العربية
Typed, pending editorial approval
١٩٤٨ - وَعَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِي الاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّكْبِيرِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيْدَيْنِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهِ، وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1165 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 558 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1266 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 1506 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
نماز پڑھنے میں ہے، تکبیرات عیدین کہنے میں نہیں ہے، اس لئے طبرانی کی روایت میں آیا ہے صلاۃ استسقاء میں صلاۃ عید کی طرح زائد تکبیرات نہیں کہے گئے، اب رہی یہ نماز تو یہ استسقاء نہیں تھی، اگر نماز استسقاء ہوتی تو پہلے نماز استسقاء پڑھی جاتی اور بعد خطبہ یا دعاء کی جاتی، جیسا کہ صاحبین اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم سے ایسا ہی مروی ہے، اس حدیث میں پہلے دعاء کی گئی ہے اور بعد نماز پڑھی گئی، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی دعاء مقبول ہوگئی۔ دوسرے حدیثوں سے معلوم ہوا کہ دعاء کے ساتھ ہی ابر اٹھا اور آثار بارش کے شروع ہوگئے تھے، اس کا شکریہ آپ دو رکعت پڑھ کر اداء فرمائے، اسی لئے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ استسقاء کے لئے صرف دعاء ہے نماز اور خطبہ نہیں ہے۔ اس حدیث کی روایت نسائی، ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