Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ · Chapter 27

بَابُ الْإِمَامَةِ

12 narrations · In source reading order

Hadith 1492

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٩٢ - عَنْ أَبِي مُوسَى (رضي الله عنه) قَالَ: مَرِضَ النَّبِيُّ ﷺ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ: «مُرُوْا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ عَائِشَةُ (رضي الله عنه): إِنَّهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، قَالَ: «مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَعَادَتْ، فَقَالَ مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلَّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ، فَأَتَاهُ الرَّسُوْلُ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ ﷺ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ. قُلْتُ: تَبْوِيبُ الْبُخَارِيِّ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْأَحَقَّ بِالْإِمَامَةِ هُوَ الْأَعْلَمُ، حَيْثُ قَالَ: «بَابُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ». وَقَالَ عُلَمَاؤُنَا: يُسْتَدَلُّ بِهَذَا الْحَدِيْثِ عَلَى تَقَدُّمِ الْأَعْلَمِ عَلَى الْأَقْرَأ ؛ لِأَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ أَعْلَمَهُمْ وَقَدَّمَ عَلَى أُبَيَّ كَانَ أَقْرَأَهُمْ دَلِيلُ الْأَوَّلِ قَوْلُ أَبِي سَعِيدٍ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا. وَدَلِيْلُ الثَّانِي قَوْلُهُ : أَقْرَؤُكُمْ أُبَيُّ. وَهَذَا آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللهِ اللهِ فَيَكُوْنُ الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ، كَذَا فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ وَجَامِعِ الْآثَارِ». وَفِي رِوَايَةٍ لِلْحَاكِمِ وَالدَّارَقُطْنِي: فَأَفْقَهُهُمْ فِي الدِّيْنِ، فَإِن كَانُوا فِي الْفِقْهِ سَوَاءً فَأَقْرَؤُهُمْ لِلْقُرْآنِ». وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: «فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةٌ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًا، وَلَا يَؤْمَنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يَقْعُدُ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ». وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى لَهُ: «وَلَا يَؤْمَنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي أَهْلِهِ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 678 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 420 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لئے افضل جماعت میں وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو، اگر جماعت میں سب سے زیادہ قرأت جاننے والا بھی ہو تو عالم کے مقابلہ میں وہ بھی امامت کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا اور یہی حنفی مذہب ہے، امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں، اسی لئے انہوں نے صدر کی اس حدیث کو جس باب کے تحت ذکر کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔ ”بَابُ اَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ اَحَقُّ بِالْاِمَامَةِ“ (علماء و فضلاء امامت کے زیادہ حقدار ہیں) اس حدیث شریف سے حنفی مذہب اس طرح ثابت ہو رہا ہے کہ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ قاری حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے جن کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اَقْرَؤُكُمْ اُبَيٌّ“ (تم میں سب سے بڑے قاری اُبی ہیں) اس لئے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے ”كَانَ اَبُوْبَكْرٍ اَعْلَمَنَا“ (ہم میں سب زیادہ علم والے ابوبکر ہیں) اگر قاری امامت کے لئے افضل ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امامت کے لئے حضرت اُبی کو منتخب فرماتے، ایسا نہیں ہوا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امامت کے لئے حضرت ابوبکر کو منتخب فرمایا، جس سے صاف ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ علم والا امامت کا سب سے زیادہ مستحق ہے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے بڑے عالم کو امامت کا مستحق قرار دیا، اور امامت کے لئے ترجیح دی اور یہ آپ کے آخری زمانہ کا واقعہ ہے، اس لئے اس کے منسوخ ہونے کا بھی احتمال نہیں ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ امامت کے لئے زیادہ علم والے کی زیادہ قرأت والے پر ترجیح قطعی امر ہے۔ (یہ مضمون عمدۃ القاری، فتح القدیر، جامع الآثار اور مرقات سے ماخوذ ہے۔12) اور حاکم اور دارقطنی کی روایت میں اس طرح ہے کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لئے افضل جماعت میں وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو، اور سب سے زیادہ علم دین کی سمجھ رکھتا ہو، اگر سب کے سب علم دین کے جاننے میں برابر ہوں تو امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو سب سے زیادہ قاری ہو، قرأت جاننے کے لحاظ سے یا قرآن زیادہ یاد رکھنے کے لحاظ سے، اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ (اگر سب کے سب قرأت کے جاننے میں برابر ہوں تو) امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو گناہوں سے ہجرت (یہ مرقات سے ماخوذ ہے۔12) کر کے سب سے زیادہ نیکیوں کی طرف آیا ہو، یعنی سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہو (اور اگر سب کے سب تقویٰ میں برابر ہوں تو امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو ان میں زیادہ عمر رسیدہ اور دوسرے کے حلقہ اثر میں (بغیر اس کی اجازت کے) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ اس سے افضل ہو) اور کسی شخص کے مکان میں اس کے مخصوص بستر وغیرہ پر اس کی بغیر اجازت کوئی نہ بیٹھے۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ کسی کے گھر میں (گھر والے کی اجازت کے بغیر) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ کہ یہ اس سے افضل ہو)۔

