English
And from Abu Bakrah, from the Prophet ﷺ: "He allowed the traveler to wipe over his socks for three days and nights, and the resident for one day and one night, if he performed ablution and then wore his socks, to wipe over them." [Narrated by Al-Athram in his Sunan, Ibn Khuzaymah, and Al-Daraqutni]
Al-Khattabi said: "The chain of narration is authentic, as stated in Al-Muntaha," and Ibn Khuzaymah confirmed it as authentic.
العربية
Typed, pending editorial approval
٦٢٨ - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ : أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيْهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ : أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا. رَوَاهُ الْأَثْرَمُ فِي سُنَنِهِ وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَالدَّارَقُطْنِيُّ.
وَقَالَ الْخَطَابِيُّ : هُوَ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، هَكَذَا فِي الْمُنْتَقَى»، وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 705
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر کے لئے تین دن اور تین رات تک اور مقیم کے
لئے ایک دن اور ایک رات تک مسح کرنے کی اجازت دی ہے جب کہ اس نے طہارت کر کے (خواہ
وضو کیا ہو یا صرف پیر دھو کر) موزوں کو پہن لیا ہو۔ (اس کی روایت اثرم نے اپنی سنن میں کی ہے
اور ابن خزیمہ اور دارقطنی نے بھی اس کی روایت کی ہے اور خطابی نے وضاحت کی ہے کہ یہ حدیث صحیح
اسناد والی ہے اور ”منتقیٰ“ میں بھی یہی مذکور ہے اور اس حدیث کو ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Ibn Khuzaymah 192 (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: موزوں پر مسح کرنے کی شرط طہارت پر موزوں کا پہن لینا ہے، واضح رہے کہ طہارت دو قسم کی ہوتی ہے: ایک طہارت کامل جو پورے وضوء سے حاصل ہوتی ہے۔ اور دوسری غیر کامل جو صرف پیروں کے دھولینے سے حاصل ہوجاتی ہے۔ اور ان دونوں طہارتوں میں سے کسی ایک طہارت کے بعد موزوں کو پہن لیا گیا ہے تو موزوں پر مسح کیا جاسکتا ہے۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جس میں طہارت کا ذکر ہے مطلقاً ہے جو مذکورہ ہر دو قسم کی طہارتوں کو شامل ہے البتہ خفین کے پہننے کے بعد جو پہلا حدث ہوگا اس حدث کے وقت طہارت کامل ضروری ہے، مثلاً کسی شخص نے پیر دھو کر موزے پہن لئے اور ابھی اس نے وضوء پورا نہیں کیا تھا کہ اس کو حدث ہوگیا تو ایسا شخص موزوں پر مسح نہیں کرسکتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ طہارت کامل یعنی پورا وضوء موزوں کے پہننے کے وقت ضروری نہیں ہے، البتہ حدث کے وقت طہارت کامل یعنی پورا وضو لازمی ہے تاکہ موزوں پر مسح صحیح ہو سکے۔(عمدة الرعاية)12۔