Hadith 3052
Volume 2English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: Abu Bakr (may Allah be pleased with him) sent me on the Hajj the Prophet (ﷺ) appointed him to lead before the Farewell Hajj, on the Day of Sacrifice, to announce: "No polytheist may perform Hajj after this year, and no one may perform Tawaf naked."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٠٥٢ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه)قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَرَهُ النَّبِيُّ ﷺ عَلَيْهِا قبل قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ أَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ: أَلَا لَا يَحُجَّ1 بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفَنَّ2 بِالْبَيْتِ عُرْيَانُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3618
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع سے ایک سال پہلے یعنی 9 ہجری میں) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ
عنہ کو امیر حج بنا (اور مکہ معظمہ روانہ فرمایا)) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ
عنہ نے مجھے دسویں ذوالحج کو ایک جماعت کے ساتھ لوگوں میں یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ اس
سال کے بعد یعنی (10 ہجری سے) حج کے لئے (اور نہ عمرہ کے لئے اور نہ سکونت کے لئے حدودِ حرم
اور مکہ معظمہ میں) کوئی مشرک داخل نہ ہو اور کوئی (زمانہ جاہلیت کے مشرکین کی طرح) خانہ کعبہ کا
طواف برہنہ نہ کرے)۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1622 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1347a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement "No polytheist may perform Hajj": This abolished pre-Islamic practices.
Note 2
(2) The statement "no one may perform Tawaf naked": Covering one’s awrah is obligatory in Tawaf.
Note 1
(۱) قوله : لا يحج بعد العام مشرك : أي فلا يحجوا، ولا يعتمروا كما كانوا يفعلون في الجاهلية. كذا في «المدارك»، وفي المقام تفصيل موضع بسطه هو التفسير الأحمدي».
Note 2
(۲)قوله: ولا يطوفن بالبيت عريان ولذلك ستر العورة في الطواف عندنا من واجبات الطواف التي تجبر بالدم، فلو طاف كاشفا ربع عضو من العورة يجب الدم. كذا في «الدر المختار».
Note 1
ف: واضح ہو کہ در مختار میں لکھا ہے کہ ستر عورت مرد کے لئے مذہب حنفی میں طواف کے واجبات سے ہے۔ اس لئے اگر کوئی شخص ستر عورت (یعنی ناف سے لے گھٹنے کے نیچے تک) میں کسی عضو کے چوتھائی حصہ کو کھلا رکھ کر طواف کرے تو اس پر دم لازم آئے گا۔ اھ، یہ حکم عورتوں سے متعلق نہیں ہے۔ اس لئے کہ عورتوں کو تو طواف کی حالت میں حسب معمول پورا جسم چھپانا ضروری ہے۔