العربية
Typed, pending editorial approval
١٤٤١ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيْهِ حِيْنَ دَعَاهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ: دَعَا أَبَا مُوسَى وَحُذَيْفَةَ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنهم) قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ الْغَدَاةَ، ثُمَّ خَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ، وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَجَلَسَ عَبْدُ اللهِ إِلَى أُسْطَوَانَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَقَالَ: فَهَذَا عَبْدُ اللهِ قَدْ فَعَلَ هَذَا، وَمَعَهُ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مُوسَى لَا يُنْكِرَانِ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى مُوَافَقَتِهِمَا إِيَّاهُ. انْتَهَى
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جس شان کے صحابی ہیں وہ تو سب کو معلوم ہے تو ایسے جلیل القدر صحابی کا نماز فجر کے فرض کی اقامت ہونے اور امام کے قرأت شروع کرنے کے باوجود فجر کی سنتوں کو جماعت سے دور ہٹ کر ادا کرنا اور پھر جماعت میں شریک ہونا، اس سے معلوم ہوا کہ سابق کی حدیث جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں فجر کی سنتوں کو جو مستثنیٰ کیا گیا ہے انہوں نے اسی پر عمل کیا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس کو مستثنیٰ کیا گیا ہے یعنی ”إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ“ حدیث مرفوع ہی کا ٹکڑا ہے اس کے علاوہ حضرت حذیفہ اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما ان دونوں حضرات نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو دیکھا اور اس پر انکار نہیں فرمایا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں حضرات بھی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس عمل سے موافقت رکھتے تھے ورنہ خاموش نہیں رہتے۔