Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 35

(اس باب میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نماز وتر واجب ہے اور اس کے تین رکعات ایک سلام

38 narrations · In source reading order

Hadith 1665

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1917
عبداللہ بن زریر غافقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) عبدالملک بن مروان نے مجھ سے کہا عبداللہ! تم گنوار، دہقانی آدمی ہو، تم کو کچھ خبر ہی نہیں خواہ مخواہ تم حضرت ابوتراب علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہو تو حضرت عبداللہ انھیں جواب دے (تم مجھے گنوار، دہقانی جو چاہے کہہ لو مگر) میں نے قرآن اس وقت یاد کیا ہے جب کہ تمہارا پتہ بھی نہیں تھا بلکہ تمہارے ماں باپ کا نکاح بھی نہیں ہوا تھا (پھر میں گنوار کیسے؟) مجھے قرآن کے دو سورے حضرت علی رضی اللہ عنہ یاد دلائے اور یہ وہ دو سورے ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یاد کرائے تھے، ان دو سورتوں کی نہ تو تم کو خبر ہے اور نہ تمہارے ماں باپ کو (تو گنوار میں ہوں یا تم؟) وہ دو سورتیں یہ ہیں: ”اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُثْنِيْ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ“ یہ دو سورتیں منسوخ التلاوۃ ہیں یعنی قرآن میں نہیں پڑھی جاتیں مگر وتر میں بطور قنوت کے پڑھی جاتی ہیں) اس کی روایت طبرانی نے کتاب الدعاء میں کی ہے۔

Arabic quotation in the English source

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ ، اللهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُوْ رَحْمَتَكَ وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالكُفَّارِ مُلْحِقُ

Hadith 1666

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1918
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند کلمات سکھائے ہیں تا کہ وتر میں جب دعائے قنوت پڑھنے کا وقت آئے تو میں ان کلمات کو پڑھا کروں (وہ کلمات یہ ہیں:) اے اللہ! جن کو آپ ہدایت دیئے ہیں اور ان کے عقائد و اعمال کو پسند فرمائے ہیں ان کے ساتھ مجھے بھی ہدایت دیجئے (کہ میرے عقائد وہ ہوں جن کو آپ پسند فرمائیں، اور میرے اعمال بھی وہ ہوں جن کو آپ پسند فرمائیں۔) اے اللہ! جن کو آپ (بری بیماریوں سے، برے اخلاق سے، بری خواہشوں سے بچا کر) عافیت میں رکھے ہیں مجھے بھی ان سب سے بچائیے (کہ میں بھی بری بیماریوں سے برے اخلاق سے اور برے خواہشات سے بچا ہوا عافیت میں رہوں۔) اے اللہ جن سے آپ محبت کرتے ہیں (اور ان کی ہر شر سے حفاظت کرتے ہیں، اور ہر معاملہ میں ان کی مدد کرتے ہیں) ان کے ساتھ مجھ سے بھی محبت کیجئے (اور ہر شر سے بھی میری حفاظت فرمائیے اور ہر معاملہ میں میری مدد فرمائیے۔) اے اللہ! اپنے فضل و کرم سے جو جو چیزیں مجھ دئے ہیں (عمر، مال، علم اور عمل) ان سب میں برکت دیجئے۔ اگر آپ میرے لئے کسی شر کے پہونچنے کا حکم دیئے ہیں تو آپ مجھے اس شر سے ہمیشہ بچائے رکھئے (اور اپنے اس حکم کو بدل دیجئے) اس لئے کہ آپ جو چاہیں فیصلہ کرتے ہیں (اور اپنے دئے ہوئے حکم کو بدل سکتے ہیں) کوئی نہیں ہے کہ آپ کے خلاف فیصلہ کرسکے۔ جس کے آپ دوست بنیں اور اس کو اپنی حمایت میں لے لیں، وہ کبھی ذلیل نہیں ہوسکتا۔ اے اللہ! برکت آپ کے قبضہ قدرت میں ہے جس کو چاہیں برکت دے سکتے ہیں، آپ بڑے عالی شان ہیں۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔

Arabic quotation in the English source

اللَّهُمَّ اهْدِنِي(۱) فِيْمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيْمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يُذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 464 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1425 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1745 (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.805
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1178 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1273 (unverified) 93% confidence

Mishkat (candidate) 1273

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

O Allah, guide me...

