Sharik ibn Abdullah ibn Abi Namir reported that he heard Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) say: "A man entered through a door facing the pulpit on Friday while the Messenger of Allah (ﷺ) was delivering the sermon. He stood facing the Prophet (ﷺ) and said, 'O Messenger of Allah, the livestock are perishing, and the roads are cut off. Pray to Allah to send us rain.' The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands 3 and said, 'O Allah, send us rain. O Allah, send us rain. O Allah, send us rain.' Anas said, 'By Allah, we did not see any cloud or trace of rain in the sky, and there were no houses or buildings between us and Mount Sal’.' Then a cloud appeared like a shield, and when it reached the middle of the sky, it spread and began to rain. By Allah, we did not see the sun for a week. The following Friday, a man entered through the same door while the Messenger of Allah (ﷺ) was delivering the sermon. He stood facing him and said, 'O Messenger of Allah, the wealth is destroyed, and the roads are cut off. Pray to Allah to withhold the rain.' The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands and said, 'O Allah, around us and not upon us. O Allah, upon the hills, mountains, valleys, and places where trees grow.' The rain stopped, and we walked out in the sunshine." Sharik asked Anas, "Was it the same man?" He replied, "I do not know."
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ انس بن مالک
رضی اللہ عنہ کو یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے سنے ہیں، انس بن مالک فرماتے ہیں کہ (بارش نہ ہونے
سے لوگ بہت پریشان تھے ایسے موقع پر) جمعہ کے دن ایک صاحب منبر کے سامنے والے دروازے
سے مسجد نبوی میں داخل ہوئے اس وقت حضور منبر پر کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، یہ آنے والے
صاحب حضور کے طرف رخ کر کے کھڑے ہوگئے اور عرض کئے: یا رسول اللہ (بارش نہ آنے سے جو
قحط پڑا ہے اس کی وجہ سے) مویشی ہلاک ہوگئے (اور اونٹوں کے مرنے کی وجہ سے) آمد و رفت کے
ذرائع کم ہوگئے اس لئے راستے بند پڑے ہیں آپ دعاء کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر بارش برسائے (یہ
سنتے ہی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مبارک ہاتھوں کو اٹھا کر دعاء کئے:۔
اَللّٰهُمَّ اسْقِنَا الٰہی ہم پر بارش برسائیے۔ اَللّٰهُمَّ اسْقِنَا الٰہی ہم پر بارش برسائیے۔
اَللّٰهُمَّ اسْقِنَا الٰہی ہم پر بارش برسائیے
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم (حضور کے دعاء فرمانے سے پہلے) بارش کے کوئی
آثار ظاہر نہ تھے، نہ تو ابر گھرا ہوا تھا نہ ابر کے ٹکڑے اِدھر اُدھر پھر رہے تھے بلکہ آسمان بالکل صاف
تھا، کوہ سلع تک ہماری نظر پہنچ رہی تھی، ہمارے اور کوہ سلع کے درمیان میں نہ کوئی مکان تھا اور نہ
کوئی عمارت، کوہ سلع اور اس کے پیچھے کا حصہ ہم کو صاف نظر آ رہا تھا اور کہیں ابر کا پتہ نہیں تھا
(حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرماتے ہیں) کو سلع کے پیچھے سے ابر کا چھوٹا ٹکڑا مثل ڈھال
کے اٹھا (اور ہم کو دکھائی دیا، دیکھتے ہی دیکھتے تمام آسمان پر پھیل گیا اور برسنا شروع کیا اور خوب
بارش ہونے لگی اور اتنی بارش ہوتی رہی کہ بخدا ایک ہفتہ تک سورج نظر نہ آیا (اسی طرح پورا ہفتہ گزر
گیا اور دوبارہ جمعہ کا دن آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے جمعہ کا خطبہ ارشاد
فرما رہے تھے کہ ایسے میں ایک صاحب اسی دروازے سے مسجد میں داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کرنے لگے: یا رسول اللہ (کثرت بارش سے) مویشی
تباہ ہوگئے اور راستے بھی بند ہوگئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اب ہم پر بارش نہ ہو (جہاں
ضرورت ہو وہاں بارش ہو) حضرت انس فرمائے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مبارک
ہاتھوں کو اٹھائے پھر دعا فرمانے لگے:
الٰہی ہمارے آس پاس بارش ہو، ہم پر نہ ہو۔ الٰہی ٹیلوں، پہاڑوں، پہاڑیوں اور نالوں پر اور
جہاں درخت پیدا ہوتے ہیں ان مقامات پر پانی برسائیے۔
حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعا فرمانا ہی تھا کہ ابر چھٹ گیا
(بارش ختم ہوگئی) اور جب ہم (مسجد سے واپس ہوئے) ہم دھوپ میں چلتے ہوئے واپس ہوئے۔
شریک جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے دریافت کیا کہ یہ
بعد میں آنے والے صاحب جو بارش کے بند ہونے کی دعا کو کروائے کیا وہی صاحب تھے جو بارش
ہونے کی دعا کو کروائے تھے؟ تو انس رضی اللہ عنہ فرمائے کہ: مجھے اس کا علم نہیں ہے۔ اس کی روایت
بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
And the saying of Allah, the Almighty: "Ask forgiveness of your Lord. Indeed, He is ever a Perpetual Forgiver. He will send [rain from] the sky upon you in [continuing] showers." (1) (Qur’an 71:10-11)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1013 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 897a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Chapter-heading commentary
He will send [rain].
(1) The statement: "He will send [rain]." The descent of rain is linked to seeking forgiveness, not to the prayer for rain. Therefore, the original practice is supplication and humility, not a specific prayer. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.
(2) These hadiths and narrations all testify to Abu Hanifah’s view that the prayer for rain (Istisqa) is based on supplication and seeking forgiveness, not a formal prayer.
Note 3
He raised his hands.
