Hadith 1823
Volume 1English
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 904 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Prayer · Chapter 44
Section: (2)
24 narrations · In source reading order
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف:۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خطبہ میں قرآن کی آیتوں کا پڑھنا مسنون ہے (مرقات)
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف:۔ اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کو خطبہ میں سورہ ق پڑھا کرتے تھے۔ اس بارے میں اشعۃ اللمعات اور مرقات میں اس طرح مذکور ہے کہ حضور کا سورہ ق کو ہر جمعہ میں پڑھنا اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ ام ہشام مسجد نبوی میں جمعہ کے لئے حاضر ہوا کرتی تھیں، نہ کہ حضور عمر بھر ہمیشہ سورہ ق کو ہر جمعہ میں پڑھا کئے ہیں، دوسرے یہ کہ حضور سورہ ق کی پوری سورت ہر جمعہ میں تلاوت نہیں فرماتے تھے بلکہ ام ہشام کے حاضر ہونے کی مدت میں مختلف خطبوں میں سورہ ق کو تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھا کئے ہیں، اس حدیث سے بھی حضور سے خطبہ میں قرآن کی آیتوں کا پڑھنا ثابت ہوتا ہے۔
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: "Then he would stand and deliver the sermon" – This refers to the Imam delivering the sermon with a sword in a city conquered by it, such as Makkah. Otherwise, it is not done, as in Madinah. Al-Qahistani narrated from "Ayd Al-Muhit" that holding a staff is a Sunnah, just like standing. This is taken from "Al-Durr Al-Mukhtar" and "Rad Al-Muhtar".
(۱) قوله ثم يقوم فيخطب أي يخطب الإمام بسيف في بلدة فتحت به كمكة، وإلا لا كالمدينة. ونقل القهستاني عن عيد المحيط أن أخذ العصا سُنَّة كالقيام، كذا التقطناه من الدر المختار» و«رد المحتار».
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ اس بارے میں درمختار میں لکھا ہے کہ ایسے شہر میں جس کو مسلمانوں نے تلوار کے زور پر فتح کیا ہو، جیسے کہ معظمہ تو وہاں امام تلوار پر ٹیک دے کر خطبہ دیا کرے اور ایسے شہر میں جہاں کے لوگ برضا و رغبت مسلمان ہوئے ہوں جیسے مدینہ منورہ، امام وہاں تلوار پر ٹیک دے کر خطبہ نہ دے بلکہ ایسے مقام پر عصا پر ٹیک دے کر خطبہ دیا کرے اور قہستانی نے محیط کے باب العید کے حوالہ سے اس طرح لکھا ہے کہ جیسے امام کو کھڑے ہو کر خطبہ دینا سنت ہے اسی طرح امام کو خطبہ کے وقت عصا پر ٹیک دے کر خطبہ دینا بھی سنت ہے۔
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: ملتقی میں لکھا ہے ”وَاسْتَقْبَلُوْهُ مُسْتَمِعِيْنَ“ یعنی خطبہ سنتے وقت سننے والے امام کی طرف رُخ کئے ہوئے بیٹھے رہیں اور بحر میں لکھا ہے ”ان السنة فى المستمع استقبالُ الامامِ يخالف كما عليه عملُ الناسِ من استقبالِ المستمع للقبلة“ یعنی سنت یہ ہے کہ سامعین خطبہ سنتے وقت امام کی طرف رُخ کئے ہوئے رہیں اور آج کل جو عمل درآمد ہے کہ سامعین قبلہ رُخ رہتے ہیں یہ خلاف سنت ہے۔ اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے عمدۃ القاری میں ابن المنذر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ خطبہ سنتے وقت سامعین کا امام کی طرف رُخ کئے رہنے پر امام اعظم، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام مالک اور امام اوزاعی وغیرہ اور دوسرے فقہاء کا بھی اجماع ہے۔ 12
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ عمامہ کے دونوں کنارے کندھوں کے درمیان لٹکے ہوئے تھے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ عمامہ کا ایک کنارہ تو معمولاً دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا رہتا ہے اور دوسرا کنارہ بھی عمامہ باندھنے کے بعد عمامہ میں ٹھونسنے کے بجائے عمامہ سے لے کر نیچے اتار دیا جائے جو دونوں کندھوں کے درمیان پہلے کنارہ کے ساتھ لٹکا ہوا رہے۔
English
