Hadith 1083
Volume 1اردو
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 401 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Prayer · Chapter 11
58 narrations · In source reading order
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Mishkat (candidate) 798
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
ہے،) اور عمدۃ الرعایۃ میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند جید ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، حافظ قاسم بن قطلوبغا اور شیخ عابد سندھی نے بھی اسی طرح کہا ہے اور علامہ ابوالطیب المدنی نے کہا ہے کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے قوی ہے۔
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
ف: نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ناف کے نیچے ہاتھ رکھنے کا حکم مردوں سے متعلق ہے، اس کے برخلاف عورتیں تکبیر تحریمہ کے بعد اپنے دونوں ہاتھ سینہ پر باندھ لیں۔(سعایہ)۔
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں قیام کو طویل کرنا زیادہ رکعتوں کے پڑھنے سے افضل ہے، جیسے ایک شخص رکعتیں کم پڑھتا ہے مگر زیادہ قرآن پڑھ کر قیام کو طویل کر رہا ہے تو ایسے شخص کی نماز اس شخص کی نماز سے افضل ہے جو قیام میں قرآن کم پڑھتا ہے لیکن زیادہ رکعتیں ادا کرتا ہو، اس لئے قیام میں قرآن پڑھا جاتا ہے لیکن زیادہ رکعتوں کے رکوع اور سجود میں زیادہ تسبیحات پڑھی جاتی ہیں اور ظاہر ہے کہ قرآن کو تسبیحات پر فضیلت حاصل ہے۔ طویل قیام کو رکعتوں کی کثرت پر اس لئے بھی فضیلت حاصل ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد میں آٹھ رکعات ادا فرماتے لیکن ان رکعتوں میں قرآن کی طویل ترین سورتیں تلاوت فرما کر قیام کو طویل فرمایا کرتے تھے حنفی مذہب میں طویل قیام کی فضیلت ہی پر فتویٰ ہے۔ واضح رہے کہ زیادہ رکعتوں کے پڑھنے پر طویل قیام کو جو فضیلت حاصل ہے، اس کا تعلق نوافل سے ہے اس کے برخلاف فرض نمازوں کے قیام، رکوع اور سجدہ کو سنت کے موافق ادا کرنا ہی افضل ہے۔ (ملتقی، کنز، مرقات۔)
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Mishkat (candidate) 808
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: رکوع کرنے کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے اس کے برخلاف عورتیں رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملا کر گھٹنوں پر رکھ دیں اور دونوں بازو پہلو سے خوب ملائے رکھیں اور دونوں پیر کے ٹخنے بالکل ملا دیں۔ (ردالمحتار، طحاوی۔)
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: سجدہ کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے لیکن عورتیں جب سجدے میں جائیں تو زمین پر پہلے گھٹنے رکھیں پھر کانوں کے برابر ہاتھ رکھیں اور انگلیاں خوب ملا لیں، پھر دونوں ہاتھوں کے بیچ میں پیشانی رکھیں اور سجدے کے وقت پیشانی اور ناک دونوں زمین پر رکھ دیں اور ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی طرف رکھیں مگر پاؤں کھڑے نہ کریں بلکہ دہنی طرف کو پاؤں نکال دیں اور خوب سمٹ کر اور دب کر سجدہ کریں کہ پیٹ دونوں رانوں سے اور بازو دونوں پہلوؤں سے ملا دیویں اور دونوں بازو زمین پر رکھ دیں۔ (درمختار)۔
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(جلسہ استراحت یہ ہے کہ پہلی رکعت کے دوسرے سجدے یا تیسری رکعت کے دوسرے سجدے سے فارغ ہونے کے بعد جب قیام کے لئے اٹھیں تو کچھ دیر بیٹھ کر اٹھیں اور یہ جلسہ استراحت حنفی مذہب میں ثابت نہیں ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ۔) ف: اس حدیث میں پیر کے پنجوں کے بل اٹھنے کا جو ذکر ہے وہ دوسرے سجدے کے بعد دوسری یا چوتھی رکعت کے قیام کے لئے اٹھنے سے متعلق ہے اور اس میں اٹھتے وقت ہاتھوں کو زمین یا زانو پر ٹیکنے کی اور جلسہ استراحت کرنے کی ممانعت ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔ لیکن ضعیف العمری یا کسی اور عذر کی وجہ ہاتھوں کو زمین یا زانو پر ٹیکنے کے بغیر اٹھنا ممکن نہ ہو تو جلسہ استراحت کرکے بغیر ہاتھوں کو زمین یا زانو پر ٹیک کر اٹھ سکتے ہیں۔ (ردالمحتار، شرح سفر السعادت، عینی، فتح القدیر۔)