(3) The statement: "He raised his hands." This indicates that there was no turning of the cloak or facing a specific direction. It is clear evidence for Abu Hanifah that the prayer for rain is based on supplication and seeking forgiveness, not a formal prayer. This is mentioned by Al-‘Allamah Al-‘Ayni in ‘Umdat al-Qari.
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله: يرسل: علق نزول الغيث بالاستغفار لا بالصلاة، فكان الأصل فيه الدعاء والتضرع دون الصلاة. قاله في عمدة القاري».
قوله
(۲) قوله: فصل إلخ : فهذه الأحاديث والآثار كلها تشهد لأبي حنيفة أن الاستسقاء استغفار ودعاء.
Note 3
قوله
(۳) قوله: فرفع فيه: لا تحويل ولا استقبال، وفيه حجة واضحة لأبي حنيفة أن الاستسقاء دعاء واستغفار، ولا صلاة فيه. قاله العلامة العيني في عمدة القاري.
Shurahbil ibn al-Samt reported that he said to Ka’b ibn Murrah, "O Ka’b ibn Murrah, tell us about the Messenger of Allah (ﷺ), but be careful." Ka’b said: "A man came to the Prophet (ﷺ) and said, 'O Messenger of Allah, pray to Allah for rain.' The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands and said, 'O Allah, send us beneficial, nourishing, abundant, and timely rain that is not harmful.' The people had not even gathered when the rain came. They came to him and complained about the rain, saying, 'O Messenger of Allah, the houses are collapsing.' He said, 'O Allah, around us and not upon us.' The clouds dispersed to the right and left."
شرحبیل بن السمط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کعب بن مرّہ رضی
اللہ عنہ سے کہا: اے کعب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہم کو کوئی حدیث سنائیے (آج کل
لوگ موضوع حدیثیں سنا رہے ہیں) آپ بہت احتیاط سے وہی الفاظ سنائیے جو حضرت سے آپ
سنے ہیں، حضرت کعب فرمائے (میں وہی الفاظ سناتا ہوں جو میں نے حضور سے سنے ہیں، ایک دفعہ
کا واقعہ ہے کہ بارش رک گئی تھی لوگ بہت پریشان تھے ایسے موقع میں) ایک صاحب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کئے: یا رسول اللہ بارش نہ ہونے سے لوگ
بہت پریشان ہیں) آپ بارش آنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاء فرمائیے! یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم دعاء کے لئے اپنے دونوں مبارک ہاتھوں کو اٹھائے اور یہ دعاء فرمانے لگے: اَللّٰهُمَّ
اے اللہ! ہم پر ایسی بارش برسائیے جس سے ہم کو فائدہ ہی فائدہ ہو، کوئی ضرر نہ ہو، الٰہی ایسی
بارش برسائیے جس سے ہر طرف سرسبزی ہی سرسبزی ہو جائے اور ایسی بارش ہو (جو حسب ضرورت
ہوتی رہے ایسا نہ ہو کہ ضرورت پر پھر رک جائے) اب دیر نہ کیجئے جلدی سے بارش برسائیے اس سے
زیادہ انتظار نہ کروائیے۔
حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (یہ جمعہ کا واقعہ ہے) حضور دعاء کرنے کے بعد لوگ
ابھی جمعہ کی نماز سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ کثرت سے بارش ہونے لگی (اور دوسرے جمعہ تک
بارش ہوتی رہی) پھر لوگ حضور کی خدمت مبارک میں حاضر ہوئے اور کثرت بارش کی شکایت کرتے
ہوئے عرض کئے: حضور (اس کثرت سے بارش ہوئی ہے کہ) مکانات گرنے لگے ہیں پھر حضور دعاء
کرنے لگے: اَللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا۔
الٰہی! ہمارے آس پاس (جہاں ضرورت ہو وہاں) بارش ہو (ہم کو اب ضرورت نہیں رہی ہے
اس لئے اب) ہم پر بارش نہ ہو۔
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور یہ دعا فرماتے ہی ہم دیکھ رہے تھے کہ ابر چھٹ گیا ہے اور
آبادی کے سیدھے جانب یا بائیں جانب چلا جا رہا ہے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) supplicating, saying, 'O Allah, send us abundant, nourishing, beneficial, and timely rain that is not harmful.' The sky was filled with clouds, and it rained."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ بارش رک گئی
تھی اور بارش نہ ہونے سے لوگ بہت پریشان تھے ایسے وقت) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
دیکھا کہ آپ اپنے مبارک ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے یہ دعا فرما رہے تھے۔ (مرقات میں بھی ایسے ہی
اے اللہ! ہم پر ایسی بارش برسائیے جو قحط دور کرنے میں ہمارے امداد کرے اور جس سے ہم کو
فائدہ ہی فائدہ ہو کوئی ضرر نہ ہو، الٰہی ایسی بارش برسائیے جس سے چوطرف سرسبزی ہی سرسبزی
ہو جائے، اب دیر نہ کیجئے جلدی سے بارش برسائیے اس سے زیادہ انتظار نہ کروائیے۔
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ دعا فرماتے ہی ہم کیا
دیکھتے ہیں کہ ابر اٹھا اور ہمارے چوطرف چھا گیا۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Umayr, the freed slave of Abi al-Lahm, reported: "I saw the Prophet (ﷺ) praying for rain near the stones of Zayt, close to Az-Zawra. He stood supplicating for rain, raising his hands to the level of his face, not above his head." [Narrated by Abu Dawud]
Tirmidhi and Nasa’i narrated something similar.
عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مقام زوراء کے قریب
احجار الزیت ہے اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھڑے ہوئے استسقاء کی دعا فرماتے
ہوئے میں دیکھا ہوں آپ اس طرح دعا فرما رہے تھے کہ (حسب عادت) آپ کے دونوں دست
مبارک سینہ کے مقابل تھے۔ اور دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں حضور کے چہرے کے سامنے تھیں اور
ہاتھوں کی پشت زمین کی طرف تھی اور میں نے بہت غور سے دیکھا ہے کہ آپ کے دونوں دست
مبارک (دعاء کے وقت) سر سے اونچے اٹھے ہوئے نہیں تھے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے
اور ترمذی اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Amr ibn Shu’ayb reported from his father, who reported from his grandfather (may Allah be pleased with him): "When the Prophet (ﷺ) prayed for rain, he would say, 'O Allah, provide water for Your servants and animals, spread Your mercy, and revive Your dead land.'" [Narrated by Malik and Abu Dawud]
Al-Bayhaqi and Al-Tabarani narrated something similar.
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے فرمایا کہ (بارش جب رک جاتی تھی تو بارش آنے کے لئے) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے: اللّٰهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَبَهِيْمَتَكَ وَانْشُرْ
الٰہی آپ کے بندے اور جانور آپ کی رحمت کے منتظر ہیں اس سے زیادہ ان کو انتظار نہ
کرائیے آپ کی رحمت کا صدقہ) ان پر بارش برسائیے (آپ کی رحمت سب پر عام کیجئے جس کا یہ
نتیجہ ہو کہ چوطرف سرسبزی ہو جائے (کھیت ہرے بھرے ہو جائیں اور جانوروں کو چارہ ملنے لگے
بارش سے) مردہ شہروں کو زندہ کیجئے یعنی چوطرف زمینیں جو خشک ہوگئی ہیں ان پر بارش برسائیے جس
سے یہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگیں۔
اس کی روایت امام مالک اور ابوداؤد نے کی ہے اور بیہقی اور طبرانی نے بھی اسی طرح روایت
کی ہے۔
Ata’ ibn Abi Marwan al-Aslami reported from his father: "We went out with Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) to pray for rain, and he did nothing more than seek forgiveness." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
Sa’id ibn Mansur narrated something similar in his Sunan with a good chain.
عطاء بن ابی مروان اسلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان
کے والد کہتے ہیں کہ (حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک دفعہ بارش رک گئی تھی
لوگ پریشان تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بارش آنے کے لئے دعا کرنے شہر سے باہر نکلے) ہم بھی
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے (مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بارش آنے کے لئے) حضرت عمر
رضی اللہ عنہ (نماز استسقاء نہیں پڑھے تھے) صرف دعائے استغفار پر اکتفاء فرماتے تھے۔ اس کی
روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور سعید بن منصور نے بھی اپنی سنن میں جید سند کے ساتھ اسی طرح
اس کی روایت کی ہے۔
Ibrahim reported: "He went out with Al-Mughirah ibn Abdullah al-Thaqafi to pray for rain. Al-Mughirah prayed, but Ibrahim returned when he saw him praying."
ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ واقعہ صحیح سند سے روایت کیا گیا ہے کہ (آپ
کے زمانہ میں ایک وقت بارش رک گئی تھی لوگ پریشان تھے) پانی آنے کی دعا کرنے کے لئے آپ
مغیرہ بن عبداللہ ثقفی کے ساتھ (شہر سے باہر جنگل میں تشریف لے گئے تھے وہاں جا کر) مغیرہ بن
عبداللہ ثقفی نماز استسقاء پڑھنا شروع کئے جب حضرت ابراہیم نخعی دیکھے کہ مغیرہ نماز استسقاء پڑھنا
شروع کئے تو آپ (نماز میں شریک ہوئے بغیر اس وجہ سے) واپس ہوئے (کہ پانی آنے کے لئے
صرف دعاء اور استغفار سنت ہے، نماز پڑھنا سنت نہیں ہے، جب مغیرہ سنت کے خلاف کئے تو
حضرت ابراہیم نخعی سنت کے خلاف کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکے اور واپس ہوگئے۔) اس کی روایت
ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: "A man complained to the Prophet (ﷺ) about the destruction of wealth and the hardship of his family. The Prophet (ﷺ) supplicated to Allah for rain, but he did not turn his cloak or face the qiblah."
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (بارش رک
جانے سے قحط کے آثار ظاہر ہو رہے تھے ایسے وقت) ایک صاحب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
خدمت میں حاضر ہو کر عرض کئے: یا رسول اللہ بارش رک جانے سے مال یعنی اونٹ (جیسا کہ تاج
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1018 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
العرف میں مذکور ہے کہ عرب میں مال سے مراد بالعموم اونٹ لئے جاتے ہیں۔12) (جن پر عرب
کی زندگی کا دارومدار ہے) ہلاک ہو رہے ہیں، اہل و عیال سخت تکلیف میں ہیں (حضور بارش کے
لئے دعا فرمائیں) یہ سن کر بارش آنے کے لئے حضور دعا فرمائے۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرت انس اس حدیث میں (دعاء استسقاء کے وقت) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم استقبال قبلہ اور چادر الٹنے کا ذکر نہیں کئے اس سے معلوم ہوا کہ استقبال قبلہ اور چادر الٹنا