صاحبو! دیکھ رہے ہو کہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھلانگتے ہوئے آنے والے شخص کو صرف بیٹھ جانے کا حکم فرماتے ہیں، اگر خطبہ کی حالت میں نماز پڑھنا جائز ہوتا تو نماز پڑھ کر بیٹھ جانے کا حکم دیتے، صرف بیٹھ جانے کا حکم دینے سے معلوم ہوا کہ خطبہ کی حالت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ حنفی مذہب میں خطبہ کے متعلق دو قول ہیں، صاحبین فرماتے ہیں کہ دونوں خطبے ہوتے وقت صلاۃ و کلام ناجائز ہے، خطبہ شروع ہونے کے پہلے یا خطبہ ختم ہونے کے بعد کلام وغیرہ کر سکتے ہیں، اس وجہ سے کہ خطبہ سننا فرض ہے خطبہ کی حالت میں صلاۃ و کلام ہو تو خطبہ سننے میں خلل پڑتا ہے، بخلاف اس کے اگر خطبہ کے پہلے اور خطبہ کے بعد کلام کیا جائے تو خطبہ سننے میں کوئی خلل نہیں واقع ہوتا۔ اس لئے خطبہ شروع کرنے سے پہلے کلام جائز ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خطیب جب اپنی جگہ سے خطبہ دینے کے لئے اٹھے جب ہی سے صلاۃ و کلام ناجائز ہے، یہاں تک کہ خطبہ ختم کر کے نماز جمعہ شروع کرے اس لئے کہ بعض وقت کلام طویل ہو جاتا ہے اور خطبہ سننے میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہو جاتا ہے، امام زہری کا بھی ایسا ہی قول ہے۔ ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں حضرات علی، ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے کہ خطیب کے اپنی جگہ سے خطبہ کے لئے اٹھنے کے بعد یہ سب حضرات صلاۃ اور کلام کو مکروہ سمجھتے ہیں ان حضرات کے قول سے بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ اس تمہید کو پیش نظر رکھ کر ذیل کی حدیثوں کو پڑھئے۔
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
نے سنن کبیر میں کی ہے (اس حدیث سے صاحبین کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ خطبہ شروع کرنے سے پہلے صلاۃ و کلام جائز ہے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلیک کو اس وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا جبکہ ابھی آپ خطبہ شروع نہیں فرمائے تھے)۔
English
English
ف: ان تینوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ خطبہ کی حالت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اگر خطبہ کی حالت میں نماز پڑھنا جائز ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے سے رکے ہوئے نہیں رہتے، حضور کا خطبہ دینے سے رکے رہ کر ان سے نماز پڑھوانے سے معلوم ہوا کہ خطبہ کی حالت میں نماز جائز نہیں ہے۔
English
English
ف: ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد نماز جائز نہیں، اس سے ثابت ہوا کہ عین خطبہ ہوتے وقت نماز بدرجہ اولیٰ جائز نہیں ہے اس لئے کہ نماز پڑھنے سے خطبہ سننے میں خلل واقع ہوتا ہے اور اسی لئے خطبہ ہوتے وقت نماز پڑھنا ممنوع ہے۔
English
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "Make up what you missed" and its explanation in Sharah al-Minya: "Whoever catches the Imam in the prayer, he prays with him what he has caught, and completes the Friday prayer with him, even if he catches it while the Imam is in the tashahhud (testification) or in the prostration of forgetfulness (Sujood as-Sahw)." Muhammad said: "If one catches the Imam during the second bowing (ruku'), he continues the Friday prayer with him, but if he catches it later, he prays the Zuhr prayer instead of the Friday prayer." The author of Al-Hidaya said: "The wording of the Hadith has been narrated by the six major Hadith collections in their books from Abu Salama from Abu Huraira (may Allah be pleased with him), who reported that the Messenger of Allah ﷺ said: 'When the prayer is established, do not rush to it, but walk calmly and with dignity. Pray what you catch, and make up for what you missed.' And in one narration: 'Complete what you missed.'" Ibn al-Humam said: "What was narrated: 'Whoever catches a rak'ah of the Friday prayer adds another rak'ah to it, otherwise he prays four rak'ahs,' is not established." As for the wording in Al-Mishkat, if it is considered authentic, there is no indication that this proves the permissibility of the difference in opinion. The meaning of 'If you miss the two rak'ahs, then pray four' means that if one did not catch any of the two rak'ahs, he should pray the Zuhr prayer, meaning there is no makeup for the Friday prayer. This is summarized from Al-Marqat.
