اردو
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر
بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے زکات وصول کرنے پر مقرر فرمایا تھا اور مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں ہر
بیس دینار پر (زکات میں) نصف دینار وصول کروں (اس زمانہ میں ایک دینار دس درہم کے برابر
ہوتا تھا (جیسا کہ ہدایہ کے ”باب زکات المال“ میں مذکور ہے۔)، اس طرح بیس دینار کے دو سو
درہم ہوئے) اور جو اس سے زیادہ ہو جائے یہاں تک کہ اس کی مقدار چار دینار (یعنی چالیس درہم)
کو پہنچ جائے تو (زکات میں) ایک درہم لیا جائے اور (مجھے) یہ بھی (حکم دیا تھا) کہ میں ہر دو سو
درہم پر پانچ درہم (زکات میں) وصول کیا کروں اور جو اس سے زیادہ ہو جائے اور چالیس درہم کی
مقدار کو پہنچ جائے تو ہر چالیس درہم پر ایک درہم لیا کروں۔
اس کی روایت ابوعبیدہ قاسم بن سلّام نے کتاب الاموال میں کی ہے۔
اور امام عبدالرزاق کی کتاب ”الاحکام“ میں ابوبکر بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہما
کے دونوں صاحبزادوں حضرت عبداللہ اور حضرت محمد رحمہما اللہ سے روایت ہے، وہ اپنے والد سے، وہ
ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے یہ
نامہ مبارک حضرت عمرو بن حزم کے نام لکھا جبکہ آپ نے انہیں یمن کی طرف روانہ کیا، اور اس میں
زکات کے احکام تھے کہ اس (مال) میں زکات واجب نہیں یہاں تک کہ وہ دو سو درہم تک پہنچ
جائے، اور جب وہ دو سو درہم تک پہنچ جائے تو اس میں پانچ درہم واجب ہوں گے، اور جو زیادہ ہو تو
ہر چالیس درہم پر ایک درہم واجب ہوگا اور چالیس سے کم پر زکات واجب نہیں۔