Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1518

بَابُ مَا عَلَى الْمَأْمُوْمِ مِنَ الْمُتَابَعَةِ وحُكْمِ الْمَسْبُوْقِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ مَا عَلَى الْمَأْمُوْمِ مِنَ الْمُتَابَعَةِ وحُكْمِ الْمَسْبُوْقِ

Zujajat al-Masabih 1518Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥١٨ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه): أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ فَجُحِشَ شِقُهُ الْأَيْمَنُ، فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَاةِ، وَهُوَ قَاعِدٌ، وَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا . فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوْا قِيَامًا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوْا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوْا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُوْلُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوْا جُلُوسًا أَجْمَعُوْنَ». قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَوْلُهُ: «إِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوْا جُلُوسًا» هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِيمِ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ ﷺ جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامٌ، لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُوْدِ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ لا هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ، وَاتَّفَقَ مُسْلِمُ إِلَى أَجْمَعُوْنَ». وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: «فَلَا تَخْتَلِفُوْا عَلَيْهِ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا».
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 689 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور امام بخاری اس حدیث کو بیان کر کے لکھتے ہیں کہ ان کے استاد حمیدی نے کہا: ”وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا“ (جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد مرض الموت سے بہت پہلے زمانہ کا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کا واقعہ اس کا ناسخ ہے۔ جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر امامت فرمائی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر اقتداء کی اور صحابہ کرام کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔ اس لئے امام کا کسی عذر سے بیٹھ کر امامت کرنا اور مقتدیوں کا بھی بلا عذر بیٹھ کر اقتداء کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کے واقعہ سے منسوخ ہوگا اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ کسی مسئلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابتدائی زمانہ کا فعل ایک ہو اور آخری زمانہ کا فعل دوسرا ہو تو آخری فعل واجب العمل ہوتا ہے، پہلا فعل منسوخ ہوتا ہے اور آخری فعل ناسخ، اس لئے امام کسی عذر سے بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدیوں کو کھڑے ہو کر اقتداء کرنا چاہئے۔ (یہ بخاری میں مذکور ہے اور مذہب حنفی بھی یہی ہے۔)