And the saying of Allah, the Almighty: "Ask forgiveness of your Lord. Indeed, He is ever a Perpetual Forgiver. He will send [rain from] the sky upon you in [continuing] showers." (1) (Qur’an 71:10-11)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1013 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 897a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Chapter-heading commentary
He will send [rain].
(1) The statement: "He will send [rain]." The descent of rain is linked to seeking forgiveness, not to the prayer for rain. Therefore, the original practice is supplication and humility, not a specific prayer. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.
(2) These hadiths and narrations all testify to Abu Hanifah’s view that the prayer for rain (Istisqa) is based on supplication and seeking forgiveness, not a formal prayer.
Note 3
He raised his hands.
(3) The statement: "He raised his hands." This indicates that there was no turning of the cloak or facing a specific direction. It is clear evidence for Abu Hanifah that the prayer for rain is based on supplication and seeking forgiveness, not a formal prayer. This is mentioned by Al-‘Allamah Al-‘Ayni in ‘Umdat al-Qari.
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله: يرسل: علق نزول الغيث بالاستغفار لا بالصلاة، فكان الأصل فيه الدعاء والتضرع دون الصلاة. قاله في عمدة القاري».
قوله
(۲) قوله: فصل إلخ : فهذه الأحاديث والآثار كلها تشهد لأبي حنيفة أن الاستسقاء استغفار ودعاء.
Note 3
قوله
(۳) قوله: فرفع فيه: لا تحويل ولا استقبال، وفيه حجة واضحة لأبي حنيفة أن الاستسقاء دعاء واستغفار، ولا صلاة فيه. قاله العلامة العيني في عمدة القاري.
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1018 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
العرف میں مذکور ہے کہ عرب میں مال سے مراد بالعموم اونٹ لئے جاتے ہیں۔12) (جن پر عرب
کی زندگی کا دارومدار ہے) ہلاک ہو رہے ہیں، اہل و عیال سخت تکلیف میں ہیں (حضور بارش کے
لئے دعا فرمائیں) یہ سن کر بارش آنے کے لئے حضور دعا فرمائے۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرت انس اس حدیث میں (دعاء استسقاء کے وقت) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم استقبال قبلہ اور چادر الٹنے کا ذکر نہیں کئے اس سے معلوم ہوا کہ استقبال قبلہ اور چادر الٹنا
دعائے استسقاء کے وقت سنت نہیں ہے، اگر یہ دونوں سنت ہوتے تو حضرت انس ان دونوں باتوں کا
ضرور ذکر فرماتے، اسی لئے امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ چادر الٹنا دعائے استسقاء میں
سنت نہیں ہے اگرچہ کہ بعض حدیثوں میں استسقاء میں چادر الٹنے کا ذکر ہے، اگر چادر الٹنا سنت ہوتا تو
سب حدیثوں میں اس کا ذکر آتا، بعض حدیثوں میں چادر الٹنے کا ذکر ہونا اور بعض میں نہ ہونا
استسقاء میں چادر الٹنے کے سنت ہونے پر دلالت نہیں کرتا، اب رہا استقبال قبلہ یعنی دعائے استسقاء
کے وقت قبلہ رو ہونا تو اس بارے میں عمدة القاری میں لکھا ہے کہ اگر دعائے استسقاء آبادی میں ہو
رہی ہو تو استقبال قبلہ اور چادر الٹنا دونوں دعائے استسقاء کے وقت متفقہ طور پر ثابت نہیں ہیں، اگر
صحرا میں آبادی کے باہر دعائے استسقاء ہو رہی ہو تو چادر الٹنا اور استقبال قبلہ صاحبین کے پاس سنت
ہے، (جیسا کہ رد المحتار میں مذکور ہے۔12) مقتدی طویل رواء نہ کریں صرف قبلہ رو ہو کر بیٹھیں اور
دعاء کے وقت آمین کہتے رہیں، اور امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ سے صحرا میں دعائے استسقاء کرتے
وقت قبلہ رو ہونے کے متعلق باوجود تحقیق کے کوئی روایت نہیں ملی۔) اس حدیث کی روایت بخاری
اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
(1) The statement: "Hoping that the drought would turn." In Al-Hidayah, it is said: "This was an act of optimism." Ibn al-Humam said: "This acknowledges the act but denies its establishment as a Sunnah, as it was done for a reason unrelated to worship. Allah knows best."
