Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1519

بَابُ مَا عَلَى الْمَأْمُوْمِ مِنَ الْمُتَابَعَةِ وحُكْمِ الْمَسْبُوْقِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ مَا عَلَى الْمَأْمُوْمِ مِنَ الْمُتَابَعَةِ وحُكْمِ الْمَسْبُوْقِ

Zujajat al-Masabih 1519Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥١٩ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ جَاءَ بِلَالُ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: «مُرُوْا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخْطَانِ فِي الْأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ ، فَأَوْمَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُصَلِّي قَاعِدًا، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ ، وَالنَّاسُ يَقْتَدُوْنَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: يُسْمِعُ أَبُو بَكْرِ النَّاسَ التَّكْبِيرَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 713 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 418a (unverified) 86% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے امامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منتقل ہوگئی اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سیدھی جانب ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے جو مقتدی کا مقام ہے اور امامت کے منتقل ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرأت اسی جگہ سے شروع فرمائی جہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چھوڑی تھی جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں مذکور ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام ہو کر عذر کی وجہ سے بیٹھے ہوئے نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مثل ساری جماعت کے مقتدی ہو کر مکبر بن کر کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور ساری جماعت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تکبیر کی آواز پر نماز پڑھ رہی تھی۔

Note 2

کرتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ”يُسْمِعُ أَبُوْبَكْرٍ النَّاسَ التَّكْبِيْرَ“ یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکبیر کی آواز لوگوں کو پہنچا رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ مکبر تھے امام نہیں تھے اور خود ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ساری جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کر رہی تھی اور امامت کا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منتقل ہو جانا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ تھا اوروں کے لئے ایسے موقع پر یہ حکم ہے کہ جب تک پہلا امام ہٹ کر کہیں اور نہ چلا جائے دوسرا شخص امام نہیں بن سکتا۔ مثلاً اگر امام کو حدث ہو جائے تو وہ وضوء کے لئے چلا جائے گا اور اس کی جگہ دوسرا شخص امام بن کر نماز پڑھائے گا۔ پہلا امام ہوتے ہوئے دوسرا امام نہیں بن سکتا۔ دوسری بات اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ کسی عذر سے امام بیٹھ کر رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نماز پڑھائے تو جماعت کھڑی ہوئی حالت میں نماز ادا کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری فعل ہونے سے ناسخ ہے اور اسی پر عمل در آمد ہے اور یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے اور اس سے پہلے کی حدیث میں جو مذکور ہے کہ امام بیٹھ کر نماز پڑھیں تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھتے تو یہ پہلا فعل ہونے سے منسوخ ہے، جیسا کہ اوپر کی حدیث میں تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)