(1) The phrase "O Allah, guide me..." is mentioned in Sharh Al-Munyah: "The correct view is that there is no restriction on supplications other than those authentically reported, as the companions agreed on this. This is because one might inadvertently say something resembling human speech if not restricted. Then, the differences in the wording of اللهم إنا نستعينك... were mentioned. It was also mentioned that it is preferable to add اللهم اهدني... to it." This was stated by Al-Shami.

Note 1

قوله

(۱) قوله: اللهم اهدني إلخ في شرح المنية»: والصحيح أن عدم التوقيت في ما عدا المأثور؛ لأن الصحابة اتفقوا عليه، ولأنه ربما يجري على اللسان ما يشبه كلام الناس إذا لم يوقت، ثم ذكر اختلاف الألفاظ الواردة في «اللهم إنا نستعينك إلخ». ثم ذكر أن الأولى أن يضم إليه اللهم اهدني إلخ». قاله الشامي.

Note 1

ف: رد المحتار میں لکھا ہے کہ دعا سابق ”اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ“ الخ کے ساتھ اس دعا یعنی ”اللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ“ الخ کو بھی ملا کر وتر میں پڑھنا حنفی مذہب میں مستحب ہے اور رد مختار میں طحاوی اور شرح منیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ قنوت میں ان دونوں دعاؤں کو ملا کر پڑھنا چاہئے اور ان دعاؤں کے بعد یہ درود شریف پڑھنا بھی مستحب ہے: ”وَصَلَّى اللّٰهُ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ وَآلِهِ وَسَلَّمَ“۔ 12

Hadith 1667

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1919
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز وتر سے فارغ ہوتے تو سلام کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اے اللہ! میں آپ کے سخط یعنی ناراضگی سے آپ کی رضامندی کے واسطے سے پناہ چاہتا ہوں (یعنی آپ کی رضا کی پناہ میں آنا چاہتا ہوں)۔ اور آپ کی گرفت اور سزا سے (بچنے) آپ کی معافی کی پناہ میں آنا چاہتا ہوں۔ اور میں آپ سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔ میں آپ کی ثناء و تعریف کا احاطہ نہیں کر سکتا، آپ ایسے ہی ہیں جیسے خود آپ نے اپنی تعریف فرمائی ہے۔ اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ کی ہے۔

Arabic quotation in the English source

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1427 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3566 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1179 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1747 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1668

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1920Noor 1921
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز وتر ختم فرماتے تو وتر کے سلام کے بعد ”سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ“ فرمایا کرتے تھے (یعنی اللہ تعالیٰ سب عیبوں سے اور ہر طرح کے نقصان سے پاک ہیں اور ان کی بادشاہت لازوال ہے، جن صفتوں میں کمال نہیں اللہ تعالیٰ ان صفتوں سے پاک ہیں، یعنی مخلوقات کے سارے صفات سے اللہ تعالیٰ پاک ہیں)۔ اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے، اور نسائی نے اس روایت میں زیادہ کیا ہے کہ ”سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ“ تین بار فرماتے تھے اور تیسری مرتبہ جب ”سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ“ فرماتے تو ”قدوس“ کی دال اور واؤ کو دراز کھینچتے تھے۔ اور نسائی کی ایک اور روایت میں عبدالرحمن بن ابزا رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے سلام کے بعد ”سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ“ تین مرتبہ فرماتے تھے اور تیسری مرتبہ بہ نسبت پہلے دو کے زیادہ آواز سے بلند فرماتے تھے (اور دارقطنی کی روایت میں ”سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ“ کے بعد ”رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ“ کہنا بھی آیا ہے)۔

