It is narrated from Ibn Buraidah, from 'Abdullah ibn Mughaffal Al-Muzani (may Allah be pleased with him), that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There are two Rak'ahs to be prayed between every two Adhans, except for Maghrib." 1 [Narrated by Al-Daraqutni, who said: "This is the Mahfooz narration."]
Al-Bazzar also narrated something similar from Buraidah (may Allah be pleased with him). In another narration, it says: "Prayer except for two Rak'ahs, except for Maghrib."
ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ
سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر دو اذان یعنی
اذان اور اقامت کے درمیان (کم سے کم) دو رکعت ہیں، سوائے نمازِ مغرب کے یعنی نمازِ مغرب کی
اذان اور اقامت کے درمیان کوئی نماز نہیں ہے)۔
(اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے اور دارقطنی نے کہا ہے کہ اس کی سند معتبر ہے۔)
اور بزار نے بھی بریدہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
اور ایک روایت میں ”رَكْعَتَيْنِ مَاخَلَا“ کے بجائے ”صَلَاةٌ إِلَّا“ کے الفاظ ہیں۔
(1) Explanation of the statement: "Except for Maghrib": The summary is that it is recommended to pray between the Adhan and Iqamah. However, Abu Hanifah disliked voluntary prayers before Maghrib due to this hadith, as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ما خلا المغرب والحاصل أنه يُسَنُّ أن يصلي بين الأذان والإقامة، وكره أبو حنيفة النفل قبل المغرب؛ لهذا الحديث، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: اذان اور اقامت کے درمیان بجز نماز مغرب ہر نماز کیلئے سنتیں ہیں، اسی حدیث کی وجہ
سے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان نفلی نماز کو مکروہ قرار دیا ہے۔
(یہ مرقات میں مذکور ہے۔)
It is narrated from 'Uthman ibn Abi Al-'As (may Allah be pleased with him) that he said: I said, "O Messenger of Allah, make me the Imam of my people." He said: "You are their Imam. Follow the weakest among them, and appoint a Mu'adhdhin who does not take payment for his Adhan."
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے
عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے میری قوم کا امام بنا دیجئے! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ تم ان کے امام ہو اور تم ان میں سب سے ضعیف کا لحاظ کیا کرو، اور ایک ایسے شخص کو مؤذن بنا لو
جو اذان پر اُجرت نہ لیتا ہو۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
It is narrated from Abu Mahdhurah (may Allah be pleased with him) that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) taught me the Adhan, and I called it. Then, when I finished, he gave me 1 a pouch containing some silver.
ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم مجھ کو اذان سکھاتے گئے اور میں اذان دیتا گیا، پھر جب میں اذان دینے سے فارغ ہوا تو حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی عطا فرمائی جس میں کچھ چاندی تھی۔
(اس کی روایت ابن حبان نے کی ہے، اور باب کا عنوان اذان پر اُجرت لینے کا جواز رکھا ہے
۔ اور اس کی روایت نسائی نے بھی کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He gave me...
(1) Explanation of the statement: "He gave me...": Scholars have differed regarding taking payment for the Adhan, Iqamah, and leading prayer. Imam Shafi'i disliked it, while Abu Hanifah and his companions prohibited it, citing the hadith of 'Uthman ibn Abi Al-'As: "Appoint a Mu'adhdhin who does not take payment for his Adhan." This was the opinion of the early scholars. However, later scholars permitted it, using this hadith as evidence. The detailed discussion is found in Bazl Al-Majhud, and it should be referred to.
Note 1
قوله
(۱) قوله : ثم أعطاني إلخ : اختلف العلماء في أخذ الأجر على الأذان والإقامة والإمامة، فكرهه الشافعي ، ومنعه أبو حنيفة له وأصحابه واستدلوا بحديث عثمان بن أبي العاص: واتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرًا، وهذا قول المتقدمين. وأما المتأخرون منهم فأفتوا بجوازه، واستدلوا بهذا الحديث والتفصيل مذكور في بذل المجهود»، فليراجع.