دعائے استسقاء کے وقت سنت نہیں ہے، اگر یہ دونوں سنت ہوتے تو حضرت انس ان دونوں باتوں کا
ضرور ذکر فرماتے، اسی لئے امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ چادر الٹنا دعائے استسقاء میں
سنت نہیں ہے اگرچہ کہ بعض حدیثوں میں استسقاء میں چادر الٹنے کا ذکر ہے، اگر چادر الٹنا سنت ہوتا تو
سب حدیثوں میں اس کا ذکر آتا، بعض حدیثوں میں چادر الٹنے کا ذکر ہونا اور بعض میں نہ ہونا
استسقاء میں چادر الٹنے کے سنت ہونے پر دلالت نہیں کرتا، اب رہا استقبال قبلہ یعنی دعائے استسقاء
کے وقت قبلہ رو ہونا تو اس بارے میں عمدة القاری میں لکھا ہے کہ اگر دعائے استسقاء آبادی میں ہو
رہی ہو تو استقبال قبلہ اور چادر الٹنا دونوں دعائے استسقاء کے وقت متفقہ طور پر ثابت نہیں ہیں، اگر
صحرا میں آبادی کے باہر دعائے استسقاء ہو رہی ہو تو چادر الٹنا اور استقبال قبلہ صاحبین کے پاس سنت
ہے، (جیسا کہ رد المحتار میں مذکور ہے۔12) مقتدی طویل رواء نہ کریں صرف قبلہ رو ہو کر بیٹھیں اور
دعاء کے وقت آمین کہتے رہیں، اور امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ سے صحرا میں دعائے استسقاء کرتے
وقت قبلہ رو ہونے کے متعلق باوجود تحقیق کے کوئی روایت نہیں ملی۔) اس حدیث کی روایت بخاری
اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed for rain and turned his cloak, hoping that the drought would turn into abundance." 1 [Narrated by Al-Hakim in Al-Mustadrak]
Al-Hakim said: "This is a hadith with an authentic chain, but Bukhari and Muslim did not include it."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم (ایک وقت بارش آنے کے لئے دعائے استسقاء فرمائے تھے) اور دعائے استسقاء کے وقت
اپنی چادر مبارک اس طرح الٹے تھے (کہ اپنے دونوں ہاتھ پیٹھ کی طرف لے جا کر چادر مبارک جو
پشت پر لگّی ہوئی تھی بائیں ہاتھ سے چادر کے نیچے کے سیدھے کنارے کو پکڑے اور سیدھے ہاتھ
سے چادر کے نیچے کے بائیں کنارے کو پکڑے اور چادر کے اوپر کے کناروں کو پیٹھ کی طرف سے ہی
نیچے کر کے نیچے کے کناروں کو اوپر لائے جس سے چادر کا ہر جز ء الٹ گیا، اندر کا حصہ باہر آ گیا اور
باہر کا حصہ اندر چلا گیا، سیدھے طرف کا حصہ بائیں طرف آ گیا اور بائیں طرف کا حصہ سیدھے طرف
آ گیا، اور نچلا حصہ اوپر آ گیا اور اوپر کا حصہ نیچے آ گیا، یہ سارا عمل ایک ہی حرکت میں ادا کیا گیا
،اس سے عملی طور پر یہ بتانا مقصود تھا کہ الٰہی ہماری حالت میں قحط کی وجہ سے بہت بڑا انقلاب آ گیا
ہے جیسے میں چادر کے ہر جز ء کو الٹایا ہوں ویسے ہی ہماری ہر حالت میں انقلاب پیدا کر کے قحط سالی
دور فرمائیے، خوشحالی پیدا کر دیجئے)
(1) The statement: "Hoping that the drought would turn." In Al-Hidayah, it is said: "This was an act of optimism." Ibn al-Humam said: "This acknowledges the act but denies its establishment as a Sunnah, as it was done for a reason unrelated to worship. Allah knows best."
In Al-Mirqat, it is said: "The turning of the cloak was an act of optimism, as explicitly mentioned in Al-Mustadrak from the hadith of Jabir, which Al-Hakim declared authentic. He said, 'He turned his cloak so that the drought would turn into abundance.' In Tawalat al-Tabarani, it is narrated from Anas: 'He turned his cloak so that the drought would turn into fertility.'"
Note 1
قوله
(۱) قوله: ليتحول وقال في «الهداية»: وما رواه كان تفاؤلا . قال ابن الهمام: اعتراف برايته ومنع استنانه؛ لأنه فعل لأمر لا يرجع إلى معنى العبادة، والله أعلم. ثم قال: واعلم أن كون التحويل كان تفاؤلا، جاء مصرحا به في المستدرك» من حديث جابر، وصححه، قال: وحوّل رداءه؛ لتحول القحط. وفي طوالات الطبراني من حديث أنس: وقلب رداءه؛ لكي ينقلب القحط إلى الخصب. قاله في «المرقاة».
Note 1
اس حدیث میں چادر الٹنے کی وجہ یہ بتلائی گئی ہے کہ جس طرح چادر کا ہر جز ء الٹا گیا ہے اسی
طرح موجودہ حالت میں انقلاب ہو کر بجائے قحط کے خوشحالی آ جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چادر
الٹنا دعائے استسقاء کے وقت سنت اور عبادت نہیں ہے بلکہ یہ عرض کرنا ہے کہ الٰہی ہماری حالت میں
انقلاب پیدا کر کے خوشحالی لائیے، اس سے محض فال نیک لینا مقصود تھا نہ کہ حضور کا چادر الٹنے کو سنت
اور عبادت بنانے کا ارادہ تھا، اس لئے ہر حدیث میں دعاء استسقاء کے وقت چادر الٹنے کا ذکر نہیں
ہے، یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ دعائے استسقاء کے وقت چادر الٹنے کو سنت ہونا نہیں
فرمائے ہیں۔ اس حدیث کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث
کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اور صحیح ہے، اگرچیکہ انہوں نے اپنی اپنی کتابوں میں اس
حدیث کی روایت نہیں کی ہے۔
Hisham ibn Ishaq ibn Abdullah ibn Kinanah reported from his father: "I asked Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) about the Prophet’s (ﷺ) prayer for rain. He said, 'The Messenger of Allah (ﷺ) went out in a humble state, wearing simple clothes, and sat on the pulpit. He did not deliver a sermon like yours, but he continuously supplicated, humbled himself, and said the takbir. He prayed two rak’ahs as he prayed on Eid.'" [Narrated by Nasa’i, Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]
Tirmidhi said: "This is a Hasan Sahih Hadith."
ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان
کے والد اسحاق بن عبداللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا (لوگوں
میں یہ مشہور ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز استسقاء بھی پڑھائے ہیں) اب آپ بیان
فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز استسقاء کیسی تھی؟ تو حضرت ابن عباس فرمائے
(سنو ایک مرتبہ بارش رک گئی تھی قحط سالی کے آثار ظاہر ہو رہے تھے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم (دعاء کے لئے) نکلے اور عیدگاہ کی طرف چلے (اس وقت آپ کی جو حالت تھی کیا کہوں بجائے
زینت کے کپڑوں کے بعجز و انکساری ظاہر کرنے کے لئے) بہت معمولی پرانے کپڑے پہنے ہوئے
تواضع کے ساتھ گڑگڑاتے ہوئے (عیدگاہ میں تشریف لائے آتے ہی) منبر پر بیٹھ گئے، تمہارے
خطبہ کی طرح وہ خطبہ نہیں تھا بلکہ دعاء تھی جو آپ نے اس وقت فرمائی (اگر خطبہ ہوتا تو کھڑے ہو کر
خطبہ دیتے اس لئے کہ بیٹھ کر خطبہ دینے کی عادت شریفہ نہیں تھی بلکہ یہ دعاء تھی جو آپ اس وقت
بہت گڑگڑاتے ہوئے آہ و زاری کے ساتھ کر رہے تھے اور ’’اللہ اکبر‘‘ فرماتے جا رہے تھے اس کے
بعد آپ دو رکعت نماز عیدین کی نماز کی طرح اداء فرمائے (یہاں نماز عید سے تشبیہ صرف دو رکعت
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
نماز پڑھنے میں ہے، تکبیرات عیدین کہنے میں نہیں ہے، اس لئے طبرانی کی روایت میں آیا ہے صلاۃ
استسقاء میں صلاۃ عید کی طرح زائد تکبیرات نہیں کہے گئے، اب رہی یہ نماز تو یہ استسقاء نہیں تھی، اگر
نماز استسقاء ہوتی تو پہلے نماز استسقاء پڑھی جاتی اور بعد خطبہ یا دعاء کی جاتی، جیسا کہ صاحبین اور امام
شافعی رحمۃ اللہ علیہم سے ایسا ہی مروی ہے، اس حدیث میں پہلے دعاء کی گئی ہے اور بعد نماز پڑھی
گئی، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی دعاء مقبول ہوگئی۔ دوسرے حدیثوں سے معلوم ہوا کہ دعاء کے ساتھ
ہی ابر اٹھا اور آثار بارش کے شروع ہوگئے تھے، اس کا شکریہ آپ دو رکعت پڑھ کر اداء فرمائے، اسی
لئے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ استسقاء کے لئے صرف دعاء ہے نماز اور خطبہ نہیں ہے۔
اس حدیث کی روایت نسائی، ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث
حسن صحیح ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) did not raise his hands in any supplication except during the prayer for rain, when he would raise them so high that the whiteness of his armpits could be seen."
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (یوں تو حضرت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک یہ تھی کہ دعاء کے وقت سینے کے مقابل اپنے دونوں ہاتھوں
کو رکھتے تھے کبھی یہ نہیں دیکھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے کے
سینے سے اوپر اور چہرے کے سامنے اس طرح اٹھائے ہوں کہ جس سے بغلوں کی سفیدی نظر آئے
مگر، استسقاء کی دعاء کے وقت (نہایت الحاح و زاری کرتے ہوئے) ہاتھوں کو سینوں سے اونچا
کر کے چہرہ کے مقابل ایسا پھیلائے تھے کہ مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی) (اور اس وقت
چادر مبارک کاندھوں سے ہٹی ہوئی تھی اسی واسطے حضرت عمیر رضی اللہ عنہ اپنی حدیث میں بیان
کرتے ہیں کہ حضور کے ہاتھوں کو کسی دعاء کے وقت سر سے اونچا کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، صدر
کی یہ حدیث جو حضرت انس سے مروی ہے اس میں بھی یہی بتلایا گیا ہے کہ ہاتھ دعاء کے وقت سر
سے اونچے نہیں ہوتے تھے بلکہ ہاتھوں کو دراز کر کے چہرے کے مقابل لا کر پھیلا لیتے تھے جس سے
بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) prayed for rain and pointed the backs of his hands toward the sky." [Narrated by Muslim]
Section: 1
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 896 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
The prayer is not prescribed,
(1) The response to the hadiths mentioning prayer is that the Prophet (ﷺ) performed it on one occasion and omitted it on another. This does not indicate that it is a Sunnah but rather that it is permissible. Therefore, Abu Hanifah did not say, "The prayer is not prescribed," but rather, "It is not a Sunnah." This is mentioned by Al-‘Allamah Al-‘Ayni in ‘Umdat al-Qari.
Abdullah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) went out with the people to the prayer ground to pray for rain. He led them in two rak’ahs, reciting aloud in them, faced the qiblah, supplicated, raised his hands, and turned his cloak when he faced the qiblah."
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (بارش رک
جانے کی وجہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش آنے کی دعا کرنے کے لئے صحابہ کرام کو
لے کر عیدگاہ تشریف لے گئے (وہاں پہنچ کر) حضور دو رکعت نماز پڑھائے اور دونوں رکعتوں میں
جہری قرأت فرمائے (نماز کے بعد) قبلہ کی طرف رخ کر کے اپنی چادر مبارک کو (ایک ہی حرکت
میں اس طرح) الٹے (جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے) پھر دعاء کے لئے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر دعاء
فرمائے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1024 (unverified) 93% confidence
Candidate: Sahih Muslim 894b (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله: فصل: والجواب عن هذه الأحاديث التي فيها الصلاة أنه الله فعلها مرَّةً وتركها أخرى، وذا لا يدل على السنية، وإنما يدل على الجواز. فلذا أبو حنيفة لم يقل: «إن الصلاة فيه غير مشروعة، بل يقول: «إنها ليست بسنة» كذا قال العلامة العيني في عمدة القاري».
Abdullah ibn Abi Bakr reported that he heard Abbad ibn Tamim narrate from his uncle (may Allah be pleased with him): "The Prophet (ﷺ) went out to the prayer ground to pray for rain, faced the qiblah, prayed two rak’ahs, and turned his cloak."
عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ عباد بن تمیم رضی اللہ عنہ سے
روایت کرتے ہیں کہ عباد بن تمیم کے چچا (عبداللہ بن زیدؓ) فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ بارش رک
جانے کی وجہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش آنے کی دعا کرنے کے لئے عیدگاہ تشریف
لے گئے (وہاں پہنچ کر حضور قبلہ رو ہو کر دو رکعت نماز پڑھائے اور (نماز کے بعد) مذکور الصدر طریقہ
پر) چادر مبارک الٹ کر اوڑھ لئے (اور دعاء فرمائے۔) اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "People complained to the Messenger of Allah (ﷺ) about the lack of rain. He ordered a pulpit to be set up for him at the prayer ground and appointed a day for the people to gather. Aisha said, 'The Messenger of Allah (ﷺ) went out when the sun’s edge appeared, sat on the pulpit, said the takbir, praised Allah, and then said, "You have complained of drought in your lands and the delay of rain beyond its usual time. Allah has commanded you 2 to supplicate to Him and has promised to respond to you."
Then he said, "All praise is due to Allah, the Lord of the worlds, the Most Merciful, the Especially Merciful, the Master of the Day of Judgment. There is no god but Allah, who does what He wills. O Allah, You are Allah; there is no god but You. You are the Rich, and we are the poor. Send down rain upon us and make what You send down a strength and provision for us until a time." He raised his hands and kept them raised until the whiteness of his armpits became visible. Then he turned his back to the people and turned his cloak while they raised their hands.
He then faced the people, descended, and prayed two rak’ahs. Allah created a cloud that thundered and flashed with lightning, then it rained by Allah’s permission. Before he reached the mosque, the valleys were flowing with water. When he saw how quickly they ran for shelter, he smiled until his molars became visible and said, "I bear witness that Allah has power over all things, and I am His servant and Messenger."'" [Narrated by Abu Dawud]
Shaykh Ibn al-Humam said: "It is a Gharib Hadith with a Hasan chain."
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں
کہ (ایک مرتبہ) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بارش
رک جانے کی شکایت کی (اور اپنی پریشانی کا اظہار کئے) تو آپ نے عیدگاہ میں منبر رکھنے کا حکم فرمایا
اور حسب الحکم منبر رکھ دیا گیا (یہ ایک وقت کا واقعہ ہے جو مثل منسوخ کے ہو گیا، پھر کبھی عیدگاہ میں عید
کے خطبہ کے لئے یا استسقاء کے خطبہ کے لئے منبر نہیں رکھا گیا اسی وجہ سے جب مروان عید کے خطبہ
کے لئے عیدگاہ میں منبر بنایا تو حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ مروان کی سخت مخالفت کئے (راوی کہتے
ہیں کہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن مقرر فرمائے اور سب کو اس دن عیدگاہ میں حاضر ہونے
کا حکم ہوا، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (جب وہ مقررہ دن آیا) تو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آفتاب نکل رہا تھا کہ عیدگاہ تشریف لائے اور منبر پر بیٹھ گئے اور اللہ اکبر فرما کر
اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان فرمائے اس کے بعد ارشاد ہوا، لوگو! تم نے قحط سالی اور بارش بروقت نہ ہونے
کی شکایت کی تھی (تم کو یاد نہیں کہ) اللہ تعالیٰ جب ضرورت ہو تو دعا ء کرنے کا حکم دئے ہیں اور
تمہاری دعاء قبول کرنے کا وعدہ فرمائے ہیں (تو تم سب خدا کی طرف متوجہ ہو کر بہت عاجزی اور
زاری سے بارش آنے کی گڑگڑا کر دعاء کرو، وہ کریم ہیں تمہاری دعاء قبول فرمائیں گے) پھر حضور اللہ
تعالیٰ سے عرض کرنے لگے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ○ اے اللہ ہر حال میں سب تعریف آپ ہی کے لئے ہے آپ
سارے عالم کے پرورش فرمانے والے ہیں (آپ ہمارے لئے بارش کو پرورش کا ذریعہ بنائے اور
بارش برسائیے۔)
الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ○ (آپ کی شان کیا کہوں) آپ کی رحمت عام ہے اور آپ اپنی مخلوق
پر ہمیشہ مہربان ہیں (آپ اپنی رحمت کے صدقے میں ہم پر مہربانی فرمائیے اور بارش برسائیے۔)
مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ○ آپ یوم حساب کے مالک ہیں (سب کے گناہ معاف کرنے والے
ہیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بارش رک گئی ہے ہمارے گناہ معاف کیجئے، ہم پر بارش
برسائیے۔)
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ ○ آپ کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں، آپ ہی ہمارے معبود
ہیں (آپ ہی ہمارے پالنے والے ہیں، آپ سے نہ مانگیں تو پھر کس سے مانگیں، اس لئے آپ
کے سامنے گڑگڑا کر ہم بارش آنے کی دعاء کر رہے ہیں۔) آپ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں (آپ کو
کوئی روکنے والا نہیں، آپ بارش برسانا چاہیں تو کوئی آپ کو روک نہیں سکتا۔
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَ نَحْنُ الْفُقَرَاءُ . اس لئے ہم پر بارش برسائیے
اور ہم کو قحط سے نجات دلائیے۔
اے اللہ آپ ہی اللہ ہیں آپ کے سوا کوئی معبود نہیں، آپ غنی ہیں ہم محتاج ہیں (اس لئے
آپ کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے بارش کی دعا کر رہے ہیں۔)
نہ کیجئے) بارش برسائیے (مگر ایسی بارش نہ ہو کہ وہ ہمارے لئے باعث ضرر ہو، بلکہ وہ بارش ایسی
برسائیے جو ہمارے لئے رزق کا ذریعہ بنے۔) اور ہم کو ہماری مقررہ مدت حیات تک نفع پہنچاتی
رہے۔
پھر (اس کے بعد حضور بحال الحاح و زاری کرتے ہوئے) اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرہ کے مقابل
اتنے اونچے کئے کہ جس سے آپ کے مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آرہی تھی، پھر لوگوں کی طرف پیٹھ
پلٹائے اور قبلہ رو ہوکر اپنی چادر مبارک (مذکور الصدر طریقہ پر) الٹ کر اوڑھ لئے اور اس وقت بھی
اپنے ہاتھوں کو ایسے ہی اٹھائے ہوئے تھے، آپ قبلہ رو تھے، پھر لوگوں کی طرف رخ کر کے منبر سے
نیچے اتر آئے اور دو رکعت نماز پڑھائے (اس حدیث میں نماز کے پہلے جو دعا کی گئی ہے وہ بیٹھے
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1173 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Allah has commanded you.
