اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2607
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو مال عطا کیا اور اس نے اس مال کی زکات
ادا نہیں کی تو قیامت کے دن اس کا مال اس کے لئے گنجا سانپ بنا دیا جائے گا (معمر ہونے اور زیادہ
زہریلا ہونے کی وجہ سے سانپ گنجا رہے گا) اور اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے۔ (اس قسم کا
سانپ بھی بہت زہریلا ہوتا ہے) اور یہ سانپ قیامت کے دن طوق کی طرح اس شخص کی گردن میں
ڈال دیا جائے گا اور یہ سانپ اس شخص کی دونوں باچھیں پکڑ کر اس کو کاٹے گا، اور کہے گا کہ میں تیرا
(وہ) مال ہوں، میں تیرا (وہ) خزانہ ہوں (جس پر تو نے زکات نہ دے کر مجھ سے بھلائی کی امید
رکھی تھی، لیکن چونکہ تو نے میرا حق ادا نہ کیا یعنی زکات نہ دی، اس لئے تجھے یہ سزا مل رہی ہے۔ پھر رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کی تائید میں) یہ آیت تلاوت فرمائی: ”وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ
بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“۔ (پ:4،ع:18، سورہ آل عمران، آیت نمبر:180) اور ہرگز خیال نہ کریں
ایسے لوگ جو (ضروری موقعوں) پر ایسی چیز کے خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے
اپنے فضل سے ان کو دی ہے کہ یہ بات ان کے لئے کچھ اچھی ہوگی، ہرگز نہیں! بلکہ یہ بات ان کی
بہت ہی بری ہے کیونکہ انجام اس بخل کا یہ ہوگا کہ وہ لوگ قیامت کے روز طوق پہنا دئے جائیں گے،
اس مال کا سانپ بنا کر جس میں انھوں نے بخل کیا تھا۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1403 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.