس لوٹایا تا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ عصر کی نماز پڑھ لیں تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے آفتاب کو ڈوبنے کے بعد دوبارہ لوٹایا تا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فوت شدہ نماز پڑھ لیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضور کے والدین کی وفات کے بعد دوبارہ ان کو زندہ کیا تا کہ ایمان لانے کا موقع گزر جانے کے بعد بھی پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں، اس لئے رد المحتار میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعزاز میں آپ کے والدین شریفین کو زندہ فرمایا تا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں اور آپ کا رنج و غم دور ہو، چنانچہ آپ کے والدین زندہ ہوئے اور حضور پر ایمان لائے، اس واقعہ کا ذکر ایک حدیث میں آیا ہے اور اس حدیث کو علامہ قرطبی اور علامہ ابن ناصر حافظ الشام اور دیگر حفاظ حدیث نے صحیح قرار دیا ہے۔ اشعۃ اللمعات میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔12

Hadith 2219

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2594
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب صحابہ زیارت قبور کے لئے قبرستان کو جانے کا ارادہ کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو یہ دعاء سکھاتے کہ جب تم قبرستان میں جاؤ تو وہاں یہ دعاء پڑھا کرو: مسلمانوں کے قبرستان والو! (مومن ہو یا مومنات) تم سب پر سلام ہو، (یعنی آخرت کی مصیبتوں اور پریشانیوں سے) اللہ تعالیٰ تم کو سلامت رکھے، (ایک دن وہ آتا ہے کہ) ہم بھی تم سے ان شاء اللہ ملنے والے ہیں، ہم اپنے لئے اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے خیر و عافیت کی دعاء مانگتے ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 975 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2220

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2595
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کی کہ یا رسول اللہ جب میں زیارت قبور کے لئے جاؤں تو قبرستان کے مردوں کو کس طرح سلام کروں اور ان کے لئے کیا دعاء کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ جب تم (زیارت قبور کے لئے جاؤ تو) اس طرح سلام کر کے یہ دعاء پڑھا کرو: مسلمانوں کے قبرستان والو! (مومن ہو یا مومنات) تم سب پر سلام ہو (یعنی آخرت کی مصیبتوں اور پریشانیوں سے) اللہ تعالیٰ تم کو سلامت رکھے یوں تو ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بے حد ضرورت ہے مگر عالم آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بے حد ضرورت ہے، اس لئے ہم دعاء کرتے ہیں کہ) ہم سے پہلے جو عالم آخرت میں جا چکے ہیں، یا، ہمارے بعد جو عالم آخرت میں آنے والے ہیں، ان سب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت نازل فرمائے تاکہ آخرت کی زندگی آرام سے گزرے (اے اہل قبور ایک دن وہ آتا ہے کہ) ہم بھی انشاء اللہ تم سے ملتے ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 974b (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2221

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2596
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ ہمیشہ میری باری کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخر شب مدینہ منورہ کے قبرستان بقیع کو تشریف لے جاتے اور وہاں پہنچ کر یہ دعاء فرماتے: ”السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ مسلمانوں کے قبرستان والو! تم سب پر سلام ہو، جس اجر و ثواب کا دنیا میں تم سے وعدہ کیا جاتا تھا وہ اب تم کو مل گیا اور باقی پورا پورا ثواب کل قیامت کے بعد جنت میں ملے گا اور (ایک دن وہ آتا ہے کہ) ہم بھی تم سے ان شاء اللہ ملنے والے ہیں، الٰہی! مدینہ کے بقیع قبرستان کے تمام مردوں کی مغفرت فرما دیجئے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 974a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2222

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2597
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک مرتبہ) مدینہ منورہ کے قبرستان پر سے گزرے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبروں کے پاس اس طرح کھڑے ہوئے کہ آپ کا چہرہ انور اہل قبور کے چہروں کے مقابل تھا (اور حضور کی پشت مبارک قبلہ کی طرف تھی) اور حضور یہ فرما رہے تھے: ” السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ! اے مسلمانوں کے قبرستان والو! تم سب پر سلام ہو (یعنی آخرت کی مصیبتوں اور پریشانیوں سے) اللہ تعالیٰ تم کو سلامت رکھے اور اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے، تم ہم سے پہلے جا چکے ہو اور ہم بھی تمہارے بعد آنے والے ہیں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔

[Narrated by Al-Tirmidhi, who said: "This is a Hasan Gharib Hadith."]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1053 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Peace be upon you, O inhabitants of the graves.

(1) The statement: "Peace be upon you, O inhabitants of the graves." This is mentioned in Al-Alamgiriyyah.

Note 1

قوله

(۱) قوله: السلام عليكم يا أهل القبور إلخ : كذا في العالمكيرية».