In Al-Mirqat, it is said: "The turning of the cloak was an act of optimism, as explicitly mentioned in Al-Mustadrak from the hadith of Jabir, which Al-Hakim declared authentic. He said, 'He turned his cloak so that the drought would turn into abundance.' In Tawalat al-Tabarani, it is narrated from Anas: 'He turned his cloak so that the drought would turn into fertility.'"
Note 1
قوله
(۱) قوله: ليتحول وقال في «الهداية»: وما رواه كان تفاؤلا . قال ابن الهمام: اعتراف برايته ومنع استنانه؛ لأنه فعل لأمر لا يرجع إلى معنى العبادة، والله أعلم. ثم قال: واعلم أن كون التحويل كان تفاؤلا، جاء مصرحا به في المستدرك» من حديث جابر، وصححه، قال: وحوّل رداءه؛ لتحول القحط. وفي طوالات الطبراني من حديث أنس: وقلب رداءه؛ لكي ينقلب القحط إلى الخصب. قاله في «المرقاة».
Note 1
اس حدیث میں چادر الٹنے کی وجہ یہ بتلائی گئی ہے کہ جس طرح چادر کا ہر جز ء الٹا گیا ہے اسی
طرح موجودہ حالت میں انقلاب ہو کر بجائے قحط کے خوشحالی آ جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چادر
الٹنا دعائے استسقاء کے وقت سنت اور عبادت نہیں ہے بلکہ یہ عرض کرنا ہے کہ الٰہی ہماری حالت میں
انقلاب پیدا کر کے خوشحالی لائیے، اس سے محض فال نیک لینا مقصود تھا نہ کہ حضور کا چادر الٹنے کو سنت
اور عبادت بنانے کا ارادہ تھا، اس لئے ہر حدیث میں دعاء استسقاء کے وقت چادر الٹنے کا ذکر نہیں
ہے، یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ دعائے استسقاء کے وقت چادر الٹنے کو سنت ہونا نہیں
فرمائے ہیں۔ اس حدیث کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث
کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اور صحیح ہے، اگرچیکہ انہوں نے اپنی اپنی کتابوں میں اس
حدیث کی روایت نہیں کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
نماز پڑھنے میں ہے، تکبیرات عیدین کہنے میں نہیں ہے، اس لئے طبرانی کی روایت میں آیا ہے صلاۃ
استسقاء میں صلاۃ عید کی طرح زائد تکبیرات نہیں کہے گئے، اب رہی یہ نماز تو یہ استسقاء نہیں تھی، اگر
نماز استسقاء ہوتی تو پہلے نماز استسقاء پڑھی جاتی اور بعد خطبہ یا دعاء کی جاتی، جیسا کہ صاحبین اور امام
شافعی رحمۃ اللہ علیہم سے ایسا ہی مروی ہے، اس حدیث میں پہلے دعاء کی گئی ہے اور بعد نماز پڑھی
گئی، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی دعاء مقبول ہوگئی۔ دوسرے حدیثوں سے معلوم ہوا کہ دعاء کے ساتھ
ہی ابر اٹھا اور آثار بارش کے شروع ہوگئے تھے، اس کا شکریہ آپ دو رکعت پڑھ کر اداء فرمائے، اسی
لئے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ استسقاء کے لئے صرف دعاء ہے نماز اور خطبہ نہیں ہے۔
اس حدیث کی روایت نسائی، ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث
حسن صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 896 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
The prayer is not prescribed,
(1) The response to the hadiths mentioning prayer is that the Prophet (ﷺ) performed it on one occasion and omitted it on another. This does not indicate that it is a Sunnah but rather that it is permissible. Therefore, Abu Hanifah did not say, "The prayer is not prescribed," but rather, "It is not a Sunnah." This is mentioned by Al-‘Allamah Al-‘Ayni in ‘Umdat al-Qari.
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1024 (unverified) 93% confidence
Candidate: Sahih Muslim 894b (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله: فصل: والجواب عن هذه الأحاديث التي فيها الصلاة أنه الله فعلها مرَّةً وتركها أخرى، وذا لا يدل على السنية، وإنما يدل على الجواز. فلذا أبو حنيفة لم يقل: «إن الصلاة فيه غير مشروعة، بل يقول: «إنها ليست بسنة» كذا قال العلامة العيني في عمدة القاري».