Hadith 1493

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٩٣ - وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْعُقَيْلِي قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا إِلَى مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا. قَالَ أَبُو عَطِيَّةَ: فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمْ فَصَلِّهِ، قَالَ لَنَا: قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: «مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَهُمْ، وَلْيَؤُمَهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُ اقْتَصَرَ عَلَى لَفْظِ النَّبِيِّ ﷺ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 596 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 356 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 786 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”جو شخص لوگوں کو ملاقات کو جائے تو ان لوگوں کا امام نہ بنے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی امام بنے“ یہ حکم بظاہر مطلق معلوم ہوتا ہے یعنی خواہ مقامی لوگ اجازت دیں یا نہ دیں کسی حال میں بھی ملاقات کے لئے جانے والے کو امام نہ بننا چاہئے۔ مگر حضرت ابن مسعود اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے اسی قسم کی جو حدیثیں مروی ہیں ان میں ”إِلَّا بِإِذْنِهِ“ کا استثناء صاف موجود ہے یعنی ملاقات کو جانے والا مقامی لوگوں کی اجازت سے ان لوگوں کی امامت کر سکتا ہے، اس لئے صدر کی حدیث جو مالک ابن الحویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بھی ان حدیثوں میں جو اجازت مروی ہے اس سے مقید ہو جائے گی اس لئے ملاقات کو جانے والا مقامی لوگوں کی اجازت سے ان کی امامت کر سکتا ہے۔ اب رہا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ نے مقامی لوگوں کی اجازت کے باوجود جو امامت نہیں کی تو یہ ان کا اپنا احتیاط تھا کہ انہوں نے اس حدیث شریف کے مطلق حکم کو مطلق رکھا اور باوجود اجازت کے امامت نہیں فرمائی۔ (منتقی، اشعۃ اللمعات)۔

