العربية
Typed, pending editorial approval
٨٧٤ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ إِلَى السَّمَاءِ أُوْحِيَ إِلَيْهِ بِالْأَذَانِ، فَنَزَلَ بِهِ، فَعَلَّمَهُ جِبْرِيلُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ».
وَقَالَ عُلَمَاؤُنَا: إِنَّ الْإِسْرَاءَ الْمَذْكُورَ فِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِي غَيْرُ الْمَعْرُوْفِ، وَإِنَّهُ بِرُوْحِهِ أَوْ بِرُؤْيَاهُ، لِلْإِسْرَاءِ تَعَدُّدٌ ، فَيَكُوْنُ رَأَى فِي مَنَامِهِ ذَلِكَ، وَرُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ، وَعَقْبَ ذَلِكَ بِرُؤْيَا الصَّحَابَةِ، فَأَظْهَرَ مُوَافَقَتَهُمْ؛ لِيَسُرُّوا بِمُوَافَقَةِ رَأْبِهِمْ وَكَوْنِ ذَلِكَ مَأْتُوْرًا عَنْهُمْ، وَإِلَّا فَهُوَ حُكْمُ شَرْعِيٌّ لَا يَثْبُتُ بِرُؤْيَا غَيْرِهِ انْتَهَى.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ہمارے علماء نے کہا ہے کہ طبرانی کی اس روایت میں جس معراج کا ذکر آیا ہے وہ مشہور معراج نہیں، یہ معراج جس میں اذان کے الفاظ سکھائے گئے ہیں جسمانی نہیں بلکہ روحانی تھی، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی معراج ایک ہی ہوئی ہے، البتہ روحانی معراج متعدد ہوئے ہیں، یا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب تھا، جو معراج کے حکم میں ہے اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا خواب بھی وحی ہوتا ہے اور یہ خواب بھی ایک روحانی معراج تھی جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کے الفاظ سکھائے گئے، صحابہ رضی اللہ عنہم کو پہلے خواب میں اذان سکھائی گئی اور بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں اذان کے بارے میں وحی کی گئی، اس سے مقصود یہ تھا کہ اذان کے بارے میں اس موافقت کی وجہ سے صحابہ کرام کو خوشی حاصل ہو اور یہ ان سے منقول ہو ورنہ درحقیقت اذان کا حکم ایک شرعی حکم ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے سوا دوسروں کے خواب سے ثابت نہیں ہوسکتا۔12