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1173 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Allah has commanded you.
(2) The statement: "Allah has commanded you." Shaykh Ibn al-Humam said: "This speech is what is meant by the sermon, as some have said. Perhaps Imam Ahmad considered it Gharib or Mudtarib, as the sermon is mentioned before the prayer in the earlier narration of Abu Hurairah and after it in others." In Tabi’ al-Athar, it is said: "What is narrated about the sermon is metaphorically interpreted as supplication and remembrance."
Note 2
قوله
(٢) قوله: وقد أمركم: قال الشيخ ابن الهمام الخ: وذلك الكلام هو المراد بالخطبة كما قاله بعضهم. ولعل الإمام أحمد أعله بهذه الغرابة، أو بالاضطراب؛ فإن الخطبة فيه مذكورة قبل الصلاة فيما تقدم من حديث أبي هريرة بعدها وكذا في غيره انتهى. وفي تابع الآثار» وما روى من الخطبة يحمل على الدعاء والذكر مجازا.
Note 1
ہوئے دعا کی گئی ہے تو وہ خطبہ نہیں تھا، بلکہ صرف دعا ہی تھی اور یہاں نماز سے پہلے دعاء ہوئی ہے،
حضور کے استسقاء میں مختلف طریقے رہے ہیں، کبھی دعاء اور خطبہ پہلے اور نماز استسقاء بعد ہوئی ہے
اور کبھی نماز استسقاء پہلے اور خطبہ و دعاء بعد ہوئے ہیں مگر دعاء اور خطبہ نماز کے بعد ہونا اور نماز سے
پہلے ہونا یہ حضور کا آخری عمل ہے، اس لئے صاحبین فرماتے ہیں کہ استسقاء میں پہلے نماز ہونا چاہئے
اور خطبہ و دعاء بعد میں) راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے ایک ابر بھیجا جو گرجتا اور چمکتا ہوا
آیا اور اللہ کے حکم سے برسنے لگا، حضور عیدگاہ سے مسجد نبوی تشریف لانے نہ پائے تھے کہ نالے بہہ
نکلے حضور لوگوں کو دیکھے کہ لوگ بارش سے بچنے کے لئے سایہ کی طرف بھاگے آرہے ہیں یہ دیکھ کر
آپ اتنا ہنس پڑے کہ آپ کے دندان مبارک نظر آنے لگے (دعاء جلدی قبول ہونے اور بارش کے
آنے کو دیکھ کر) حضور فرمانے لگے الٰہی! بیشک آپ ایسی ہی قدرت والے ہیں (بہت جلدی سے
ہماری دعاء قبول فرما کر بارش بھیج کر ہم کو قحط سالی سے بچائے ہیں) اور یہ بھی میں کہتا ہوں کہ میں اللہ کا
بندہ اور اس کا رسول ہوں (اسی لئے اللہ تعالیٰ میری دعاء جلد قبول فرمائے۔) اس حدیث کی روایت
ابوداؤد نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (6)
Chapter-heading commentary
(1) The statement: "He will send [rain]." The descent of rain is linked to seeking forgiveness, not to the prayer for rain. Therefore, the original practice is supplication and humility, not a specific prayer. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.
(2) These hadiths and narrations all testify to Abu Hanifah’s view that the prayer for rain (Istisqa) is based on supplication and seeking forgiveness, not a formal prayer.
Note 3
(3) The statement: "He raised his hands." This indicates that there was no turning of the cloak or facing a specific direction. It is clear evidence for Abu Hanifah that the prayer for rain is based on supplication and seeking forgiveness, not a formal prayer. This is mentioned by Al-‘Allamah Al-‘Ayni in ‘Umdat al-Qari.
Chapter-heading commentary
(۱) قوله: يرسل: علق نزول الغيث بالاستغفار لا بالصلاة، فكان الأصل فيه الدعاء والتضرع دون الصلاة. قاله في عمدة القاري».
(۲) قوله: فصل إلخ : فهذه الأحاديث والآثار كلها تشهد لأبي حنيفة أن الاستسقاء استغفار ودعاء.
Note 3
(۳) قوله: فرفع فيه: لا تحويل ولا استقبال، وفيه حجة واضحة لأبي حنيفة أن الاستسقاء دعاء واستغفار، ولا صلاة فيه. قاله العلامة العيني في عمدة القاري.