Hadith 1494

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٩٤ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: لَا يَؤُمَّ الْغُلَامُ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَلْيُؤَذِّنُ لَكُمْ خِيَارُكُمْ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْأَثْرَمِ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه): لَا يَؤُمَ الْغُلَامُ الَّذِي لَا تَجِبُ عَلَيْهِ الْحُدُوْدُ. وَفِي الْبِنَايَةِ»: قَالَ الْخَطَابِيُّ: كَانَ الْحَسَنُ يُضَعَّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، وَقَالَ مَرَّةً: دَعْهُ لَيْسَ بِشَيْءٍ بَيْنِ. وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: قِيْلَ لِأَحْمَدَ : حَدِيثُ عَمْرِو؟ قَالَ: لَا أَدْرِي مَا هَذَا. فَالْعَجَبُ أَنَّهُمْ لَمْ يَجْعَلُوا قَوْلَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَكِبَارِ الصَّحَابَةِ حُجَّةً، وَاسْتَدَلُّوْا بِفِعْلِ صَبِيِّ سِتَّ سِنِينَ، وَلَا يَعْرِفُ فَرَائِضَ الْوُضُوْءِ وَالصَّلَاةِ، فَكَيْفَ يَتَقَدَّمُ فِي الْإِمَامَةِ؟ وَمَنْعُهُ أَحْوَطُ فِي الدِّيْنِ، كَذَا فِي الْمِرْقَاةِ».
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ارشاد ہے کہ ”لڑکا بالغ ہونے تک امامت نہ کرے“ چونکہ یہ ارشاد مطلق ہے اور اس میں کسی قسم کی قید نہیں ہے، اس لئے نابالغ لڑکا نہ تو فرض نماز میں امامت کرے اور نہ تو نفل نماز میں۔ چنانچہ عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ نابالغ لڑکے کے امامت نہ کرنے کا جو مطلق حکم ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لڑکے کی امامت بالغ مرد اور عورتوں کے لئے تمام نمازوں میں جائز نہیں ہے، فرض نمازوں میں لڑکے کی امامت کے جائز نہ ہونے پر ہمارے جمیع ائمہ احناف رحمہم اللہ متفق ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکا احکام شرعی کا مکلف نہیں ہوتا، اس لئے اس کی فرض نماز بھی نفل ہی سمجھی جائے گی۔ اور اگر بالغ مرد یا عورتیں اس کی اقتداء کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فرض نماز پڑھنے والے نفل نماز پڑھنے والے کی اقتداء کر رہے ہیں، حالانکہ فرض نماز پڑھنے والوں کی اقتداء بالاتفاق نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے جائز نہیں ہے۔ اب رہا تراویح اور دیگر نفل نمازوں میں نابالغ بچے کا امام بننا تو اس بارے میں واضح ہو کہ مشائخ شیخ نے تراویح اور نفل نمازوں میں لڑکے کی امامت کو جائز قرار دیا ہے لیکن ہدایہ میں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے کہ لڑکے کی امامت تمام نمازوں میں خواہ فرض ہو یا تراویح ہو، یا نفل جائز نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکے کی نفل نماز اور بالغ شخص کی نفل نماز میں بڑا فرق ہے، وہ یہ کہ اگر بالغ شخص نفل نماز شروع کر کے توڑ دے تو اس پر اس نفل کی قضاء لازم ہے، اس کے برخلاف اگر نابالغ بچہ نفل نماز شروع کر کے توڑ دے تو بچے پر اس نفل کی قضا لازم نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکے کی نفل بالغ شخص کی نفل نماز کے مقابلہ میں بہت کم درجہ رکھتی ہے۔ اس لئے نابالغ بچہ جس کی نفل نماز کم درجہ کی ہوتی ہے وہ ایسے نفل نماز پڑھنے والوں کی امامت نہیں کر سکتا جن کی نفل نماز کامل درجہ کی ہوتی ہے۔ (یہ پورا مضمون عمدۃ الرعایہ سے ماخوذ ہے)۔

Hadith 1495

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٩٥ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: اسْتَخْلَفَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ابْنَ أُمَّ مَكْتُوْمٍ يَؤُمُ النَّاسَ، وَهُوَ أَعْمَى رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ نَحْوَهُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 595 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1496

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٩٦ - وَعَنْ غَالِبِ بْنِ الْهُذَيْلِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَسْجِدًا فَصَلَّى مَعَهُمْ، فَإِذَا إِمَامُهُمْ أَعْمَى، فَجَعَلُوْا يَلُوْمُوْنَهُ، فَقَالَ سَعِيدُ مِنْ ثَمَّ كَرِهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ 1 الْإِمَامَ أَعْمَى وَالْمُؤَذِّنَ أَعْمَى وَرَوَى ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَنَسٍ الله نَحْوَهُ.
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Umar ibn Al-Khattab disliked a blind Imam and a blind Mu'adhdhin

(1) The statement: "Umar ibn Al-Khattab disliked a blind Imam and a blind Mu'adhdhin" is because a blind person cannot see impurities to avoid them and may deviate from the Qiblah without realizing it. However, upon reflection, we find that the reason for dislike in the case of a blind person is lighter compared to others. Therefore, the three Imams (Abu Hanifah, Malik, and Ahmad) did not consider it disliked to appoint a blind person as Imam. This was stated by Al-Halabi in Sharh Munyat Al-Musalli. Al-Allamah Al-Ayni said in Sharh Kanz Ad-Daqa'iq: "A blind person cannot avoid impurities, but if there is no one equal to him in virtue, then he is more deserving. Indeed, the Prophet (ﷺ) appointed Ibn Umm Maktum over Madinah (to lead the people)." Al-Halabi said: "It is only disliked to appoint a blind person as Imam if someone better than him is available. It is established that the Prophet (ﷺ) appointed Ibn Umm Maktum to lead the people in prayer, and he was blind." [Narrated by Abu Dawud]

