اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 17
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اہل نجد کا ایک آدمی
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایسی حالت میں حاضر ہوا کہ اس کے سر کے بال پراگندہ
تھے، ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ کو سن رہے تھے، مگر وہ جو کچھ کہہ رہا تھا ہم نہیں سمجھ رہے تھے، یہاں
تک کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا پھر وہ اسلام کے متعلق پوچھنے لگا آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: کہ دن اور رات میں پانچ نمازیں، پھر پوچھا کہ کیا ان کے سوا کچھ اور مجھ پر واجب ہے
ارشاد ہوا نہیں، مگر یہ کہ بطور نفل پڑھ لے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ماہ رمضان کے
روزے، اس نے کہا کہ اس کے سوا کچھ اور بھی مجھ پر ہیں، آپ نے فرمایا: نہیں مگر یہ کہ بطور نفل رکھ لے
، راوی نے بیان کیا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکات کا ذکر فرمایا تو اس نے
کہا کہ اس کے سوا مجھ پر کچھ اور بھی ہے تو فرمایا: نہیں، مگر یہ کہ بطور نفل تو دیا کرے، راوی نے کہا کہ وہ
شخص یہ کہتے ہوئے واپس ہوا کہ خدا کی قسم نہ اس پر زیادہ کروں گا نہ اس سے کچھ کم، پس آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے نجات پالی اگر اس نے سچ کہا ہے۔ (بخاری اور مسلم نے
بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 46 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 11a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.