سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے
روایت کرتے ہیں ان کے والد حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ (ایک بار) مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا جو نجد کی طرف ہو رہا تھا۔ جب ہمارا دشمن سے
مقابلہ ہوا تو ہم ان کے مقابلہ میں صف آرا ہوئے (اتنے میں نماز کا وقت آ گیا) اور رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو نماز پڑھانے کا ارادہ فرمائے تو (ہماری فوج کے دو حصّے ہوئے) ایک حصّہ
حضور کے ساتھ نماز میں شریک ہوا۔ اور دوسرا حصّہ دشمن کے مقابلہ میں (اس کو روکنے کے لئے) کھڑا
رہا۔ آپؐ ان صحابہ کو جو آپ کے ساتھ نماز میں شریک تھے ایک رکعت اس طرح پڑھائے کہ اس
رکعت کا رکوع اور دو سجدے ادا کر کے دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو گئے۔ پھر یہ حصّہ جو حضور
کے ساتھ نماز کی ایک رکعت پڑھ چکا تھا دشمن کے مقابلہ پر جا کھڑا رہا۔ اور دوسرا حصّہ جو ابھی نماز نہیں
پڑھا تھا وہ آ کر دوسری رکعت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کیا تو ان کو بھی حضور ایک رکعت
پڑھائے رکوع اور دو سجدے کر کے (قعدہ سے فارغ ہو کر) حضور سلام پھیر دئے۔ اس کے بعد ہر
حصہ اپنی اس رکعت کو جو رہ گئی تھی (اس طرح) ادا کیا (کہ دوسرا حصہ دشمن کے مقابلہ کے لئے
چلا گیا۔ اور پہلا حصہ دشمن کے مقابلہ سے واپس آ کر لاحق کی طرح بغیر قرأت کے ایک رکعت ادا ء
کر لیا اور سلام کے بعد دشمن کے مقابلہ کے لئے چلا گیا اور دوسرا حصہ جو دشمن کے مقابلہ پر کھڑا تھا وہ
واپس آ کر اپنی دوسری رکعت مسبوق کی طرح قرأت کے ساتھ پوری ادا کر کے سلام پھیر دیا۔ اسی
طرح ہر حصہ کے دو رکعت پورے ہوئے حنفی مذہب میں یہ مشہور روایت ہے)۔
(اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
3/2144-2145۔ حضرت ابن عمر سے دو روایتیں آئی ہیں ایک کی سالم بن
عبداللہ روایت کئے ہیں جو ابھی صدر میں مذکور ہوئی ہے۔ دوسری روایت حضرت ابن عمر سے نافع
بعینہ سالم کی روایت کی طرح روایت کر کے اس میں اتنا اضافہ کئے ہیں کہ اگر اس قدر خوف ہو کہ
صدر کے طریقہ کے موافق امام فوج کے دو حصہ کر کے ایک ایک حصہ کو لے کر نماز نہ پڑھا سکتا ہے تو
وہ مذکورہ طریقہ پر نماز پڑھائے۔ اگر خوف اس سے کہیں زیادہ ہے (مثلاً حملہ ہو رہا ہواور جماعت
اور صف نہ کر سکیں) تو شخص اکیلا اکیلا اس طرح نماز پڑھے کہ ایک جگہ کھڑا ہوا ہو یا سواری پر
ہواور رکوع اور سجدہ اشارہ سے کر رہا ہو، خواہ قبلہ رخ رہنے کا موقع ملے یا نہ ملے (بہر حال نماز
پڑھ لینی چاہئے۔ اگر جنگ کی وجہ سے ایک جگہ کھڑا ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا ہے بلکہ چلتے ہوئے
پڑھ سکتا ہے تو چلتے ہوئے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ اس لئے کہ چلتے ہوئے نماز پڑھنے سے نماز
فاسد ہو جاتی ہے اور ایسی صورت میں اطمینان کے بعد اس کی قضاء پڑھ لے۔ بخلاف اس کے
سواری پر ہو، اور سواری چل رہی ہے تو ایسے خوف کی حالت میں سواری پر فرض اور واجب نمازیں
پڑھنا جائز ہے۔ اس کے برخلاف اگر خوف کی حالت نہ ہو تو سواری پر صرف نفل نمازیں جائز
ہیں، فرض اور واجب نمازیں سواری پر جائز نہیں۔ سواری سے اتر کر زمین پر فرض اور واجب
پڑھنا چاہئے)۔ (نافع کی یہ روایت بھی بخاری میں مذکور ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 942 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Chapter-heading commentary
then [pray] while walking
(1) The saying “then [pray] while walking” – The Shafi‘i scholars used “walking” as evidence for the validity of a fearful person praying while moving. Thus, in their view, if it is valid, then it is obligatory at the time of combat as well. However, our scholars responded that the term refers to someone on his feet, whether standing or walking, as it is a general concept that includes both. Since walking is a significant action and no specific text permits it in prayer, it invalidates the prayer due to its unrestricted nature. As it is not valid while walking, the prayer is delayed in times of intense fighting, just as it was postponed on the Day of the Battle of the Trench. The Prayer of Fear was revealed earlier in the expedition of Dhat al-Riqa‘, as narrated in Ruh al-Ma‘ani from Abu Ishaq and other historians. This was stated in Bayan al-Qur’an.
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله: فرجالا : استدل الشافعية بـ «رجالا على صحة صلاة الخائف ماشيا، فلما صح يفترض عنده وقت المسايفة أيضا. وأجاب علماؤنا أنه جمع راجل بمعنى الكائن على رجليه، ولو واقفا؛ فإنه مشترك معنوي بين الماشي والواقف. ولما كان المشي عملا كثيرًا ولم يدل نص على تجويزه كان مفسدًا للصلاة؛ للإطلاق. ولما لم يصح ماشيا تؤخر وقت الجز و المسايفة، كما أخر يوم الأحزاب، وقد نزلت صلاة الخوف قبل ذلك في ذات الرقاع»، كما نقله في روحالمعاني عن أبي إسحاق وغيره أهل السير. قاله في بيان القرآن».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز خوف پڑھائے تو (فوج کے دو حصے کئے) ایک حصہ حضور کے
ساتھ نماز میں شریک ہوا، اور دوسرا حصہ دشمن کے مقابلہ پر (اس کو روکنے کے لئے کھڑا رہا۔ آپ نے
پہلے حصہ کو ایک رکعت نماز پڑھائی۔ پھر دوسرا حصہ آ کر ان کی جگہ کھڑا ہو گیا اور (فوج کا) یہ حصہ (جو
ایک رکعت پڑھ چکا تھا) دشمن کے مقابلہ میں جا کر کھڑا ہو گیا، اور دوسرا حصہ جو ابھی نماز نہیں پڑھا تھا،
اس نے دوسری رکعت میں حضور کی اقتداء کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دوسرے حصہ کو
ایک رکعت نماز پڑھا کر سلام پھیر دئے۔ دوسرے حصہ کے لوگ جو حضور کے ساتھ دوسری رکعت
پڑھے تھے (دشمن کے مقابلہ پر نہیں گئے) بلکہ وہیں کھڑے ہوئے علیحدہ علیحدہ (مثل مسبوق کے
قرأت کے ساتھ) دوسری رکعت پوری ادا کر کے سلام پھیرنے کے بعد دشمن کے مقابلہ پر جا
کھڑے ہو گئے اور پہلے حصے کے لوگ دشمن کے سامنے سے اسی جگہ پر جہاں پہلی رکعت پڑھے
تھے آ کر تنہا ہر ایک (مثل لاحق کے بغیر قرأت کے) دوسری رکعت پڑھ کر سلام پھیر دئے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1244 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
They stood up and performed one rak’ah individually, etc.
(1) The statement: "They stood up and performed one rak’ah individually, etc." is explained in Sharh al-Nuqayah: "When the fear of the enemy intensifies, the Imam divides the people into two groups, one facing the enemy. He leads the other group in one rak’ah for prayers consisting of two rak’ahs (like Fajr or shortened prayers) and two rak’ahs for other prayers. The group that prayed with him then moves toward the enemy, and the group that was facing the enemy comes forward. The Imam leads them in the remaining rak’ahs: one rak’ah for Fajr and Maghrib, and two rak’ahs for other prayers. The Imam says the tasleem alone, and the group moves toward the enemy."
