Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I was aided by the east wind, and the people of 'Ad were destroyed by the west wind."
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ (غزوہ خندق میں اس موقع پر) رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے باد صبا کے ذریعہ سے میری مدد فرمائی (جو
مسلمانوں کے لئے ذریعہ رحمت بنی جیسے) قوم عاد کے لئے (دبور جو مغرب کی طرف سے چل رہی
تھی) تباہی اور بربادی کا ذریعہ بنی۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) laugh so heartily that his uvula could be seen. He would only smile." She added: "Whenever he saw clouds or wind, a change could be noticed on his face."
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں
کہ میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قہقہہ مار کر آواز سے کھل کھلا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھی
کہ جس سے آپ کی پڑجیب دکھائی دیتی ہو (البتہ کبھی کبھی بعض موقعوں پر زیادہ سے زیادہ حضور اتنا
ہنستے ہیں کہ آپ کی کوچلیاں نظر آ جاتی تھیں) عموماً آپ مسکرایا کرتے تھے اور جب ابر اٹھتا تھا یا تیز
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4828 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 899b (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہوائیں چلتی تھیں تو آپ کے چہرہ مبارک پر خوف کے آثار ظاہر ہو جاتے تھے (آپ کے سامنے پہلی
قوموں کے حالات پیش نظر ہو جاتے تھے بعض قوموں پر ابر اٹھا ہے وہ خوش ہو رہے تھے کہ اس سے
بارش برسے گی بجائے بارش کے عذاب نازل ہوا، جب کبھی تیز ہوائیں چلتی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم پر ان قوموں کی حالت پیش نظر ہو جاتی تھی، جن پر ہواؤں سے عذاب آیا تھا، اللہ کا
جلال اور عظمت پیش نظر ہوتی تھی، کیا معلوم کہ یہ ابر اور ہواء کہیں عذاب کا ذریعہ نہ ہو جائیں، اس
لئے آپ پر خوف طاری ہوتا تھا، مسلمانو! مقدس اور معصوم نبی کی یہ حالت ہوتی تھی تو ہم گنہگاروں کو
کس قدر خوف ہونا چاہئے، ہماری یہ بے فکری اور اطمینان غفلت کا نتیجہ ہے جو اچھا نہیں ہے۔) اس
حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When a strong wind blew, the Prophet (ﷺ) would say: 'O Allah, I ask You for the good of this wind, the good of what it contains, and the good of what it is sent with. And I seek refuge in You from the evil of this wind, the evil of what it contains, and the evil of what it is sent with.' When the sky became cloudy, his color would change, and he would go in and out, and move back and forth. When it rained, his anxiety would be relieved. Aisha (may Allah be pleased with her) said: 'I asked him about it, and he said: 'O Aisha, perhaps it is as the people of 'Ad said: "When they saw it as a cloud approaching their valleys, they said, 'This is a cloud bringing us rain!'" (Qur'an 46:24). In another narration, he would say when he saw rain: 'Mercy.'"
4/2289-2290۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے
،آپ فرماتی ہیں کہ جب تیز آندھی چلتی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر خوف طاری ہو جاتا تھا رہ رہ کر
امت کا خیال آتا تھا کہ کہیں قوم عاد کی طرح ان پر یہ آندھی عذاب کا ذریعہ نہ بنے، اس وقت (بہت
پریشانی کے ساتھ نہایت عاجزی سے امت کا خیال کر کے) یہ دعا کرتے تھے:
الٰہی! (ہم کو مت دیکھئے آپ اپنی رحمت پر نظر کر کے اس آندھی کو ذریعہ خیر بنائیے (اور ہر چیز
میں خیر و شر ادا کرتے ہیں) ہم کو اس آندھی میں جو خیر ہے وہ پہنچائیے اگر آپ اس آندھی کو خیر کا
ذریعہ بنا کر بھیجے ہیں تو وہ خیر ہم کو پہنچائیے، الٰہی میں آپ سے اس آندھی کے شر سے پناہ مانگتا ہوں،
اس آندھی کے شر سے ہم کو بچائیے اور اس آندھی میں جو شر ہے اس سے بھی ہم کو بچائیے (اگر یہ
آندھی شر کا ذریعہ بنا کر بھیجی گئی ہے تو وہ شر ہم کو نہ پہنچے اور اس شر سے ہم کو بچائیے۔
یہ بھی ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ جب ابر چھا جاتا تھا اور بارش شروع نہ ہوتی تھی تو خوف سے
حضور کا چہرہ اتر جاتا تھا (خوف کی وجہ سے آپ کو قرار نہ ہوتا تھا، کبھی گھر میں آپ تشریف لے جاتے اور
کبھی باہر آتے اور کبھی ادھر آتے اور کبھی اُدھر جاتے اور جب بارش ہونے لگتی تو وہ خوف آپ سے
دور ہو جاتا تھا اور آپ سمجھتے تھے کہ یہ ابر اب ذریعہ عذاب نہیں ہے، حضور کا ابر کو دیکھ کر پریشان ہونا
اور بارش ہونے سے پریشانی کا دور ہونا، ام المؤمنین اس کا سبب حضور سے دریافت کئے، ام المؤمنین
سے یہ سن کر حضرت فرمائے سُنو عائشہ! ابر جب امڈا ہوا چلا آتا ہے تو خوف ہوتا ہے کہ کہیں یہ ابر
ویسا تو نہیں ہے جیسا قوم عاد پر آیا تھا، قوم عاد اس ابر کو دیکھ کر خوش ہو رہی تھی کہ یہ ابر بارش برسائے گا
خوشحالی ہوگی، افسوس ایسا نہ ہوا قوم عاد پر یہ ابر برسا نہیں، ان پر عذاب کا ذریعہ بنا، اس ابر میں سے
تیز ہوائیں نکلیں جو ان کو کئی کئی گز اٹھا کر پٹک رہی تھیں، اس طرح وہ ابر ان پر عذاب کا ذریعہ ہوا
سب ہلاک ہو گئے، اور ان کے مکان اجڑے پڑے تھے، عائشہ! یہ سارا منظر ابر کو دیکھتے ہی میرے
سامنے پیش ہو جاتا ہے، جب بارش ہو جاتی ہے تو عذاب آنے کا خوف نہیں رہتا ہے اور عذاب کا
اندیشہ مجھ سے زائل ہو جاتا ہے۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The wind is from the mercy of Allah. It brings mercy and punishment. So do not curse it, but ask Allah for its good, and seek refuge in Him from its evil.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے (کہ ہوا، بالذات نہ راحت کا سبب ہے نہ عذاب کا بلکہ)
ہوا اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے (اللہ تعالیٰ جو حکم دیتے ہیں اس کی تعمیل کرتی ہے اگر راحت کا حکم
دیتے ہیں تو) راحت پہنچاتی ہے اور (اگر عذاب کا حکم دیتے ہیں تو) عذاب کا ذریعہ بنتی ہے (اس
لئے اگر ہوا سے تم کو نقصان پہنچے تو اس کو برا بھلا نہ کہو (ہوا کو برا بولنے کی بجائے) اللہ تعالیٰ سے
ہوا کے ذریعہ راحت پہنچنے کا سوال کرو، اور ہوا کو تکلیف اور عذاب کا ذریعہ نہ بننے کے لئے اللہ سے
دعاء مانگو۔ اس کی روایت امام شافعی، ابو داؤد، اور ابن ماجہ نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت
دعوات کبیر میں کی ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that a man cursed the wind in the presence of the Prophet (ﷺ), so he said: "Do not curse the wind, for it is commanded. Whoever curses something that does not deserve it, the curse will return to him."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے (بیٹھا ہوا تھا اس کو ہوا سے کچھ تکلیف ہوئی تو اس نے) ہوا پر
لعنت بھیجی، تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرمائے دیکھو! ہوا پر لعنت نہیں کیا کرنا (ہوا کا
کیا قصور ہے) ہوا تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے، جو حکم اس کو ہوتا اس کی تعمیل کرتی ہے (یوں بھی
سوچو تو کوئی چیز لعنت کی مستحق تین وجہ سے ہوتی ہے: کفر کی وجہ سے، یا بدعت کی وجہ سے یا فسق
و فجور کی وجہ سے۔ یہ تینوں چیزیں ہوا میں نہیں ہیں، پھر ہوا پر لعنت کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟) یاد رکھو کہ
اگر کوئی شخص ایسی چیز پر لعنت کرتا ہے جو لعنت کی مستحق نہیں تو وہ لعنت خود اس لعنت کرنے والے پر
لوٹ جاتی ہے۔ (اس لئے کسی پر لعنت کریں تو سوچ سمجھ کر لعنت کیا کریں، بہتر تو یہ ہے کہ لعنت
کرنے کی عادت ہی نہ رکھے ورنہ خود پر لعنت لوٹ آئے گی۔) اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Ubayy ibn Ka'b (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not curse the wind. When you see something you dislike, say: 'O Allah, we ask You for the good of this wind, the good of what it contains, and the good of what it is commanded to do. And we seek refuge in You from the evil of this wind, the evil of what it contains, and the evil of what it is commanded to do.'"