(2) The statement: "Allah has commanded you." Shaykh Ibn al-Humam said: "This speech is what is meant by the sermon, as some have said. Perhaps Imam Ahmad considered it Gharib or Mudtarib, as the sermon is mentioned before the prayer in the earlier narration of Abu Hurairah and after it in others." In Tabi’ al-Athar, it is said: "What is narrated about the sermon is metaphorically interpreted as supplication and remembrance."
Note 2
قوله
(٢) قوله: وقد أمركم: قال الشيخ ابن الهمام الخ: وذلك الكلام هو المراد بالخطبة كما قاله بعضهم. ولعل الإمام أحمد أعله بهذه الغرابة، أو بالاضطراب؛ فإن الخطبة فيه مذكورة قبل الصلاة فيما تقدم من حديث أبي هريرة بعدها وكذا في غيره انتهى. وفي تابع الآثار» وما روى من الخطبة يحمل على الدعاء والذكر مجازا.
Note 1
ہوئے دعا کی گئی ہے تو وہ خطبہ نہیں تھا، بلکہ صرف دعا ہی تھی اور یہاں نماز سے پہلے دعاء ہوئی ہے،
حضور کے استسقاء میں مختلف طریقے رہے ہیں، کبھی دعاء اور خطبہ پہلے اور نماز استسقاء بعد ہوئی ہے
اور کبھی نماز استسقاء پہلے اور خطبہ و دعاء بعد ہوئے ہیں مگر دعاء اور خطبہ نماز کے بعد ہونا اور نماز سے
پہلے ہونا یہ حضور کا آخری عمل ہے، اس لئے صاحبین فرماتے ہیں کہ استسقاء میں پہلے نماز ہونا چاہئے
اور خطبہ و دعاء بعد میں) راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے ایک ابر بھیجا جو گرجتا اور چمکتا ہوا
آیا اور اللہ کے حکم سے برسنے لگا، حضور عیدگاہ سے مسجد نبوی تشریف لانے نہ پائے تھے کہ نالے بہہ
نکلے حضور لوگوں کو دیکھے کہ لوگ بارش سے بچنے کے لئے سایہ کی طرف بھاگے آرہے ہیں یہ دیکھ کر
آپ اتنا ہنس پڑے کہ آپ کے دندان مبارک نظر آنے لگے (دعاء جلدی قبول ہونے اور بارش کے
آنے کو دیکھ کر) حضور فرمانے لگے الٰہی! بیشک آپ ایسی ہی قدرت والے ہیں (بہت جلدی سے
ہماری دعاء قبول فرما کر بارش بھیج کر ہم کو قحط سالی سے بچائے ہیں) اور یہ بھی میں کہتا ہوں کہ میں اللہ کا
بندہ اور اس کا رسول ہوں (اسی لئے اللہ تعالیٰ میری دعاء جلد قبول فرمائے۔) اس حدیث کی روایت
ابوداؤد نے کی ہے۔
Abdullah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) went out to the prayer ground to pray for rain. He turned his cloak when he faced the qiblah, placing the right side over his left shoulder and the left side over his right shoulder, then supplicated to Allah."
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (بارش رک
جانے سے بارش آنے کی دعاء کرنے کے لئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک دفعہ) عیدگاہ
تشریف لے گئے وہاں جا کر جب بارش آنے کے لئے دعاء کرنے کا ارادہ فرمائے تو اس وقت اپنی
چادر مبارک کو (اس طرح الٹے) کہ اپنے دونوں ہاتھ پیٹھ کی طرف لے جا کر چادر مبارک جو پشت پر
لٹکی ہوئی تھی بائیں ہاتھ سے چادر کے نیچے سے سیدھے کنارے کو پکڑے، سیدھے ہاتھ سے چادر
کے نیچے کے بائیں کنارے کو پکڑے اور چادر کے اوپر کے کناروں کو پیٹھ کے طرف سے ہی نیچے
گرا کر نیچے کے کناروں کو اوپر لائے، جس سے چادر کا ہر جز الٹ گیا اندر کا حصہ باہر آ گیا اور باہر کا
حصہ اندر چلا گیا، سیدھے طرف کا حصہ بائیں طرف آ گیا اور بائیں طرف کا حصہ سیدھے طرف
آ گیا، نچلا حصہ اوپر آ گیا اور اوپر کا حصہ نیچے آ گیا، یہ سارا عمل ایک ہی حرکت میں ادا کیا گیا اس
کے بعد اللہ تعالیٰ سے بارش آنے کی دعاء فرمائے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Abdullah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed for rain while wearing a black cloak. He wanted to hold its lower edge, but when it became heavy, he flipped it over his shoulders."
