اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1301
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی نماز
سے جس میں قرأت جہر سے کی جاتی ہے فارغ ہو کر فرمایا کیا تم میں سے ابھی کوئی میرے ساتھ
قرآن پڑھ رہا تھا؟ اس پر ایک شخص نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پڑھ رہا تھا
(یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اسی لئے تو میں بھی (دل میں) کہہ رہا تھا کہ نماز
میں میرے ساتھ قرآن کی کشاکشی کیوں ہو رہی ہے (یعنی قرأت کے ذریعہ میں لوگوں کو اپنی طرف
متوجہ کرتا ہوں اور لوگ قرآن پڑھ کر مجھے اپنی طرف کھینچتے ہیں) جب اس حکم کو لوگوں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تو حضور کے پیچھے مقتدی ہو کر جہری نماز میں قرآن (خواہ سورہ فاتحہ ہو یا کوئی
اور سورہ) کا پڑھنا ترک کر دیا۔ (اس کی روایت نسائی، ترمذی، ابوداؤد، امام احمد، امام مالک اور امام محمد
نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور نسائی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اس
بات کا ثبوت ہے کہ جس نماز میں قرأت بالجہر کی جائے اس میں مقتدی (امام کے پیچھے) قرأت نہ
کرے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 826 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 312 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.