اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2148
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ (مکہ معظمہ اور مدینہ
منورہ کے درمیان دو مقام میں ایک کا نام ضَجْنَان ہے اور دوسرے کا نام عُسْفَان، رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم یہاں کے مشرکین کا محاصرہ کئے تھے) مشرکین آپس میں مشورہ کئے کہ ان مسلمانوں کی
ایک نماز ہے جو ان کے پاس ان کے ماں باپ اور اولاد سے زیادہ پیاری ہے اور وہ عصر کی نماز ہے
(جب یہ نماز شروع کریں تو) تم ان سے لڑنے کا پکا ارادہ کر کے ان پر (ان کی حالت نماز میں)
یکبارگی حملہ کر دو (تو یہ بہت بری طرح سے مارے جائیں گے) کفار کے اس مشورہ کی جبرئیل علیہ
الصلوٰۃ والسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آ کر خبر کئے) اور اللہ تعالیٰ کا یہ حکم پہنچائے کہ آپ
اپنے صحابہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیجئے اور اس طرح نماز پڑھائیے کہ ان میں سے ایک حصہ کو آپ
نماز پڑھائیں، اور دوسرا حصہ (کفار کے سامنے) ان کو روکنے کے لئے کھڑے رہے) اور چاہئے کہ
اپنے بچاؤ کے سامان اور ہتھیار کو ساتھ رکھ لیں تو حضور ایک ایک حصہ کو ایک ایک رکعت پڑھائے
(جیسا کہ سالم کی روایت میں مذکور ہے) اب رہی دوسری رکعت تو ہر حصہ اپنی دوسری رکعت کو اس
طرح ادا کیا جیسا کتاب الآثار میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صراحت فرمائے ہیں جو
ابھی اوپر گزر چکی ہے) اس طرح ہر حصہ کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہوئی
اور حضور کے دو رکعتیں ہوئے۔ (اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔)