Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2464

(یہ باب ان چیزوں کے بیان میں جن سے روزہ کو بچانا ضروری ہے

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(یہ باب ان چیزوں کے بیان میں جن سے روزہ کو بچانا ضروری ہے

Zujajat al-Masabih 2464Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2889Noor 2890
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت احرام میں پچھنا لگائے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حالت میں (بھی) پچھنا لگائے کہ آپ روزہ دار تھے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ہے: حضرت ابوسفیان سے روایت ہے، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ“ (پچھنا لگانے والا اور وہ جس کو پچھنا لگوایا جائے ان کا روزہ ختم ہوگیا) فرمانے کے بعد بھی پچھنا لگوایا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1938 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1202a (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

After he said

(1) The statement: "After he said" – This indicates that it is abrogated by this.

Note 1

قوله

(۱) قوله: بعد ما قال إلخ: فيكون منسوخا بهذا.

Note 1

یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے۔ ”ابوسفیان“ کا نام ”طلحہ بن نافع“ ہے۔ اس سے امام مسلم و دیگر محدثین نے استدلال فرمایا ہے۔ (مرقات)۔ حضرت امام محی السنہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: جن حضرات نے (بحالت روزہ) پچھنا لگانے کی اجازت دی ہے ان میں بعض نے روزہ ٹوٹنے کی وجہ یہ بتلائی کہ (محجوم) جس کو پچھنا لگایا جا رہا ہے (خون نکلنے کی وجہ سے اس کو) کمزوری لاحق ہوگی (اور روزہ توڑنے کی نوبت آئے گی) اور (حاجم) پچھنا لگانے والا جب وہ خون چوسے گا تو وہ اس سے محفوظ نہیں رہتا کہ خون کا کچھ حصہ اس کے پیٹ تک پہنچ جائے۔ ف: واضح ہو کہ پچھنے لگوانا یا سینگی کھینچنا یہ ہے کہ جسم میں خون زیادہ ہوجائے تو شریانوں کے ذریعہ اس کو خارج کروا دیا جائے۔ مرقات میں لکھا ہے کہ پچھنے لگوانے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ پچھنے لگوانے والے کا اتنا خون نہ نکال دیا جائے کہ کمزوری کی وجہ سے اس کو روزہ توڑنے کی نوبت آئے اور پچھنوں سے خون چوسنے والا احتیاط کرے کہیں خون اس کے پیٹ میں نہ چلا جائے کہ جس سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے۔12