English
Abdullah ibn Abi Musa reported from his father that when Sa'id ibn Al-'As invited them—Abu Musa, Hudhayfah, and Abdullah ibn Mas'ud—before the Fajr prayer, they left his place after the call to prayer had been given. Abdullah sat by a pillar in the mosque, prayed two Rak'ahs, and then joined the congregational prayer. [Narrated by At-Tahawi]
At-Tahawi said: "Abdullah did this, and Hudhayfah and Abu Musa did not object to it, which indicates their agreement with his action."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٤٤١ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيْهِ حِيْنَ دَعَاهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ: دَعَا أَبَا مُوسَى وَحُذَيْفَةَ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنهم) قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ الْغَدَاةَ، ثُمَّ خَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ، وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَجَلَسَ عَبْدُ اللهِ إِلَى أُسْطَوَانَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَقَالَ: فَهَذَا عَبْدُ اللهِ قَدْ فَعَلَ هَذَا، وَمَعَهُ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مُوسَى لَا يُنْكِرَانِ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى مُوَافَقَتِهِمَا إِيَّاهُ. انْتَهَى
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1650
عبداللہ بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہما اپنے والد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت
کرتے ہیں کہ ایک دن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ، حضرت حذیفہ اور حضرت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کو ایسے وقت بلایا جبکہ ان حضرات نے ابھی فجر کی نماز ادا نہیں کی تھی،
پھر یہ حضرات سعید بن العاص کے پاس سے ملاقات کر کے ایسے وقت نکلے کہ نماز فجر کی اقامت
ہو رہی تھی تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک ستون کی طرف بڑھے (یہ ترجمہ طبرانی کی
روایت میں جو لفظ ”فتقدم“ مذکور ہے اس کے لحاظ سے کیا گیا ہے) اور اس کو آڑ بنا کر فجر کی دو سنتیں
ادا کئے، پھر جماعت میں شریک ہو گئے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جس شان کے صحابی ہیں وہ تو سب کو معلوم ہے تو ایسے جلیل القدر صحابی کا نماز فجر کے فرض کی اقامت ہونے اور امام کے قرأت شروع کرنے کے باوجود فجر کی سنتوں کو جماعت سے دور ہٹ کر ادا کرنا اور پھر جماعت میں شریک ہونا، اس سے معلوم ہوا کہ سابق کی حدیث جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں فجر کی سنتوں کو جو مستثنیٰ کیا گیا ہے انہوں نے اسی پر عمل کیا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس کو مستثنیٰ کیا گیا ہے یعنی ”إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ“ حدیث مرفوع ہی کا ٹکڑا ہے اس کے علاوہ حضرت حذیفہ اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما ان دونوں حضرات نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو دیکھا اور اس پر انکار نہیں فرمایا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں حضرات بھی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس عمل سے موافقت رکھتے تھے ورنہ خاموش نہیں رہتے۔