ف: اس حدیث شریف میں تراویح کے 20 رکعت پانچ ترویحات کے ساتھ پڑھنے کا ذکر
ہے ردالمحتار میں قہستانی کے حوالے سے مذکور ہے کہ ہر ترویحہ یعنی ہر چار رکعت کے بعد یہ تسبیح پڑھنا
چاہئے: ’’سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوْتِ‘‘
اے اللہ! ہر عیب سے آپ پاک ہیں، حقیقی بادشاہت آپ ہی کی ہے اور ساری مخلوق پر آپ
ہی کو کامل اختیار ہے۔
’’سُبْحَانَ ذِي الْعِزَّةِ وَالْعَظَمَةِ وَالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْجَبَرُوْتِ‘‘۔
پھر عرض کرتا ہوں کہ سارے مخلوقات کے صفات سے آپ پاک ہیں، اور ساری عزت آپ
ہی کی ہے، آپ ہی بڑے عظمت والے ہیں، ہر چیز پر آپ کو قدرت حاصل ہے، آپ جو چاہیں کرتے
ہیں، کوئی آپ کو روکنے والا نہیں، ہر طرح کی بڑائی کے آپ ہی سزاوار ہیں، عظمت وجلال کے آپ ہی لائق ہیں۔
سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوْحِ
اے اللہ! آپ ہر نقص سے پاک ہیں اور ایسے بادشاہ ہیں کہ آپ کی بادشاہت کے سامنے
سب کی بادشاہت ہیچ ہے۔ (ہر زندہ کو موت آنے والی ہے)، اور آپ ایسے زندہ ہیں کہ کبھی آپ کو
موت نہیں آئے گی۔ (انسان بھی پاک ہے مگر عارضی) آپ پاک ہیں دائمی، انسانی صفات سے اور
انسانی احتیاج سے آپ بالکل پاک ہیں، آپ کی شان کا کیا کہنا فرشتوں اور جبرئیل علیہ السلام کے
آپ رب ہیں۔
لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ آپ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، آپ ہی معبود ہیں، یکتا ہیں، کوئی
آپ کا شریک نہیں۔
نَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ آپ کے ان عالی صفات کو سن کر اپنی عاجزی اور مجبوری یاد آگئی۔ اس لئے
عرض کرتے ہیں کہ ہم سراپا قصور ہیں، آپ ہی سے ہم تمام گناہوں کی مغفرت چاہتے ہیں۔
نَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ آپ کے صفات عالیہ کا صدقہ ہمارے اعمال کو مت دیکھئے اپنے فضل
و کرم سے ہم کو جنت عطا فرمائیے۔
وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے ڈرے ہوئے سہمے ہوئے ہیں آپ کے
رحم و کرم کا صدقہ دوزخ کی آگ سے ہم کو بچائیے۔
ردالمحتار میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس تسبیح کو ہر ترویحہ کے بعد تین بار پڑھنا چاہیے۔12
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں تراویح کے 20 رکعت پانچ ترویحات کے ساتھ پڑھنے کا ذکر ہے ردالمحتار میں قہستانی کے حوالے سے مذکور ہے کہ ہر ترویحہ یعنی ہر چار رکعت کے بعد یہ تسبیح پڑھنا چاہئے: ’’سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوْتِ‘‘ اے اللہ! ہر عیب سے آپ پاک ہیں، حقیقی بادشاہت آپ ہی کی ہے اور ساری مخلوق پر آپ ہی کو کامل اختیار ہے۔ ’’سُبْحَانَ ذِي الْعِزَّةِ وَالْعَظَمَةِ وَالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْجَبَرُوْتِ‘‘۔ پھر عرض کرتا ہوں کہ سارے مخلوقات کے صفات سے آپ پاک ہیں، اور ساری عزت آپ ہی کی ہے، آپ ہی بڑے عظمت والے ہیں، ہر چیز پر آپ کو قدرت حاصل ہے، آپ جو چاہیں کرتے ہیں، کوئی آپ کو روکنے والا نہیں، ہر طرح کی بڑائی کے آپ ہی سزاوار ہیں، عظمت وجلال کے آپ ہی لائق ہیں۔ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوْحِ اے اللہ! آپ ہر نقص سے پاک ہیں اور ایسے بادشاہ ہیں کہ آپ کی بادشاہت کے سامنے سب کی بادشاہت ہیچ ہے۔ (ہر زندہ کو موت آنے والی ہے)، اور آپ ایسے زندہ ہیں کہ کبھی آپ کو موت نہیں آئے گی۔ (انسان بھی پاک ہے مگر عارضی) آپ پاک ہیں دائمی، انسانی صفات سے اور انسانی احتیاج سے آپ بالکل پاک ہیں، آپ کی شان کا کیا کہنا فرشتوں اور جبرئیل علیہ السلام کے آپ رب ہیں۔ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ آپ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، آپ ہی معبود ہیں، یکتا ہیں، کوئی آپ کا شریک نہیں۔ نَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ آپ کے ان عالی صفات کو سن کر اپنی عاجزی اور مجبوری یاد آگئی۔ اس لئے عرض کرتے ہیں کہ ہم سراپا قصور ہیں، آپ ہی سے ہم تمام گناہوں کی مغفرت چاہتے ہیں۔ نَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ آپ کے صفات عالیہ کا صدقہ ہمارے اعمال کو مت دیکھئے اپنے فضل و کرم سے ہم کو جنت عطا فرمائیے۔ وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے ڈرے ہوئے سہمے ہوئے ہیں آپ کے رحم و کرم کا صدقہ دوزخ کی آگ سے ہم کو بچائیے۔ ردالمحتار میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس تسبیح کو ہر ترویحہ کے بعد تین بار پڑھنا چاہیے۔12