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (لوگوں کی عادت ہے جب ہوا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہوا کو
سخت سست کہا کرتے ہیں مسلمانو! سنو! کبھی) ہوا کو برا نہ کہنا (اس میں ہوا کا کیا قصور ہے، ہوا تو اللہ
تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے، جو حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کرتی ہے) اگر تم ہوا سے کوئی ناگوار بات دیکھو
تو (اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو، اور بہت عاجزی سے) اللہ ہی سے دعا مانگو۔
الٰہی! ہم آپ ہی کے عاجز بندے ہیں! ہم کو اس ہوا سے خیر پہنچائیے (ہر چیز میں خیر و شر ہوا
کرتے ہیں) اس میں جو خیر ہے، ہم کو وہ پہنچائیے، اور اگر اس ہوا کو کسی شر کا حکم دیا گیا ہے تو اس کو خیر
کا حکم بنائیے اور خیر ہی بہو پہنچائیے، (الٰہی! ہم آپ کی پناہ میں آتے ہیں، اس چلتی ہوا کے شر سے
ہمیں بچائیے، اگر اس ہوا کو کسی شر کا حکم دیا گیا ہے تو آپ قادر ہیں، اس شر کو خیر سے بدلنے کی
قدرت رکھتے ہیں، ہم کو خیر ہی بہو پہنچائیے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "Whenever a wind blew, the Prophet (ﷺ) would fall to his knees and say: 'O Allah, make it a mercy and do not make it a punishment. O Allah, make it gentle winds and do not make it a destructive wind.' Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: 'In the Book of Allah, it is mentioned: "Indeed, We sent upon them a screaming wind" (Qur'an 54:19), "When We sent upon them the barren wind" (Qur'an 51:41), "And We send the fertilizing winds" (Qur'an 15:22), and "And of His signs is that He sends the winds as bringers of good tidings" (Qur'an 30:46).'"
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ کبھی آندھی چلتی تو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (پر بے حد خوف کی حالت طاری ہو جاتی تھی، اور خوف کی حالت امت کی تعلیم
کے لئے بھی ہوتی تھی کہ تم بھی تیز ہوا چلتے وقت ایسی ہی خوف زدہ حالت بناؤ جیسے کہ میں واقعی خوف زدہ
ہو جایا کرتا ہوں۔ آندھی اور تیز ہوا چلتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حالت دیکھنے کے قابل
ہوتی تھی، عجز و انکساری ظاہر کرنے کے لئے) دو زانو ہو کر بیٹھ جاتے تھے اور گڑگڑا کر یہ دعا فرماتے:
الٰہی (آپ بڑی قدرت والے ہیں، اگر آپ اس آندھی کو عذاب کا ذریعہ نہ بنا کر رحمت کا
ذریعہ بنائیں تو کوئی آپ کو روکنے والا نہیں ہے اس لئے ہم عرض کرتے ہیں کہ) اس آندھی سے
راحت اور آرام بھجوائیے اور اس آندھی سے تکلیف اور مصیبت نہ لائیے۔
اس کی روایت امام شافعی نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت دعوات کبیر میں کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the Prophet (ﷺ) saw a cloud forming in the sky, he would stop what he was doing, face it, and say: 'O Allah, I seek refuge in You from the evil of what it contains.' If it cleared away, he would praise Allah, and if it rained, he would say: 'O Allah, make it a beneficial rain.'"
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں
کہ جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان کے کنارے سے ابر اٹھتا دیکھتے تو (آپ پر ایسا
خوف طاری ہوتا تھا کہ) جو کام آپ اس وقت کر رہے ہوتے اس کو چھوڑ کر ابر کی طرف متوجہ
ہو جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعاء کرتے تھے۔ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَافِيهِ.
اے اللہ! (اور قوموں پر آپ ابر کے ذریعہ عذاب بھیجے ہیں، اگر اس ابر میں بھی کوئی شر ہے
تو) اس ابر کے شر سے ہم کو بچائیے۔
اگر ابر کھل جاتا تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے (کہ معلوم نہیں اس میں کیا شر تھا کہ جس
سے اللہ تعالیٰ نے ہم کو بچا لیا) اور بارش ہوتی تو یہ دعا کرتے: اَللّٰهُمَّ سَقْيًا نَافِعًا.
