Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كتاب الزكاة

Hadith 2464

بَابٌ

In this book

Current reading

كتاب الزكاة

بَابٌ

Zujajat al-Masabih 2464Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٦٤ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ (رضي الله عنهما) قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ اللهِ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمُ، وَاحْتَجَمَ وَهُوْ صَائِمُ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِإِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَنَسٍ(رضي الله عنه) : قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ ﷺ بَعْدَ مَا1 قَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ». هَذَا حَدِيْثُ صَحِيحٌ. أَبُو سُفْيَانَ هَذَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ احْتَجَّ بِهِ مُسْلِمٌ وَغَيْرُهُ، قَالَهُ فِي «الْمِرْقَاتِ». قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ رحمة اللهُ عَلَيْهِ: وَتَأَوَّلَهُ بَعْضُ مَنْ رَخَّصَ فِي الْحِجَامَةِ أَي تَعَرَّضَا لِلْإِفْطَارِ الْمَحْجُوْمُ لِلضُّعْفِ، وَالْحَاجِمُ لِأَنَّهُ لَا يَأْمَنُ مِنْ أَنْ يَصِلَ شَيْءٌ إِلَى جَوْفِهِ بِمَصَّ الْمُلَازِمِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1938 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1202a (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

After he said

(1) The statement: "After he said" – This indicates that it is abrogated by this.

Note 1

قوله

(۱) قوله: بعد ما قال إلخ: فيكون منسوخا بهذا.

Note 1

یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے۔ ”ابوسفیان“ کا نام ”طلحہ بن نافع“ ہے۔ اس سے امام مسلم و دیگر محدثین نے استدلال فرمایا ہے۔ (مرقات)۔ حضرت امام محی السنہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: جن حضرات نے (بحالت روزہ) پچھنا لگانے کی اجازت دی ہے ان میں بعض نے روزہ ٹوٹنے کی وجہ یہ بتلائی کہ (محجوم) جس کو پچھنا لگایا جا رہا ہے (خون نکلنے کی وجہ سے اس کو) کمزوری لاحق ہوگی (اور روزہ توڑنے کی نوبت آئے گی) اور (حاجم) پچھنا لگانے والا جب وہ خون چوسے گا تو وہ اس سے محفوظ نہیں رہتا کہ خون کا کچھ حصہ اس کے پیٹ تک پہنچ جائے۔ ف: واضح ہو کہ پچھنے لگوانا یا سینگی کھینچنا یہ ہے کہ جسم میں خون زیادہ ہوجائے تو شریانوں کے ذریعہ اس کو خارج کروا دیا جائے۔ مرقات میں لکھا ہے کہ پچھنے لگوانے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ پچھنے لگوانے والے کا اتنا خون نہ نکال دیا جائے کہ کمزوری کی وجہ سے اس کو روزہ توڑنے کی نوبت آئے اور پچھنوں سے خون چوسنے والا احتیاط کرے کہیں خون اس کے پیٹ میں نہ چلا جائے کہ جس سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے۔12