Note 1
ف: علماء نے اذان، اقامت اور امامت پر اُجرت لینے کے بارے میں اختلاف کیا ہے، امام
شافعی رحمہ اللہ علیہ نے اذان، اقامت اور امامت پر اُجرت لینا مکروہ قرار دیا ہے اور امام ابوحنیفہ
رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ان کے شاگردوں نے بھی ان پر اُجرت لینا ممنوع قرار دیا ہے اور اس پر عثمان بن
ابی العاص رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے کیونکہ اس حدیث میں مذکور ہے کہ ایسے شخص کو
مؤذن بناؤ جو اذان دینے پر اجرت نہ لیتا ہو۔ یہ متقدمین احناف کا قول ہے لیکن متاخرین احناف نے
اجرت کے جائز ہونے پر فتویٰ دیا ہے اور ابن حبان کی اس حدیث سے جو ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے
مروی ہے، استدلال کرتے ہیں۔ (اس مسئلہ کی تفصیل بذل المجہود میں مذکور ہے ملاحظہ ہو۔)12
It is narrated from Ibn 'Amr (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The Mu'adhdhin who seeks reward is like a martyr drenched in his blood, and when he dies, his body does not decay in the grave."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ثواب کا طالب مؤذن (جو اجرت نہ لیتا ہو) اس کی مثال ایسے
شہید کی ہے جو اپنے خون میں لت پت ہو، اور جب وہ مر جائے گا تو قبر میں اس کے بدن میں کیڑے
نہیں پڑیں گے۔ (اس کی روایت طبرانی نے الکبیر میں کی ہے۔)
It is narrated from 'Uqbah ibn 'Amir (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Your Lord is amazed by a shepherd on a mountain peak who calls the Adhan and prays. Allah, the Almighty, says: 'Look at this servant of Mine; he calls the Adhan and establishes the prayer out of fear of Me. I have forgiven My servant and admitted him to Paradise.'"
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا رب اس بکریاں چرانے والے پر تعجب کرتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی
کے کسی بلند حصہ پر نماز کیلئے اذان دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس بندہ کو
دیکھو کہ اذان دیتا ہے اور نماز قائم کرتا ہے اور مجھ سے ڈرتا ہے میں نے اپنے اس بندہ کے گناہوں کو
بخش دیا اور اس کو جنت میں داخل کر دیا۔
(اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
It is narrated from Salman Al-Farisi (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If a man is in a deserted land and the time for prayer comes, let him perform ablution. If he does not find water, let him perform Tayammum (dry ablution). If he calls the Iqamah, two angels will pray with him. If he calls the Adhan and Iqamah, an army of Allah, whose ends cannot be seen, will pray behind him."
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص کسی جنگل میں ہو اور نماز کا وقت آ جائے تو وہ وضوء کر لے اور
اگر پانی نہ ملا تو تیمّم کر لے، اگر اس نے (صرف) اقامت کہی ہے تو اس کے ساتھ دو فرشتے نماز
پڑھتے ہیں اور اگر اس نے اذان و اقامت کہی ہے تو اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی فوج نماز
پڑھتی ہے جس کے اول و آخر کے دونوں سرے دکھائی نہیں دے سکتے۔
(اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے اور یہ ایسی حدیث ہے جس کی سند کے راوی صحاح کے
راوی ہیں۔)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Explanation of the statement: "Except for Maghrib": The summary is that it is recommended to pray between the Adhan and Iqamah. However, Abu Hanifah disliked voluntary prayers before Maghrib due to this hadith, as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: ما خلا المغرب والحاصل أنه يُسَنُّ أن يصلي بين الأذان والإقامة، وكره أبو حنيفة النفل قبل المغرب؛ لهذا الحديث، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: اذان اور اقامت کے درمیان بجز نماز مغرب ہر نماز کیلئے سنتیں ہیں، اسی حدیث کی وجہ سے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان نفلی نماز کو مکروہ قرار دیا ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)