العربية
Typed, pending editorial approval
٦٢٨ - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ : أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيْهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ : أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا. رَوَاهُ الْأَثْرَمُ فِي سُنَنِهِ وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَالدَّارَقُطْنِيُّ.
وَقَالَ الْخَطَابِيُّ : هُوَ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، هَكَذَا فِي الْمُنْتَقَى»، وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Ibn Khuzaymah 192 (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: موزوں پر مسح کرنے کی شرط طہارت پر موزوں کا پہن لینا ہے، واضح رہے کہ طہارت دو قسم کی ہوتی ہے: ایک طہارت کامل جو پورے وضوء سے حاصل ہوتی ہے۔ اور دوسری غیر کامل جو صرف پیروں کے دھولینے سے حاصل ہوجاتی ہے۔ اور ان دونوں طہارتوں میں سے کسی ایک طہارت کے بعد موزوں کو پہن لیا گیا ہے تو موزوں پر مسح کیا جاسکتا ہے۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جس میں طہارت کا ذکر ہے مطلقاً ہے جو مذکورہ ہر دو قسم کی طہارتوں کو شامل ہے البتہ خفین کے پہننے کے بعد جو پہلا حدث ہوگا اس حدث کے وقت طہارت کامل ضروری ہے، مثلاً کسی شخص نے پیر دھو کر موزے پہن لئے اور ابھی اس نے وضوء پورا نہیں کیا تھا کہ اس کو حدث ہوگیا تو ایسا شخص موزوں پر مسح نہیں کرسکتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ طہارت کامل یعنی پورا وضوء موزوں کے پہننے کے وقت ضروری نہیں ہے، البتہ حدث کے وقت طہارت کامل یعنی پورا وضو لازمی ہے تاکہ موزوں پر مسح صحیح ہو سکے۔(عمدة الرعاية)12۔