(۱) قوله: واقض ما سبقك وفي شرح المنية»: من أدرك الإمام فيها صلى معه ما أدرك، وبنى عليه الجمعة وإن أدركه في التشهد أو سجود السهو. وقال محمد: إن أدرك معه ركوع الثانية بنى عليها الجمعة، وإن أدركها فيما بعد ذلك بنى عليها الظهر. قال صاحب الهداية»: لهما إطلاق قوله أخرجه الستة في كتبهم عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ : إذا أقيمت الصلاة فلا تأتوها وأنتم تسعون والتوها تمشون، وعليكم السكينة. فما أدركتم فَصَلُّوا، وما فاتكم فأتموا ، وفي رواية: فاقضوا». وقال ابن الهمام: وما رواه: من أدرك ركعة من الجمعة أضاف إليها ركعة أخرى، وإلا صلى أربعا، لم يثبت. وأما لفظ المشكاة على تقدير ثبوته فلا دلالة له على صحة المخالفة؛ لأن معنى من فاتته الركعتان فليصل أربعا أي من لم يدرك شيئا منهما فليصل الظهر، أي لا قضاء الجمعة، ملخص من «المرقاة».
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ اور مبسوط میں مذکور ہے کہ سامعین کے لئے مستحب یہ ہے کہ امام خطبہ دیتے وقت سب امام کی طرف رخ کئے ہوئے رہیں۔
English
English
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Chapter-heading commentary
(1) His statement: "The Sermon (Khutbah)" – The branches of the sermon include obligations (furood) and recommended acts (sunan). As for the obligations, there are two: the timing, which is after the sun passes its zenith (after Dhuhr) and before the prayer. Thus, if one delivers the sermon before the zenith or after the prayer, it is not valid. As for the recommended acts, there are fifteen: purification (taharah), to the extent that it is disliked for someone in a state of major impurity (junub) or minor impurity (hadath) to deliver it; standing; facing the people with his face; sitting before the two sermons. This was stated by Abu Yusuf. The sermon should begin with "Alhamdulillah" (Praise be to Allah) and praising Him as He deserves, the two testimonies (Shahadatayn), sending blessings upon the Prophet (ﷺ), admonition (maw'izah), reminders (tadhkirah), recitation of the Quran, and neglecting this is improper. Sitting between the two sermons, repeating the praise and glorification of Allah in the second sermon, increasing the supplication for Muslim men and women in the second sermon, and keeping the two sermons brief, equivalent to the length of some long chapters of the Mufassal (short chapters of the Quran). As for the preacher (khatib), among the recommended acts for him are purification, facing the people with his face, refraining from greeting (salam) from the time he leaves his house until he enters the prayer, and refraining from speaking. This was stated by Al-Allamah Al-Ayni in Sharh Al-Hidayah. It was also stated in "Al-Durr Al-Mukhtar" that it is disliked for him to speak during the sermon except for enjoining good (amr bil ma'ruf), as it is part of the sermon. And the statement of Allah, the Exalted: "So proceed to the remembrance of Allah" (2) (62:9), and His statement: "And they left you standing" (62:9), and His statement: "And when the prayer is concluded, disperse" (62:10).