Note 1

قوله

(۱) قوله : كره عمر بن الخطاب إلخ لأن الأعمى لا يرى النجاسة؛ ليتحرز عنها، وقد ينحرف عن القبلة، وهو لا يشعر. وإذا تأملنا وجدنا سبب الكراهة في الأعمى أخف من غيره، ولذا لم يكره تقديمه عند الأئمة الثلاثة، قاله الحلبي في شرح منية المصلي». وقال العلامة العيني في شرح كنز الدقائق لأن الأعمى لا يتوقى النجاسة، وإذا كان لا يوازيه غيره في الفضيلة فهو أولى، وقد استخلف النبي ﷺ ابن أم مكتوم على المدينة. انتهى وقال الحلبي : إنما يكره تقديم الأعمى إذا كان غيره أفضل منه، وقد ثبت أن النبي ﷺ استخلف ابن أم مكتوم يؤم الناس، وهو أعمى، رواه أبو داود.

Note 1

ف۔ واضح ہو کہ ابوداؤد کی مذکور الصدر حدیث سے جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، معلوم ہوا کہ نابینا کی امامت بی نصفہ جائز ہے، اس لئے کہ ابوداؤد کی اس روایت میں کسی قید کے بغیر نابینا کی امامت کا ذکر ہے۔ اب رہا سعید بن منصور اور ابن ابی شیبہ کی روایت سے نابینا کی امامت کا مکروہ ہونا جو ثابت ہو رہا ہے وہ اس احتمال سے ہے کہ شاید نابینا اپنی نابینائی کی وجہ سے اپنے جسم یا کپڑے کو نجاست سے نہ بچاتا ہو مگر یہ احتمال، بہت ضعیف ہے اس لئے اس ضعیف احتمال کی وجہ سے نابینا کی امامت کو مکروہ تنزیہی کہا گیا ہے، اگر نابینا جماعت میں سب سے زیادہ عالم ہو تو اس کمزور احتمال کا لحاظ کئے بغیر نابینا کی امامت کو اولی اور افضل قرار دیا گیا ہے البتہ اگر جماعت میں نابینا سے زیادہ کوئی عالم ہو تو ایسے موقع میں اس ضعیف احتمال کا لحاظ کر کے نابینا کو امام نہ بنانا چاہئے۔ اور سعید بن منصور کی اس روایت میں لوگوں نے نابینا امام کو جو ملامت کی اس کی تائید میں سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نابینا کی امامت کو پسند نہ فرمانے کا ذکر کیا ہے اور قوم نے امام کو جو ملامت کی اس وجہ کی یہ تھی کہ قوم میں نابینا سے زیادہ عالم موجود ہوتے ہوئے نابینا نے امامت کی تھی۔ (مرقات، ردالمحتار، عمدۃ الرعایہ، اعلاء السنن)