Arabic quotation in the English source

سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ

سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1430 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1699 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1669

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1922
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ (میں نے کبھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جیسا کہ بخاری میں مذکور ہے۔12- آپ عمر کے آخری حصہ میں بھی تہجد کو کھڑے ہوئے ہی ادا فرماتے تھے اور جب کچھ رکعتیں باقی رہ جاتیں اور طویل قرأت پڑھنے کی وجہ سے آپ تھک جاتے تو) بیٹھے ہوئے قرأت فرماتے اور جب سورت کی (30یا40) آیات باقی رہ جاتیں تو پھر آپ کھڑے ہو جاتے اور کھڑے ہوئے بقیہ آیات پڑھتے اور رکوع میں چلے جاتے، پھر سجدہ فرماتے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا فرماتے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 731a (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ نفل نماز کی کسی رکعت میں کچھ بیٹھنا اور کچھ کھڑا ہونا جائز ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نفل نماز بغیر عذر کے بیٹھ کر پڑھ رہا تھا پھر کھڑے ہو کر اس کو پوری کرے تو بالاتفاق جائز ہے اور اگر نفل نماز کھڑے ہو کر پڑھ رہا تھا پھر بغیر عذر کے بیٹھ کر پوری کرے تو نماز جائز ہے مگر مکروہ ہوگی (یعنی ہدایہ۔ رواشح)12 مرقات میں لکھا ہے کہ باب الوتر کو اس حدیث سے مناسبت یہ ہے کہ وتر سے پہلے تہجد کی آخری رکعتوں میں بیٹھ کر قرأت کر کے کھڑے ہو کر پورا کرنا جائز ہے۔

Hadith 1670

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1923Noor 1924
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے بعد دو رکعت (نفل) نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔) اور ابن ماجہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ یہ دو رکعت جو وتر کے بعد پڑھی جاتی تھیں ان میں بہت ہلکی قرأت ہوتی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دو رکعتوں کو بیٹھ کر ادا فرماتے تھے اور ابن ماجہ کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ (وتر کے بعد) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعت (نفل) پڑھا کرتے تھے، اور ان دو رکعتوں میں بیٹھ کر قرأت فرمایا کرتے تھے اور جب رکوع کرنے کا ارادہ فرماتے تو کھڑے ہو جاتے، اور کھڑے ہو کر رکوع میں جاتے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 471 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1671

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1925
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تہجد کے لئے آخر رات میں اٹھنا بہت شاق اور مشکل ہوتا ہے (اگر کوئی سب مشکلات کو برداشت کرکے تہجد کے لئے بیدار ہو تو اس کا کیا کہنا۔ اس کی فضیلتیں سابق کی بہت سی احادیث میں مذکور ہوچکی ہیں) اگر کوئی تہجد کے لئے نہ اٹھ سکے تو اتنا تو کرے کہ وتر کے بعد دو رکعت پڑھ لے (جس کو تشفیع الوتر کہتے ہیں، اس کے بعد پھر وہ تہجد کے لئے اٹھا تو اس کا کیا کہنا، اس نے بڑی عالی ہمتی سے کام لیا اور بڑے بڑے ثواب کا مستحق ہوا) اور اگر وہ نہ اٹھ سکا تو یہ دو رکعت تہجد کے قائم مقام ہو جائے گی۔ اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1286 (unverified) 50% confidence

Mishkat (candidate) 1286

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1672

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1926
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دو رکعتوں کو جو وتر کے بعد پڑھی جاتی ہیں بیٹھے ہوئے پڑھا کرتے تھے اور ان دو رکعتوں کی پہلی رکعت میں سورہ ”اِذَا زُلْزِلَتْ“ اور دوسری رکعت میں سورہ ”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1285 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 1285

Confidence and text similarity are not editorial verification.