اے اللہ! (آپ بڑی قدرت والے ہیں جس چیز سے ضرر پہنچانا چاہتے ہیں اس سے ضرر
پہنچاتے ہیں، بعض قوموں کو بارش کی کثرت سے ضرر پہنچائے ہیں، اے اللہ! ہم پر جو یہ بارش
ہو رہی ہے) اس کو سیراب اور سرسبز کرنے والی نفع رساں بنائیے۔ اس کی روایت امام شافعی نے کی
ہے اور ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) would say when he heard the sound of thunder and lightning: "O Allah, do not kill us with Your anger, and do not destroy us with Your punishment. Grant us safety before that."
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب کبھی نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بجلی کی گرج اور گرنے والی بجلی کی طرح کڑک سنتے تو یہ دعاء فرماتے:
الٰہی! ہم آپ کے غضب سے پناہ مانگتے ہیں، بعضوں کو بجلی سے ہلاک کئے ہیں ہم کو اپنے
غضب سے (بجلی گرا کر قتل نہ کیجئے اور اس بجلی کو عذاب کا ذریعہ بنا کر ہم کو ہلاک نہ کیجئے اور (اگر آپ
کسی کو بجلی سے ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو) عذاب آنے سے پہلے ہم کو عافیت کی موت دیجئے۔
اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Abdullah ibn Al-Zubayr (may Allah be pleased with him) narrated that whenever he heard thunder, he would stop speaking and say: "Glory be to Him whom the thunder glorifies with His praise, and so do the angels out of fear of Him" (Qur'an 13:13).
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت کی گئی ہے کہ آپ کی یہ عادت مبارکہ
تھی کہ جب آپ بجلی کی کڑک سنتے (خوف زدہ ہوجاتے تھے اور) بات چیت چھوڑ دیتے تھے اور یہ
اللہ تعالیٰ تمام عیبوں سے پاک ہیں، رعد (نامی فرشتہ جو بادلوں پر مقرر کیا گیا ہے) وہ اللہ تعالیٰ
کی حمد کرتا ہے اور تسبیح اور تقدیس بیان کرتا ہے (بادلوں سے جو ہیبت ناک آواز آتی ہے وہ اسی فرشتہ
کی تسبیح اور تحمید کی آواز ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور اس کا جلال تمام فرشتوں پر طاری ہوجاتا
ہے کہ) سب فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی (ہیبت اور جلال کی وجہ سے سب کے سب) حمد و ثنا اور تسبیح
کرنے لگتے ہیں۔ اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The keys of the unseen are five," and then he recited: "Indeed, Allah [alone] has knowledge of the Hour and sends down the rain" (Qur'an 31:34).
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (یوں تو غیب کی اور بھی چیزیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں مگر)
غیب کی اہم چیزیں پانچ ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا (ہاں اللہ تعالیٰ ہی کسی کو واقف
کرائیں تو وہ اور بات ہے) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ان پانچ چیزوں کی تفسیر فرمانے کے
تَمُوتُ، إِنَّ اللّٰهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ۔” (پ:21، سورہ لقمان، ع:4، آیت نمبر:34)
بے شک اللہ تعالیٰ ہی کو علم ہے کہ قیامت کب آئے گی اور اللہ تعالیٰ ہی (ایک وقت مقرر پر
جس کو ان کے سوا کوئی نہیں جانتا) بارش برساتے ہیں اور (نر و مادہ) جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہیں
اللہ تعالیٰ ہی اس کو جانتے ہیں (اور کوئی اس کو نہیں جانتا) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ خود کل کیا عمل
کرے گا (اللہ تعالیٰ ہی اس کو جانتے ہیں) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا
(اس کا بھی علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے) اور (انھی چیزوں کی کیا تخصیص ہے جتنی غیب کی باتیں ہیں)
بیشک اللہ تعالیٰ ہی ان کے جاننے والے اور ان سے باخبر ہیں۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A year is not considered a drought because of no rain, but a drought is when rain falls but the earth does not produce anything."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں (تم سمجھتے ہو کہ بارش نہ ہونے سے قحط ہو جاتا ہے ایسا بھی ہے مگر)
بڑا قحط یہ ہے کہ بارش تو خوب ہو (اور تم کو خوشحالی کی امید بھی ہوگئی ہو پھر بھی کثرت بارش کی وجہ