(2) His statement: "To the remembrance of Allah" – meaning, to the sermon according to the majority. Abu Hanifah argued that if the preacher confines himself to saying "الحَمْدُ لله" it is sufficient. This was stated in "Al-Madarik."
Note 3
(3) His statement: "When the sun declines, etc." – Al-Allamah Al-Shami said: It is decisively stated in "Al-Ashbah" from the chapter of rulings that it is not recommended to delay it (i.e., to wait for the heat to subside), and matching the time of the predecessors in every aspect is not a condition. Al-Allamah Al-Ayni said: They stated that delaying the Jumu'ah prayer is recommended due to the severe consequence of missing it and because people come early to it, so they are not harmed by the heat.
Chapter-heading commentary
(۱) قوله: الخطبة فروع الخطبة يشتمل على فروض وسُنَن. أما الفروض فشيئان الوقت، وهو ما بعد الزوال وقبل الصلاة، حتى لو خطب قبل الزوال، أو بعد الصلاة لا يجوز. وأما السنن فخمسة عشر : الطهارة حتى كره من الجنب والمحدث، والقيام واستقبال القوم بوجهه، والقعود قبل الخطبتين. قاله أبو يوسف والبداية بـ «الحمد لله، والثناء عليه بما هو أهله، وكلمتا الشهادة، والصلاة على النبي ، والموعظة، والتذكرة، وقراءة القرآن، وتاركها مسيء، والجلوس بين الخطبتين، وإعادة التحميد والثناء على الله تعالى في الخطبة الثانية، وزيادة الدعاء للمسلمين والمسلمات في الثانية، وتخفيف الخطبتين بقدر سُور من طوال المفصل. وأما الخطيب فمن السُّنَن فيه طهارته واستقباله بوجهه إلى القوم، وترك السلام من وقت خروجه إلى دخوله في الصلاة، وترك الكلام. قاله العلامة العيني في شرح الهداية». وقال في «الدر المختار» ويكره تكلمه فيها إلا لأمر بمعروف؛ لأنه منها.
(٢) قوله : إلى ذكر الله : أي إلى الخطبة عند الجمهور. واستدل أبو حنيفة على أن الخطيب إذا اقتصر على «الحَمْدُ الله» جاز. قاله في المدارك».
Note 3
(۳) قوله: حين تميل الشمس إلخ : قال العلامة الشامي: جزم في الأشباه من فن الأحكام أنه لا يُسَنُّ لها الإبراد وموافقة الخلف لأصله من كل وجه ليس بشرط. وقال العلامة العيني: قالوا : ندب الإبراد في الجمعة؛ لشدة الخطر في فواتها، ولأن الناس يبكرون إليها، فلا يتأذون بالحر.
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جمعہ زوال کے بعد ہی ادا فرمایا کرتے تھے اسی لئے علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے الاشباہ کے فن احکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ نماز جمعہ کی ادائی کے لئے گرمی کا موسم ہو یا کوئی اور موسم ظہر کی طرح تاخیر کرنا مسنون نہیں۔ نماز جمعہ کو ہر موسم میں زوال کے بعد ہی اوّل وقت پڑھنا چاہئے اور جمہور علماء کا بھی یہی قول ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ نماز جمعہ بخلاف نماز ظہر کے بہت بڑی تعداد کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ اگر ظہر کی طرح اس میں تاخیر کی جائے تو حرج کا باعث ہوگا اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے نماز جمعہ کے اوّل وقت ادا کرنے کے مستحب ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی ہے کہ لوگ نماز جمعہ کے لئے اہتمام کر کے جلد آیا کرتے ہیں، اگر جمعہ کو ظہر کی طرح تاخیر سے ادا کیا جائے تو موسم گرما میں لوگوں کو زحمت اور گرمی کی تکلیف اٹھانی پڑے گی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زوال سے پہلے نماز جمعہ جائز نہیں، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ زوال کے بعد نماز جمعہ ادا فرمائے ہیں۔