Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2257

(اس باب میں ان چیزوں کا بیان ہے جن پر زکات دینا واجب ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(اس باب میں ان چیزوں کا بیان ہے جن پر زکات دینا واجب ہے)

Zujajat al-Masabih 2257Volume 1

اردو

امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ میں نے (ان) گھوڑوں اور غلاموں کی زکات معاف کردی ہے (جو تجارت کے لئے نہ ہوں بلکہ سواری اور خدمت کے لئے ہوں) اور تم چاندی کی زکات ادا کرو، ہر چالیس درہم پر ایک درہم (درہم چاندی کا سکہ ہوتا ہے جس کا وزن(3-1/2) ساڑھے تین ماشے ہوتا تھا۔ غیاث اللغات۔12) (بشرطیکہ وہ دو سو درہم یا اس سے زیادہ ہو جائیں اور ان پر ایک سال بھی گزر جائے) اور ایک سو نوے درہم پر زکات واجب نہیں، اور جب پورے دو سو درہم ہو جائیں تو ان پر (ہر چالیس پر ایک درہم کے حساب سے) پانچ درہم واجب ہیں۔ اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے اور بیہقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے اور ابن حزم نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح اور متصل السند ہے اور دارمی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے توسط سے شرحبیل بن عبدکلال اور نعیم بن عبدکلال کے پاس یہ فرمان لکھ بھیجا تھا کہ چاندی کے ہر پانچ اوقیہ پر (جس کی قیمت دو سو درہم ہوتی ہے) پانچ درہم (بطور زکات) دیئے جائیں اور جب پانچ اوقیہ یعنی دو سو درہم سے زائد ہو جائے تو اس میں ہر چالیس درہم پر ایک درہم (زکات میں) دیا جائے۔ 20-21/2646-2647-2648۔ اور بیہقی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے، اور بیہقی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی اسناد جید ہے۔ اور اس کی روایت حفاظ حدیث کی ایک جماعت نے متصل سند کے ساتھ کی ہے اور یہ سند حسن ہے۔ اور نسائی، ابن حبّان اور حاکم (تینوں کی کتابوں) میں یہ روایت مذکور ہے کہ چاندی کے ہر پانچ اوقیہ پر پانچ درہم (زکات میں) واجب ہیں اور جب چاندی (پانچ اوقیہ یعنی دو سو درہم سے) زائد ہو جائے تو ہر چالیس درہم پر ایک درہم (زکات میں) دیا جائے اور پانچ اوقیہ (یعنی دو سو درہم) سے کم چاندی پر (زکات میں) کچھ بھی واجب نہیں، اور عمدۃ القاری میں مذکور ہے کہ صاحب التمہید نے کہا ہے کہ ابن المسیب، حسن بصری، مکحول، عطاء، طاؤس، عمرو بن دینار، زہری ان سب حضرات کا چاندی کی زکات کے بارے میں وہی قول ہے جو ابھی اوپر بیان کیا گیا، اور امام ابوحنیفہ اور امام اوزاعی بھی اسی کے قائل ہیں اور خطابی کا بیان ہے کہ شعبی بھی (چاندی کی زکات کے نصاب میں) ان سب حضرات کے مسلک سے متفق ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 620 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1573 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

For any amount exceeding that.

(1) The statement: “For any amount exceeding that.” In ‘Umdat Al-Qari, it is said: “The author of Al-Tamhid said: This is the opinion of Ibn Al-Musayyib, Al-Hasan, Makhul, Ata, Tawus, Umar ibn Abd Al-Aziz, and Al-Zuhri. Abu Hanifah and Al-Awza’i also held this opinion. Al-Khattabi included Al-Sha’bi with them.”

Note 1

قوله

(۱) قوله : فما زاد إلخ وفي عمدة القاري»: قال صاحب التمهيد»: وهو قول ابن المسيب والحسن ومكحول وعطاء وطاوس وعمر وابن دينار والزهري، وبه يقول أبو حنيفة والأوزاعي، وذكر الخطابي الشعبي معهم.