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مربّع یمنی چوکونی سیاہ حاشیہ دار چادر اوڑھے ہوئے بارش آنے کے
لئے دعاء فرما رہے تھے (اثناء دعاء میں) آپ نے قصد فرمایا کہ (مذکور الصدر طریقے کے موافق)
چادر کو الٹ کر نیچے کے کنارہ کو اوپر لائیں مگر جب آپ کو اس میں کچھ دشواری معلوم ہوئی (اور ایسا نہ
الٹ سکے تو صرف) چادر کے اس کنارے کو جو سیدھے کندھے پر تھا پشت کی طرف سے ہی پلٹا کر
بائیں کندھے پر لائے اور چادر کا جو کنارہ بائیں کندھے پر تھا اس کو بھی اسی طرح پلٹا کر سیدھے
کندھے پر لائے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ دعاء استسقاء کے وقت چادر کے الٹنے کا یہ بھی ایک طریقہ
ہے) اس حدیث کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) went out to pray for rain in a humble state, showing humility, reverence, and supplication."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ بارش
رک گئی تھی) بارش آنے کی دعاء کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عیدگاہ کی طرف)
چلے کیا کہوں اس وقت آپ کی کیا حالت تھی (عجز و انکساری ظاہر کرنے کے لئے) معمولی پرانے کپڑے
پہنے ہوئے تھے، ظاہری حالت آپ کی ایسی تھی کہ جس سے آپ کا احتیاج ظاہر ہو رہا تھا اور باطن میں
دل کی بھی وہی خشوع و خضوع کی حالت تھی اور زبان مبارک سے گڑگڑاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے مبارک
نام کو لے رہے تھے۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, 'A prophet went out with his people to pray for rain. He saw an ant lifting some of its legs toward the sky, so he said, "Return, for you have been answered because of this ant."'"
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انبیاء میں سے ایک نبی نے (یعنی حضرت
سلیمان علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ایک مرتبہ بارش رک گئی تھی تو حضرت سلیمان علیہ الصلوٰۃ
والسلام) لوگوں کو لے کر بارش آنے کی دعا کرنے کے لئے جنگل کی طرف نکلے (اثنائے راہ) ایک
چیونٹی پر آپ کی نظر پڑی، آپ دیکھے کہ وہ اپنے سامنے کے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھائے
ہوئے (بارش آنے کے لئے) دعاء کر رہی ہے اور کہہ رہی ہے الٰہی! آپ کے تمام مخلوقات میں سے
ہم بھی ایک مخلوق ہیں (بنی آدم کے گناہوں کی وجہ سے آپ بارش کو روک دئے ہیں، اس وجہ سے ہم
بھی ہلاک ہو رہے ہیں، ہمارے لئے بارش بھیج دیجئے اور بنی آدم کے گناہوں کی وجہ سے ہم کو ہلاک
مت کیجئے) تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے لوگوں سے فرمایا: واپس چلو، تمہارے لئے بھی اس
چیونٹی کی وجہ سے بارش آنے کی دعاء قبول ہوگئی ہے۔ اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش رکنے کی وجہ سے صحرا میں جا کر بارش آنے کی دعاء
فرماتے تھے اور جب دیکھتے تھے کہ دعاء قبول ہوگئی ہے اور بارش آ رہی ہے تو فرماتے تھے: ”اَللّٰهُمَّ
صَيِّبًا نَافِعًا“ الٰہی (آپ کا کیا شکر ادا کریں آپ ہماری دعاء قبول کئے اور بارش برسا رہے ہیں)
تو یہ بارش ہمارے لئے ضرر کا ذریعہ نہ بنے بلکہ اس بارش سے ہم کو نفع ہی نفع پہنچے۔ اس کی روایت
بخاری نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when it rained. He removed his garment so that the rain would fall on him. We asked, 'O Messenger of Allah, why did you do this?' He replied, 'Because it has just come from my Lord.'"
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے بارش ہونے لگی، میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے
سر مبارک اور پشت مبارک پر سے کپڑا ہٹائے ہیں اور بارش کو اپنے جسم مبارک پر لینے لگے ہیں، ہم
عرض کئے: حضور آپ اس طرح جسم مبارک سے کپڑا ہٹا کر بارش کیوں اپنے اوپر لئے؟ حضور ارشاد
فرمائے (کہ بارش عالم قدس سے عالم کثیف پر ہو رہی تھی، عالم قدس پر اللہ تعالیٰ کی خاص تجلیات
ہوتی رہتی ہیں، یہ بارش عالم قدس سے جب نکلی تو اللہ تعالیٰ کے خیر و برکات بھی لیتے ہوئے نکلی جب
یہ زمین پر گرتی ہے تو گنہگاروں کی وجہ سے وہ خیر و برکات ختم ہو جاتے ہیں، زمین پر گرنے سے پہلے
عالم قدس سے آنے والی بارش کو) اپنے جسم پر اس لئے لے رہا ہوں کہ اس سے عالم قدس کے خیر و
برکات مجھ کو حاصل ہو جائیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (6)
Chapter-heading commentary
(1) The statement: "He will send [rain]." The descent of rain is linked to seeking forgiveness, not to the prayer for rain. Therefore, the original practice is supplication and humility, not a specific prayer. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.
(2) These hadiths and narrations all testify to Abu Hanifah’s view that the prayer for rain (Istisqa) is based on supplication and seeking forgiveness, not a formal prayer.
Note 3
(3) The statement: "He raised his hands." This indicates that there was no turning of the cloak or facing a specific direction. It is clear evidence for Abu Hanifah that the prayer for rain is based on supplication and seeking forgiveness, not a formal prayer. This is mentioned by Al-‘Allamah Al-‘Ayni in ‘Umdat al-Qari.
Chapter-heading commentary
(۱) قوله: يرسل: علق نزول الغيث بالاستغفار لا بالصلاة، فكان الأصل فيه الدعاء والتضرع دون الصلاة. قاله في عمدة القاري».
(۲) قوله: فصل إلخ : فهذه الأحاديث والآثار كلها تشهد لأبي حنيفة أن الاستسقاء استغفار ودعاء.
Note 3
(۳) قوله: فرفع فيه: لا تحويل ولا استقبال، وفيه حجة واضحة لأبي حنيفة أن الاستسقاء دعاء واستغفار، ولا صلاة فيه. قاله العلامة العيني في عمدة القاري.