سے) زمین کچھ نہ اگائے۔ یہ بہت بڑا قحط ہے (اس لئے کہ ساری امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے اور قحط
کا سامنا ہو جاتا ہے۔) اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
(یہ قطعۂ تاریخ تکمیل ترجمہ کے بعد عرض کیا گیا تھا حضرت قبلہ نے سماعت فرما لیا تھا)
شاہ عبداللہ صاحب ہیں قطب زماں، ان کے حسنات کا ہوسکے کیا بیاں
لاؤں مدحت کے قابل کہاں سے زباں، گرچہ ارماں توصیف و تمدیح ہے
عالم باعمل عابد بے ریا، آپ ہیں مرد تسلیم و صبر و رضا
خُلق احسن سے ظاہر ہے صدق و صفا، روئے انور سے باطن کی توشیح ہے
اس دکن میں ملے ان کا ثانی کہاں، آپ ہیں باعث فخر ہندوستاں
عارفین سالکین زاہدین عاکفین، کوئی ہوں سب پہ حضرت کو ترجیح ہے
ہے عمل وَاذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا پہ بھی، سُجَّدًا بُكْرَةً وَّأَصِيْلًا پہ بھی
لَا اِلٰهَ بھی اَللّٰهُ اَللّٰهُ بھی، شغل ہی ان کا تہلیل و تسبیح ہے
جلد اول زجاجہ کا ہی ترجمہ، جزو اول و ثانی میں شائع ہوا
تیسرا جزو نورالمصابیح بھی، چند ابواب کی اس کے تشریح ہے
صاف شستہ ہے آسان اردو زباں، عام فہم اور دلچسپ طرز بیاں
فقہ کا اک مکمل رسالہ بنا، ترجمہ ایسا ہے ایسی تصریح ہے
فکر تاریخ گوئی میں تھا خسرواؔ، ہاتف غیب نے دی یہ مجھ کو ندا
شاہ عبداللہ نے کردیا ہے طبع، کہہ تیسرا جزو نورالمصابیح ہے
(1) گلزار اولیاء.............................................................................
(2) علاج السالکین.........................................................................
(3) کتاب المحبت.............................................................................
(4) زجاجۃ المصابیح (عربی) مجموعہ احادیث حنفیہ مکمل پانچ جلد
جلد اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم
(5) یوسف نامہ (تفسیر سورۂ یوسف علیہ السلام)
(6) مواعظ حسنہ (حضرت رحمة اللہ علیہ کے مکتوبات و ملفوظات کا مجموعہ)
(7) قیامت نامہ.......................................................................
(8) نور المصابیح (ترجمہ زجاجۃ المصابیح)...................................
(9) سلوک مجددیہ.............................................................................
(10) معراج نامہ...............................................................................
(11) میلاد نامہ............................................................................
(12) جام جم یعنی شجرۂ انساب عالم و نسب نامہ فخر عالم و خلاصہ بنی آدم و باعث ایجاد آدم
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم....................................................
(13) شہادت نامہ...........................................................................
(14) فضائل نماز.........................................................
(15) فضائل رمضان.........................................................
اوراد اور وظائف کی حسب ذیل کتابوں کی سند اور اجازت حاصل کی جا سکتی ہے:
(16) حصن حصین از علامہ محمد بن الجزری رحمة اللہ علیہ ادعیہ اور اوراد و اذکار کا عدیم النظیر مجموعہ
(17) دلائل الخیرات (درود و دعاؤں کا نادر مجموعہ) از عبداللہ محمد بن سلیمان الجزولی رحمة اللہ علیہ
(18) الحزب الاعظم (مسنون اور قرآنی دعاؤں کا بے نظیر مجموعہ) از علامہ ملّا علی قاری رحمة اللہ علیہ
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہوائیں چلتی تھیں تو آپ کے چہرہ مبارک پر خوف کے آثار ظاہر ہو جاتے تھے (آپ کے سامنے پہلی قوموں کے حالات پیش نظر ہو جاتے تھے بعض قوموں پر ابر اٹھا ہے وہ خوش ہو رہے تھے کہ اس سے بارش برسے گی بجائے بارش کے عذاب نازل ہوا، جب کبھی تیز ہوائیں چلتی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ان قوموں کی حالت پیش نظر ہو جاتی تھی، جن پر ہواؤں سے عذاب آیا تھا، اللہ کا جلال اور عظمت پیش نظر ہوتی تھی، کیا معلوم کہ یہ ابر اور ہواء کہیں عذاب کا ذریعہ نہ ہو جائیں، اس لئے آپ پر خوف طاری ہوتا تھا، مسلمانو! مقدس اور معصوم نبی کی یہ حالت ہوتی تھی تو ہم گنہگاروں کو کس قدر خوف ہونا چاہئے، ہماری یہ بے فکری اور اطمینان غفلت کا نتیجہ ہے جو اچھا نہیں ہے۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