Hadith 2223

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2598
محمد بن النعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے ایک صحابی نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو کوئی مسلمان ہفتہ میں کسی ایک دن اپنے ماں باپ کی قبروں یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرے تو اس کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں اور اس کا نام اس دفتر میں لکھا جاتا ہے کہ جس دفتر میں والدین کے فرماں بردار اور خدمت گزار اولاد کا نام لکھا ہوا رہتا ہے۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان مرسلاً کی ہے۔

[Narrated by Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman as Mursal]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1767 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1767

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں والدین کی قبور کی زیارت کرنے کی جو فضیلت آئی ہے وہ عام ہے، فرماں بردار اور نافرمان دونوں کے لئے ہے لیکن خاص کر بشارت اس اولاد کے لئے ہے، جو ماں باپ کی زندگی میں ان کی نافرمان رہے اور ماں باپ ان سے ناراض رہے، اگر وہ نافرمان اولاد ان کے مرنے کے بعد ہفتہ میں ایک بار اپنے ماں باپ کی قبر پر جایا کرے اور ان کی مغفرت کی دعاء کیا کریں تو اس کے اپنے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں اور اس کا نام والدین کے خدمت گزار اور فرماں بردار اولاد کے دفتر میں لکھا جاتا ہے۔12

Hadith 2224

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2599
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر آنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔ اس حدیث کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔ ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ بھی کہا کہ بعض اہل علم کا یہ خیال ہے کہ یہ حدیث مردوں اور عورتوں کے زیارتِ قبور کی رخصت دینے سے پہلے کی ہے تو اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مَردوں کو زیارتِ قبور کی اجازت دی تو عورتیں بھی اس رخصت میں شامل ہوگئیں۔ بعض اہل علم نے کہا کہ زیارتِ قبور عورتوں کے لئے مکروہ ہے ان کے صبر نہ کرنے اور کثرت سے آہ و بکا کرنے کی وجہ سے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1056 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1576 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Cursed women who visit graves.

(1) The statement: "Cursed women who visit graves." It is said that it is prohibited for them. However, the more correct view is that the permission applies to them as well, as mentioned in Al-Bahr. In Sharh Al-Munyah, it is stated that it is disliked due to what was mentioned regarding their following funeral processions. Al-Khayr Ar-Ramli said: "If the visit is to renew grief, weeping, and lamentation, as is their custom, then it is not permissible. This is the context of the Hadith: 'Cursed are the women who visit graves.' However, if the visit is for reflection, seeking mercy, and seeking blessings by visiting the graves of the righteous without weeping, then there is no harm if they are elderly women. It is disliked if they are young women, similar to their attendance at congregational prayers in mosques." This is a good reconciliation, as mentioned in Radd Al-Muhtar.

Note 1

قوله

(۱) قوله : لعن زوارات القبور : قيل: تحرم عليهن. والأصح أن الرخصة ثابتة لهن بحر». وجزم في شرح المنية» بالكراهة لما مر في اتباعهن الجنازة. وقال الخير الرملي: إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب على ما جزت به عادتهن فلا تجوز، وعليه حمل حديث: لعن الله زائرات القبور. وإن كان للاعتبار والترحم من غير بكاء والتبرك بزيارة قبور الصالحين، فلا بأس إذا كُنَّ عجائز ، ويكره إذا كن شواب، كحضور الجماعة في المساجد اهـ. وهو توفيق حسن. قاله في رد المحتار».

Hadith 2225

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2600
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں اپنے حجرہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دفن ہیں، جب جایا کرتی تو اپنی چادر اتار دیا کرتی تھی اور اپنے دل میں کہا کرتی تھی کہ (کون ہیں یہاں غیر) میرے شوہر ہیں اور میرے والد ہیں (اس لئے مجھے اپنی چادر اتار دینے میں کیا مضائقہ ہے) جب میرے اس حجرہ میں ان کے ساتھ عمر رضی اللہ عنہ بھی دفن کئے گئے (اور حضرت عمر میرے لئے محرم نہیں تھے) اس لئے میں اس دن سے جب اپنے اس حجرہ میں جاتی تو بخدا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے شرما کر کپڑے اوڑھے لپٹے جاتی تھی۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1769 (unverified) 50% confidence

Mishkat (candidate) 1769

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

Out of respect for Umar.

(2) The statement: "Out of respect for Umar." This indicates that respecting the deceased is like respecting them when they were alive, as mentioned in Al-Marqah. In Radd Al-Muhtar, it is said: "If one sits, they should sit at a distance or close, depending on the deceased’s status during their lifetime." This is mentioned in Al-Alamgiriyyah, quoting Khazanat Al-Fatawa.

Note 2

قوله

(۲) قوله: حياء من عمر فيه أن احترام الميت كاحترامه حيا. قاله في المرقاة». وقال في رد المحتار»: وإن جلس يجلس وأن يجلس مجلس بعيدًا أو قريبا بحسب مرتبته في حال حياته. كذا في العالمگيرية ناقلا عن «خزانة الفتاوى».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا لحاظ فرما کر حجرہ شریف میں اوڑھے لپٹے جایا کرتی تھیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مردے ان کو پہچانتے ہیں جو ان کے پاس زیارت کے لئے آتے ہیں اور اپنے پاس آنے والے کو جانتے ہیں، اس لئے زندگی میں ان کا جیسے لحاظ کیا جاتا تھا، مرنے کے بعد بھی ویسا ہی لحاظ کیا جانا چاہئے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات، عالمگیری، ردالمحتار)۔12