Hadith 1497

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٩٧ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنه) قَالَ : لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُوْنَ الْأَوَّلُوْنَ الْمَدِينَةَ كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَفِيهِمْ عُمَرُ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: لَا بَأْسَ بِأَنْ يَؤُمَهُمُ الْأَعْرَابِيُّ وَالْعَبْدُ وَوَلَدُ الزِّنَا إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ. رَوَاهُ مُحَمَّدُ فِي الْآثَارِ»، وَقَالَ: وَبِهِ نَأْخُذُ إِذَا كَانَ فَقِيْهَا عَالِمًا بِأَمْرِ الصَّلَاةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7175 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 692 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف۔ واضح ہو کہ بخاری اور کتاب الآثار دونوں کی مذکورہ روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ غلام و دیہاتی اور ولدالزنا تینوں کی امامت فی نفسہ جائز ہے اس لئے کہ بخاری کی روایت میں بغیر کسی قید کے غلام کے امامت کرنے کا ذکر ہے اور کتاب الآثار کی روایت میں جو ”لَا بَأْسَ“ کا ذکر ہے اس سے قدرے کراہت کی طرف اشارہ ہوتا ہے وہ اس احتمال سے ہے کہ شاذ ان تینوں کو تربیت کا موقع نہ ملا ہو جس کی وجہ سے یہ ان پڑھ رہ گئے ہوں مگر یہ احتمال بہت ضعیف ہے۔ اس لئے اس ضعیف احتمال کی وجہ سے غلام، دیہاتی اور ولدالزنا کی امامت کو مکروہ تنزیہی کہا گیا ہے، اگر یہ جماعت میں سب سے زیادہ عالم ہوں تو اس کمزور احتمال کا لحاظ کئے بغیر ان کی امامت کو اولی اور افضل قرار دیا گیا ہے۔12 (عمدۃ الرعایۃ، اعلاء السنن)۔

Hadith 1498

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٩٨ - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ، وَامْرَأَةً بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطُ، وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 360 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1499

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٩٩ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: ثَلَاثَةُ لَا تُقْبَلُ مِنْهُمْ صَلَاتُهُمْ: مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلَاةَ دِبَارًا، وَالدَّبَارُ أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ أَنْ تَفُوْتَهُ، وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 593 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 970 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1500

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٠٠ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : ثَلَاثَةُ لَا تُرْفَعُ لَهُمْ صَلَاتُهُمْ فَوْقَ رُؤُوسِهِمْ شِبْرًا: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطُ، وَأَخَوَانِ مُتَصَادِمَانِ». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 971 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1501

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٠١ - وَعَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ 1 (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ، لَا يَجِدُوْنَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ. 2 رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: «إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَهُمْ أَحَدُهُمْ». قَالَ عَلِيُّ الْقَارِي: فِيْهِ إِشَارَةٌ إِلَى جَوَازِ إِمَامَةِ الْمَفْضُوْلِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 581 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 672 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 982 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

Salamah bint Al-Hurr

(1) The statement "Salamah bint Al-Hurr" in the original text of the author is "Salamah bint Al-Harith."

Note 2

They will not find an imam to lead them in prayer

(2) The statement "They will not find an imam to lead them in prayer": Ali Al-Qari said that this is why later scholars from our companions permitted taking wages for imamate, adhan, and similar acts like teaching the Quran, unlike the earlier scholars who prohibited taking wages for acts of worship.

Note 1

قوله

(۱) قوله: سلامة بنت الحر وفي أصل المؤلف: «سلامة بنت الحارث».

Note 2

قوله

(٢) قوله: لا يجدون إماما يصلي بهم : قال علي القاري ولذا أجاز المتأخرون من أصحابنا أخذ الأجرة على الإمامة، والأذان ونحوهما من تعليم القرآن، بخلاف المتقدمين؛ فإنهم كانوا يحرمون الأجرة على العبادة.

Hadith 1502

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٠٢ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «الْجِهَادُ وَاجِبُّ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمَيْرٍ، بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ1 خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ، بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 594 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2533 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

And prayer is obligatory upon you behind every Muslim, whether he is righteous or sinful

(1) The statement "And prayer is obligatory upon you behind every Muslim, whether he is righteous or sinful": Ali Al-Qari said that the command to pray behind a sinful person, even though praying behind a corrupt or innovator is disliked according to us, is evidence for the obligation of congregational prayer. Reflect on this.

Note 1

قوله

(۱) قوله: والصلاة واجبة عليكم إلخ : قال علي القاري في أمره بالصلاة خلف الفاجر، مع أن الصلاة خلف الفاسق والمبتدع مكروهة عندنا، دليل على وجوب الجماعة، فتأمل.

Hadith 1503

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٠٣ - وَعَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ: أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ (رضي الله عنه) وَهُوَ مَحْصُوْرُ، فَقَالَ: إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، وَنَزَلَ بِكَ مَا نَرَى، وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ وَنَتَحَرَّجُ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ، فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنُ مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاؤُوْا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 695 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.