اردو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے لہٰذا جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم
بھی اللہ اکبر کہو، اور جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔ (اس کی روایت ابوداؤد، نسائی اور ابن
ماجہ نے کی ہے۔) اور یہ حدیث صحیح ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
اور مسلم کی ایک روایت میں ابوہریرہ اور قتادہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ امام
جب قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔
اور مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ امام جب ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ
عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ کہے تو تم آمین کہو۔
Arabic quotation in the English source
غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِيْنَ
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 604 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 846 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 921 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث میں مقتدی کے لئے سکوت اختیار کرنے اور امام کی قرأت کو خاموشی سے سننے کی طرف اشارہ ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس حدیث میں اس بات کا ثبوت ہے کہ مقتدی سورہ فاتحہ نہ پڑھے اسی لئے کہا گیا ہے کہ امام جب سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے ” وَلَا الضَّالِّينَ“ پر پہنچے تو مقتدی آمین کہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو اس کے بجائے یوں کہا جاتا کہ تم میں کا ہر ایک (مقتدی ہو یا امام) ”وَلَا الضَّالِّينَ“ تک پہنچے تو آمین کہے ایسا نہ کہہ کر جب یہ کہا گیا کہ امام ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ کہے تو تم آمین کہو اس سے ثابت ہوا کہ مقتدیوں کو سورہ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ خاموشی سے امام کی قرأت سنتے رہیں۔