Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1948

Chapter on The Prayer for Rain

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on The Prayer for Rain

Zujajat al-Masabih 1948Volume 1

English

Hisham ibn Ishaq ibn Abdullah ibn Kinanah reported from his father: "I asked Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) about the Prophet’s (ﷺ) prayer for rain. He said, 'The Messenger of Allah (ﷺ) went out in a humble state, wearing simple clothes, and sat on the pulpit. He did not deliver a sermon like yours, but he continuously supplicated, humbled himself, and said the takbir. He prayed two rak’ahs as he prayed on Eid.'" [Narrated by Nasa’i, Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah] Tirmidhi said: "This is a Hasan Sahih Hadith."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٩٤٨ - وَعَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِي الاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّكْبِيرِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيْدَيْنِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهِ، وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2272
ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد اسحاق بن عبداللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا (لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز استسقاء بھی پڑھائے ہیں) اب آپ بیان فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز استسقاء کیسی تھی؟ تو حضرت ابن عباس فرمائے (سنو ایک مرتبہ بارش رک گئی تھی قحط سالی کے آثار ظاہر ہو رہے تھے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دعاء کے لئے) نکلے اور عیدگاہ کی طرف چلے (اس وقت آپ کی جو حالت تھی کیا کہوں بجائے زینت کے کپڑوں کے بعجز و انکساری ظاہر کرنے کے لئے) بہت معمولی پرانے کپڑے پہنے ہوئے تواضع کے ساتھ گڑگڑاتے ہوئے (عیدگاہ میں تشریف لائے آتے ہی) منبر پر بیٹھ گئے، تمہارے خطبہ کی طرح وہ خطبہ نہیں تھا بلکہ دعاء تھی جو آپ نے اس وقت فرمائی (اگر خطبہ ہوتا تو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے اس لئے کہ بیٹھ کر خطبہ دینے کی عادت شریفہ نہیں تھی بلکہ یہ دعاء تھی جو آپ اس وقت بہت گڑگڑاتے ہوئے آہ و زاری کے ساتھ کر رہے تھے اور ’’اللہ اکبر‘‘ فرماتے جا رہے تھے اس کے بعد آپ دو رکعت نماز عیدین کی نماز کی طرح اداء فرمائے (یہاں نماز عید سے تشبیہ صرف دو رکعت
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1165 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 558 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1266 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1506 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

نماز پڑھنے میں ہے، تکبیرات عیدین کہنے میں نہیں ہے، اس لئے طبرانی کی روایت میں آیا ہے صلاۃ استسقاء میں صلاۃ عید کی طرح زائد تکبیرات نہیں کہے گئے، اب رہی یہ نماز تو یہ استسقاء نہیں تھی، اگر نماز استسقاء ہوتی تو پہلے نماز استسقاء پڑھی جاتی اور بعد خطبہ یا دعاء کی جاتی، جیسا کہ صاحبین اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم سے ایسا ہی مروی ہے، اس حدیث میں پہلے دعاء کی گئی ہے اور بعد نماز پڑھی گئی، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی دعاء مقبول ہوگئی۔ دوسرے حدیثوں سے معلوم ہوا کہ دعاء کے ساتھ ہی ابر اٹھا اور آثار بارش کے شروع ہوگئے تھے، اس کا شکریہ آپ دو رکعت پڑھ کر اداء فرمائے، اسی لئے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ استسقاء کے لئے صرف دعاء ہے نماز اور خطبہ نہیں ہے۔ اس حدیث کی روایت نسائی، ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