In Al-Muhit:
"If the second group, when the Imam says the tasleem, completes two rak’ahs in their place and then departs, it is permissible. However, the preferred method is what we have mentioned."
I say: The first opinion is supported by the fact that Allah, in the verse, limited it to what was mentioned earlier, as well as the hadith of Abdullah ibn Abbas that will follow. The first group comes forward and completes its prayer without recitation, as it is following the Imam. They then move toward the enemy. The second group comes forward and completes its prayer with recitation, as it is catching up, and those catching up are considered like individual worshippers.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فقام هؤلاء فصلوا لأنفسهم ركعة إلخ وقال في شرح النقاية»: إذا اشتد خوف العدو جعل الإمام أمة نحو العدو، وصلى بأخرى ركعة في الثنائي، سواء كان فجرًا أو قصرًا، وركعتين في غيره أي غير الثنائي، ومشت هذه التي صلت إليه، أي إلى وجه العدو، وجاءت تلك أي التي كانت نحو العدو، وصلى بهم ما بقي، وهو ركعة في الثنائي والمغرب، وركعتان في غيره. وسلم الإمام وحده، ومشت إلى العدو. وفي المحيط»: ولو كانت الطائفة الثانية حين سلم الإمام قضوا ركعتين في مكانهم، ثم انصرفوا جاز، والأفضل ما ذكرنا قلت: ويؤيد الأول اقتصاره سبحانه في الآية على ما تقدم وحديث عبد الله بن عباس الآتي، وجاءت الأخرى وهي الأولى، وأتمت بلا قراءة؛ لأنها لاحقة، واللاحق في حكم المقتدي. ومشت إلى وجه العدو، ثم جاءت الأخرى وهي الثانية، وأتمت أي بقراءة؛ لأنها مسبوقة، والمسبوق في حكم المنفرد.
Note 1
(شرح نقایہ میں لکھا ہے کہ حنفی مذہب میں اس طرح بھی ایک روایت آئی ہے)۔
(اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور بیہقی نے کی ہے۔)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ جب امام
(خوف کی حالت میں مثلاً میدان جنگ میں ہو) اپنے ساتھی فوج کو نماز پڑھانے کا ارادہ کرے (تو
فوج کے دو حصے کرے) ایک حصہ کو امام اپنے ساتھ نماز میں کھڑا کرے، اور دوسرے حصہ کو دشمن کے
مقابلہ میں (اس کو روکنے کے لئے) کھڑا کرے اور امام اس حصہ کو جو اس کے ساتھ نماز میں شریک
ہے، ایک رکعت پڑھائے، پھر یہ حصہ جو امام کے ساتھ ایک رکعت نماز پڑھا ہے بغیر بات کئے (دشمن
کے مقابلہ پر) جا کھڑا رہے اور دوسرا حصہ جو امام کے ساتھ نماز نہیں پڑھا ہے۔ وہ آ کر امام کی دوسری
رکعت میں اس کی اقتداء کرے (اور امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لے امام تو سلام پھیر دے گا اور یہ
دوسرا حصہ جو امام کے ساتھ دوسری رکعت پڑھا ہے) کسی سے کلام کئے بغیر دشمن کے مقابلہ پر چلا
جائے اور پہلا حصہ دشمن کے مقابلہ سے واپس آ کر (اسی جگہ جہاں پہلی رکعت پڑھا ہے کھڑا
ہو جائے اور ہر شخص لاحق کی طرح بغیر قرأت کے تنہا) علیحدہ علیحدہ (دوسری رکعت پڑھ کر دشمن کے
مقابلہ پر چلا جائے، اور دوسرا حصہ دشمن کے مقابلہ سے واپس آ کر اسی جگہ کھڑا رہے جہاں پہلی
رکعت پڑھا تھا، اور ہر شخص مسبوق کی طرح قرأت کے ساتھ تنہا) علیحدہ علیحدہ اپنی بقیہ دوسری رکعت
کو پڑھ لے (حنفی مذہب میں یہ مشہور روایت ہے)۔
(اس کی روایت امام محمد رحمہ اللہ نے ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے کتاب الآثار میں کی ہے)
(1) The statement: "The first group returns, etc." This addition is recommended (mustahabb) according to the Hanafis. The original method is what is narrated in the hadiths of Ibn Umar and Ibn Mas’ud. This is mentioned in Jami’ al-Athar.
