اردو
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس مرض سے بیمار ہوئے جس کے سبب سے آپ دنیا سے تشریف
لے گئے اور جب آپ کی بیماری بہت بڑھ گئی اور آپ باہر تشریف نہ لیجا سکے تو حسب عادت بلال
رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر جماعت کے تیار ہونے کی اطلاع دی تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے
ارشاد فرمایا کہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے کہو کہ وہ امام ہو کر لوگوں کو نماز پڑھائیں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ
(حکم کی تعمیل کر کے) حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے دنیا سے تشریف لیجانے تک لوگوں کو نماز پڑھاتے
رہے (اس اثناء میں ایک نماز کے موقع پر ابوبکر رضی اللہ عنہ امام بن کر نماز پڑھا رہے تھے کہ) رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بیماری میں کچھ کمی معلوم ہوئی (اور باہر تشریف لانے کی قوت محسوس
ہوئی، جماعت کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس قدر اہتمام تھا کہ بیماری میں کچھ کمی معلوم ہونے
کے بعد آپ تنہا نماز پڑھنا مناسب نہیں سمجھے اس لئے) آپ دو آدمیوں کے کندھوں پر سہارا دے کر
جماعت کے لئے باہر تشریف لائے۔ (ام المومنین فرماتی ہیں کہ اس وقت کا منظر اب تک میری
آنکھوں کے سامنے ہے کہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (قدم اٹھانے کی قوت نہ ہونے کی وجہ سے)
زمین پر اپنے پیر کھینچتے ہوئے تشریف لے جا رہے تھے یہاں تک کہ آپ اسی حالت میں مسجد میں
داخل ہوئے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تشریف لانے کی آہٹ
محسوس کی اور پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ سے پیچھے نہ ہٹیں،
اور خود تشریف لیجا کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں جانب بیٹھ گئے (جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مکبر ہونے پر بخاری اور مسلم کی یہ دوسری روایت دلالت
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 713 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 418a (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے امامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منتقل ہوگئی اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سیدھی جانب ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے جو مقتدی کا مقام ہے اور امامت کے منتقل ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرأت اسی جگہ سے شروع فرمائی جہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چھوڑی تھی جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں مذکور ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام ہو کر عذر کی وجہ سے بیٹھے ہوئے نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مثل ساری جماعت کے مقتدی ہو کر مکبر بن کر کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور ساری جماعت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تکبیر کی آواز پر نماز پڑھ رہی تھی۔
Note 2
کرتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ”يُسْمِعُ أَبُوْبَكْرٍ النَّاسَ التَّكْبِيْرَ“ یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکبیر کی آواز لوگوں کو پہنچا رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ مکبر تھے امام نہیں تھے اور خود ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ساری جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کر رہی تھی اور امامت کا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منتقل ہو جانا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ تھا اوروں کے لئے ایسے موقع پر یہ حکم ہے کہ جب تک پہلا امام ہٹ کر کہیں اور نہ چلا جائے دوسرا شخص امام نہیں بن سکتا۔ مثلاً اگر امام کو حدث ہو جائے تو وہ وضوء کے لئے چلا جائے گا اور اس کی جگہ دوسرا شخص امام بن کر نماز پڑھائے گا۔ پہلا امام ہوتے ہوئے دوسرا امام نہیں بن سکتا۔ دوسری بات اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ کسی عذر سے امام بیٹھ کر رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نماز پڑھائے تو جماعت کھڑی ہوئی حالت میں نماز ادا کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری فعل ہونے سے ناسخ ہے اور اسی پر عمل در آمد ہے اور یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے اور اس سے پہلے کی حدیث میں جو مذکور ہے کہ امام بیٹھ کر نماز پڑھیں تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھتے تو یہ پہلا فعل ہونے سے منسوخ ہے، جیسا کہ اوپر کی حدیث میں تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)