اردو
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز (کم سے کم) دو رکعت ہے (اس سے کم ایک رکعت ہو تو وہ نماز بتیراء
کہلاتی ہے جو ناجائز ہے) ہر دو رکعت کے اخیر میں تشہد پڑھنا چاہئے (اور تمام نماز میں اپنے ظاہر
سے) نہایت عاجزی کا اظہار کر کے اور نہایت ذلت و ندامت سے آنکھیں نیچی کئے رہے اور عاجزانہ
صورت بنائے (اور باطن میں بھی) نہایت سکون و اطمینان سے رہے اور اپنی ذات کا اظہار کرتے
رہے پھر (نماز کے بعد) دونوں ہاتھوں کو اپنے پروردگار کے سامنے (اس طرح) اٹھائے کہ ہتھیلیاں
اپنے منہ کی طرف ہوں اور نہایت عاجزی کے ساتھ یا رب یا رب کہتے ہوئے اپنی حاجت عرض
کرے اگر نماز میں کوئی ایسا نہ کرے جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
ترمذی کی ایک اور روایت میں ہے: اس کی نماز تو ہو جاتی ہے مگر ناقص رہ جاتی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 385 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.