اردو
اردو
اردو
اردو
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
ف: قعدہ میں بیٹھنے کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے لیکن عورتیں قعدہ میں یا دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں بائیں چوتڑ پر بیٹھیں اور اپنے دونوں پاؤں اور داہنی طرف نکال دیویں اور دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیں اور انگلیاں خوب ملا کر رکھیں۔ (ردالمحتار۔)
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: ذیل میں جو حدیثیں آ رہی ہیں ان کے مطالعہ سے پہلے ضروری ہے کہ چند امور کی وضاحت پیش نظر رہے تا کہ ان احادیث کا مفہوم سمجھ میں آسکے۔ نماز کے قعدہ اخیر میں تشہد کے بعد درود پڑھنے کے متعلق مذہب حنفی یہ ہے کہ مطلقاً درود کا پڑھنا سنت موکدہ ہے، چنانچہ سعایہ میں لکھا ہے کہ ”ان السنة المؤكدة هو مطلق الصلوة بعد التشهد لاخصوص بعض الفاظها واليه يشير كلام عامة فقهائنا“۔ (التحیات کے بعد نماز میں درود شریف پڑھنے کے بارے میں جو مختلف الفاظ آئے ہیں ان میں سے بلا قید الفاظ مطلقاً کسی ایک درود کا پڑھنا سنت موکدہ ہے اور عامۂ فقہاء کا قول یہی ہے۔) شمس الائمہ سرخسی رحمہ اللہ نے مبسوط میں درود کے متعلق تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا شمار فرائض نماز سے نہیں ہے، درود کے فرض نہ ہونے پر فقہاء حنفیہ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سلام بھیجنا ہم نے سیکھ لیا اب ارشاد فرمائیے کہ نماز میں ہم آپ پر درود کس طرح پڑھیں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا اس طرح پڑھو! ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ“۔ (اے اللہ درود نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم پر۔) اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو درود اس وقت سکھایا جبکہ آپ سے درود کے متعلق پوچھا گیا، اگر نماز میں درود کا پڑھنا فرض ہوتا تو آپ پوچھنے سے پہلے ہی سکھا دیئے، نماز میں درود کے فرض نہ ہونے پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ایک اعرابی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرائض نماز سکھائے تو اس میں درود کا ذکر نہیں فرمایا۔ (یہاں مبسوط کی عبارت ختم ہوئی۔) علامہ عینی رحمہ اللہ علیہ نے عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ نماز میں تشہد اور درود کے بعد ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ“ کہہ کر نماز کو ختم کرنے کے بارے میں دو(2) روایتیں آئی ہیں، ایک روایت یہ ہے کہ لفظ سلام سے نماز ختم کرنا واجب ہے اور دوسری روایت یہ ہے کہ سنت ہے، علامہ عینی نے عطاء بن ابی رباح، سعید بن المسیب، ابراہیم نخعی، قتادہ، امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، ابن جریر طبری ان سب حضرات رحمۃ اللہ رضوان کا یہ متفقہ قول نقل کیا ہے کہ آخر نماز میں ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ“ کہنا فرض نہیں ہے اسی وجہ سے اگر نمازی نماز کے آخر میں سلام کو ترک کردے تو نماز باطل نہیں ہوگی۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی رد المحتار میں فتح کے حوالے سے سلام کے سنت ہونے پر دوسرا قول بھی نقل کیا ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے اور یہ قول حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نیز سعید بن المسیب، ابراہیم نخعی، سفیان ثوری، امام اوزاعی رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں کہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے، اس وجہ سے سلام کہے بغیر نماز کو ختم کردیا جائے تو بھی نماز درست ہو جائے گی، امام ابن قاسم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب امام آخر نماز میں سلام سے پہلے قصداً وضو توڑ دے تو بھی اس کی نماز درست ہوگی۔ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنے کے سنت ہونے پر دلیل حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو تشہد سکھائی تو ارشاد فرمایا کہ جب تم (قعدہ اخیرہ میں) تشہد پڑھ چکو تو تمہاری نماز پوری ہوگئی، اُس کے بعد اگر تم چاہو تو اُٹھ جاؤ یا چاہو تو بیٹھے رہو۔ سلام سے پہلے اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو قعدہ اخیرہ میں تشہد پڑھنے کے بعد بیٹھے رہنے یا اٹھ جانے میں اختیار دے دینے سے یہ بات بصراحت معلوم ہوتی ہے کہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا نہ تو فرض ہے نہ واجب، البتہ فقہاء حنفیہ رحمہم اللہ نے بالعموم آخر میں لفظ سلام کہنے کو جو واجب قرار دیا ہے وہ احتیاط کی بناء پر ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ لفظ سلام سے نماز ختم فرمایا کرتے تھے ورنہ حقیقت میں لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنے کے سنت ہونے پر حدیث اعرابی سے استدلال کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعرابی کو نماز سکھائی تو لفظ سلام کا ذکر نہیں فرمایا اگر لفظ ”سلام“ واجب یا فرض ہوتا کہ اس کے بغیر نماز کا ختم کرنا درست نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور لفظ سلام کا ذکر فرماتے۔ السعایہ میں مولانا عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نمازی قعدہ اخیرہ میں تشہد اور درود کے بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کر نماز ختم کرے اور یہ سنت ہے۔ (یہ مضمون عینی شرح ہدایہ، العنایہ، فتح القدیر اور منیۃ المصلی سے ماخوذ ہے۔) (یعنی اپنے فعل سے نماز سے باہر آنا) فرائض نماز میں ایک فرض یہ بھی ہے کہ نمازی عمداً کسی ایسے فعل سے جو منافی نماز ہو، اپنی نماز کو ختم کرے۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے ”ردالمحتار“ میں ”بحر“ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ نمازی کے لئے یہ فرض ہے کہ جب نماز پوری ہوجائے تو وہ نماز سے باہر ہونے کے لئے اپنے اختیار سے ایسی حرکت کرے جو نماز کے منافی ہو، تاتارخانیہ نے اس کی صراحت اس طرح کی ہے کہ نماز پوری ہونے پر قہقہہ مار کر ہنس دے یا قصداً وضو توڑ دے، یا بات کرے، یا اٹھ کر چلا جائے یا سلام کرے، نمازی عمداً اپنے کسی فعل سے نماز کے منافی حرکت کرتے تو اس سے نماز تو پوری ہوجاتی ہے لیکن اگر سلام کے ذریعہ نماز ختم کرلے تو بیک وقت فرض اور سنت دونوں ادا ہوجاتے ہیں۔
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ہے) اور ابوداؤد نے اس حدیث کو روایت کر کے سکوت اختیار کیا ہے، اور ابوداؤد کی عادت یہ ہے کہ جب وہ کسی حدیث کے متعلق سکوت اختیار کرتے ہیں تو ان کے پاس وہ حدیث حسن یا صحیح ہوتی ہے، اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ جتنی حدیثیں میں نے جامع صحیح یعنی ترمذی میں بیان کی ہیں صرف چار حدیثوں کے سوا باقی سب حدیثیں حجت اور دلیل ہیں اور یہ حدیث ان چار حدیثوں میں سے نہیں ہے۔ (یہ سعایہ میں مذکور ہے۔) ف: ابوداؤد، ترمذی، طحاوی وغیرہم کی اس حدیث سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہوگیا کہ نمازی قعدۂ اخیر میں تشہد پڑھنے کے بعد سلام سے پہلے عمداً حدث کر کے نماز کو ختم کردے تو نماز پوری ہوجاتی ہے جس کا اعادہ ضروری نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اس مسلک کی وجہ سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ پر یہ اہانت آمیز اعتراض کیا ہے کہ ان کے مذہب میں نماز عمداً حدث کرنے سے بھی پوری ہوجاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ کو بھی ان مستند صحیح احادیث سے اخذ کیا ہے جن کی روایتیں متعدد اسناد اور مختلف طریق سے حدیث کی مستند کتابوں ابوداؤد، ترمذی، بیہقی، دارقطنی اور طحاوی وغیرہ میں مروی ہیں اس صورت میں امام اعظم رحمہ اللہ پر ایسا اعتراض کرنا درحقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنا ہے۔ (یہ مضمون ملا علی قاری رحمہ اللہ علیہ کے رسالہ سے ماخوذ ہے جسکو عمدۃ الرعایہ نے نقل کیا ہے۔)
اردو
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے کے متعلق حنفی مذہب میں تین قول ہیں،(1) ایک یہ ہے کہ پہلے اللہ اکبر کہے پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائے جیسا کہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث سے معلوم ہوتا ہے جس کی روایت نسائی نے کی ہے،(2) دوسرا قول یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ اور رفع یدین ساتھ ساتھ کئے جائیں، جیسا کہ وائل رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث سے ثابت ہے جس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور بیہقی نے کی ہے، اس قول کو خانیہ، خلاصہ، تحفہ، بدائع، محیط، قدوری اور قاضی خان نے اختیار کیا ہے اور بقانی نے اس دوسرے قول کو جمیع احناف کی طرف منسوب کیا ہے اور حلیہ نے اسی کو مفتی بہ قرار دیا ہے،(3) تیسرا قول یہ ہے کہ پہلے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائے پھر اللہ اکبر کہے اور یہ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے جس کی روایت امام بخاری نے کی ہے، نیز ابن ماجہ، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی سے بھی اس حدیث کی روایت ہے، مجمع نے اس قول کو امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہا اللہ سے منسوب کیا ہے اور مبسوط میں لکھا ہے کہ اس تیسرے قول کو اکثر فقہائے احناف نے اختیار کیا ہے اور غایۃ البیان نے بھی اس قول کو جمہور علماء احناف کی طرف منسوب کیا ہے اور صاحب ہدایہ کے پاس یہی تیسرا قول مفتی بہ ہے۔ (ردالمحتار، عمدۃ الرعایہ۔) ف(2): نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں وہ تین طرح کی ہیں، ایک حدیث میں ہاتھ کو ہاتھ سے پکڑنے کا ذکر ہے اور دوسری حدیث میں ہاتھ کو ہاتھ پر رکھنے کا ذکر ہے اور تیسری حدیث میں ہاتھ کو پہونچے کے بالائی حصہ یعنی کلائی پر رکھنے کا ذکر ہے۔ واضح رہے کہ جب کبھی کسی مسئلہ میں مختلف حدیثیں آتی ہیں جس سے ان میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے تو اُصولیین کا قاعدہ یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے ایسی کوشش کی جائے کہ ان جملہ مختلف احادیث پر عمل ہوسکے اور ان میں سے کوئی حدیث چھوٹنے نہ پائے۔ اسی قاعدے کے پیش نظر ہمارے فقہاء نے تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کے بارے میں جو مختلف احادیث آئی ہیں ان سب پر اس طرح عمل کیا ہے کہ ان میں سے کوئی حدیث بھی چھوٹنے نہیں پاتی، اسی لئے انہوں نے فرمایا ہے کہ اس بارے میں سنت یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کے ہتھیلی کی پشت پر رکھے اور سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے اور چھنگلی سے حلقہ بنا کر بائیں ہاتھ کے پہنچے کو اس طرح پکڑ لے کہ باقی تین انگلیاں بائیں پہنچے کے بالائی حصہ یعنی کلائی پر رہیں۔ اس سے یہ صادق آتا ہے کہ نمازی نے اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا ہے اور اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں کلائی پر بھی رکھا ہے اور اپنے بائیں ہاتھ کو سیدھے ہاتھ سے پکڑ لیا ہے، اس طرح نمازی نے ہاتھ باندھنے سے متعلقہ جملہ مختلف حدیثوں پر عمل کیا ہے۔ (حلبی، ردالمحتار)۔ ف(3): نماز میں ہاتھ باندھنے کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے لیکن عورتیں داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھیں۔ (طحاوی۔)