English
It is narrated from Ibn 'Umar that he said: When the Messenger of Allah (peace be upon him) was taken on the Night Journey (Al-Isra'), he was inspired with the Adhan. He brought it down, and Jibril taught it to him. [Narrated by At-Tabarani in Al-Awsat]
Our scholars said: "The Isra' mentioned in At-Tabarani's narration is not the well-known Isra'. It could have been in his spirit or in a vision, as the Isra' occurred multiple times. Thus, he saw it in his dream, and the dreams of the Prophets are a form of revelation. This was followed by the dreams of the Companions, and the Prophet (peace be upon him) showed approval to make them happy with the agreement of their visions. Otherwise, it is a legal ruling that cannot be established solely through the dreams of others."
العربية
Typed, pending editorial approval
٨٧٤ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ إِلَى السَّمَاءِ أُوْحِيَ إِلَيْهِ بِالْأَذَانِ، فَنَزَلَ بِهِ، فَعَلَّمَهُ جِبْرِيلُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ».
وَقَالَ عُلَمَاؤُنَا: إِنَّ الْإِسْرَاءَ الْمَذْكُورَ فِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِي غَيْرُ الْمَعْرُوْفِ، وَإِنَّهُ بِرُوْحِهِ أَوْ بِرُؤْيَاهُ، لِلْإِسْرَاءِ تَعَدُّدٌ ، فَيَكُوْنُ رَأَى فِي مَنَامِهِ ذَلِكَ، وَرُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ، وَعَقْبَ ذَلِكَ بِرُؤْيَا الصَّحَابَةِ، فَأَظْهَرَ مُوَافَقَتَهُمْ؛ لِيَسُرُّوا بِمُوَافَقَةِ رَأْبِهِمْ وَكَوْنِ ذَلِكَ مَأْتُوْرًا عَنْهُمْ، وَإِلَّا فَهُوَ حُكْمُ شَرْعِيٌّ لَا يَثْبُتُ بِرُؤْيَا غَيْرِهِ انْتَهَى.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 980
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو معراج میں آسمان کی سیر کرائی گئی تو اس وقت آپ پر اذان (کے الفاظ) کی وحی آئی تھی حضور
صلی اللہ علیہ وسلم معراج ہی سے اذان کے الفاظ لے کر اترے اور آپ کو اذان جبرئیل علیہ السلام نے
سکھائی۔ (اس کی روایت طبرانی نے اوسط میں کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ہمارے علماء نے کہا ہے کہ طبرانی کی اس روایت میں جس معراج کا ذکر آیا ہے وہ مشہور معراج نہیں، یہ معراج جس میں اذان کے الفاظ سکھائے گئے ہیں جسمانی نہیں بلکہ روحانی تھی، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی معراج ایک ہی ہوئی ہے، البتہ روحانی معراج متعدد ہوئے ہیں، یا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب تھا، جو معراج کے حکم میں ہے اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا خواب بھی وحی ہوتا ہے اور یہ خواب بھی ایک روحانی معراج تھی جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کے الفاظ سکھائے گئے، صحابہ رضی اللہ عنہم کو پہلے خواب میں اذان سکھائی گئی اور بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں اذان کے بارے میں وحی کی گئی، اس سے مقصود یہ تھا کہ اذان کے بارے میں اس موافقت کی وجہ سے صحابہ کرام کو خوشی حاصل ہو اور یہ ان سے منقول ہو ورنہ درحقیقت اذان کا حکم ایک شرعی حکم ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے سوا دوسروں کے خواب سے ثابت نہیں ہوسکتا۔12