Note 1
قوله
(۱) قوله: تأتي الطائفة الأولى إلخ وهذه الزيادة مندوبة عند الحنفية، وأصل الكيفية هو المروي في حديث ابن عمر و ابن مسعود. قاله في جامع الآثار».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ (مکہ معظمہ اور مدینہ
منورہ کے درمیان دو مقام میں ایک کا نام ضَجْنَان ہے اور دوسرے کا نام عُسْفَان، رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم یہاں کے مشرکین کا محاصرہ کئے تھے) مشرکین آپس میں مشورہ کئے کہ ان مسلمانوں کی
ایک نماز ہے جو ان کے پاس ان کے ماں باپ اور اولاد سے زیادہ پیاری ہے اور وہ عصر کی نماز ہے
(جب یہ نماز شروع کریں تو) تم ان سے لڑنے کا پکا ارادہ کر کے ان پر (ان کی حالت نماز میں)
یکبارگی حملہ کر دو (تو یہ بہت بری طرح سے مارے جائیں گے) کفار کے اس مشورہ کی جبرئیل علیہ
الصلوٰۃ والسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آ کر خبر کئے) اور اللہ تعالیٰ کا یہ حکم پہنچائے کہ آپ
اپنے صحابہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیجئے اور اس طرح نماز پڑھائیے کہ ان میں سے ایک حصہ کو آپ
نماز پڑھائیں، اور دوسرا حصہ (کفار کے سامنے) ان کو روکنے کے لئے کھڑے رہے) اور چاہئے کہ
اپنے بچاؤ کے سامان اور ہتھیار کو ساتھ رکھ لیں تو حضور ایک ایک حصہ کو ایک ایک رکعت پڑھائے
(جیسا کہ سالم کی روایت میں مذکور ہے) اب رہی دوسری رکعت تو ہر حصہ اپنی دوسری رکعت کو اس
طرح ادا کیا جیسا کتاب الآثار میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صراحت فرمائے ہیں جو
ابھی اوپر گزر چکی ہے) اس طرح ہر حصہ کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہوئی
اور حضور کے دو رکعتیں ہوئے۔ (اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (2)
Chapter-heading commentary
(1) The saying “then [pray] while walking” – The Shafi‘i scholars used “walking” as evidence for the validity of a fearful person praying while moving. Thus, in their view, if it is valid, then it is obligatory at the time of combat as well. However, our scholars responded that the term refers to someone on his feet, whether standing or walking, as it is a general concept that includes both. Since walking is a significant action and no specific text permits it in prayer, it invalidates the prayer due to its unrestricted nature. As it is not valid while walking, the prayer is delayed in times of intense fighting, just as it was postponed on the Day of the Battle of the Trench. The Prayer of Fear was revealed earlier in the expedition of Dhat al-Riqa‘, as narrated in Ruh al-Ma‘ani from Abu Ishaq and other historians. This was stated in Bayan al-Qur’an.
Chapter-heading commentary
(۱) قوله: فرجالا : استدل الشافعية بـ «رجالا على صحة صلاة الخائف ماشيا، فلما صح يفترض عنده وقت المسايفة أيضا. وأجاب علماؤنا أنه جمع راجل بمعنى الكائن على رجليه، ولو واقفا؛ فإنه مشترك معنوي بين الماشي والواقف. ولما كان المشي عملا كثيرًا ولم يدل نص على تجويزه كان مفسدًا للصلاة؛ للإطلاق. ولما لم يصح ماشيا تؤخر وقت الجز و المسايفة، كما أخر يوم الأحزاب، وقد نزلت صلاة الخوف قبل ذلك في ذات الرقاع»، كما نقله في روحالمعاني عن أبي إسحاق وغيره أهل السير. قاله في بيان القرآن».