Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat

Hadith 2258

Chapter on What Zakat is Obligatory Upon

In this book

Current reading

Zakat

Chapter on What Zakat is Obligatory Upon

Zujajat al-Masabih 2258Volume 1

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) appointed me to collect charity. He ordered me to take half a dinar for every twenty dinars and, if the amount increased to four dinars, to take one dirham. He also ordered me to take five dirhams for every two hundred dirhams and, if the amount increased to forty dirhams, to take one dirham. [Narrated by Abu Ubaid Al-Qasim ibn Salam in Kitab Al-Amwal] In Ahkam Abd Al-Haqq, it is narrated from Abdullah and Muhammad, the sons of Abu Bakr ibn Amr ibn Hazm, from their father, from their grandfather, that the Prophet (ﷺ) wrote this letter to Amr ibn Hazm when he appointed him over Yemen. It stated: “There is no charity due until the amount reaches two hundred dirhams. When it reaches two hundred dirhams, the charity is five dirhams. For any amount exceeding that, the charity is one dirham for every forty dirhams. There is no charity due on less than forty dirhams.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٢٥٨ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: وَلَّانِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اللهِ الصَّدَقَاتِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَخُذَ مِنْ كُلِّ عِشْرِينَ دِينَارًا نِصْفَ دِينَارٍ، وَمَا زَادَ فَبَلَغَ أَرْبَعَةَ دَنَانِيْرَ فَفِيْهِ دِرْهَمْ، وَأَنْ أَخُذَ مِنْ كُلِّ مِائَتَيْ دِرْهَم خَمْسَةَ دَرَاهِمَ، فَمَا زَادَ فَبَلَغَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَفِيْهِ دِرْهَمُ. رَوَاهُ أَبُوْ عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَامٍ فِي كِتَابِ الْأَمْوَالِ». وَفِي أَحْكَامِ عَبْدِ الْحَقِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ وَمُحَمَّدِ ابْنَيْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزَمٍ عَنِ أَبِيْهِمَا عَنْ جَدِّهِمَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ كَتَبَ هَذَا الْكِتَابِ لِعَمْرِو بْنِ حَزَمٍ حِيْنَ أَمَرَهُ عَلَى الْيَمَنِ، وَفِيْهِ الزَّكَاة لَيْسَ فِيْهَا صَدَقَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْ دِرْهَم فَفِيْهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَمَا زَادَ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِيْنَ دِرْهَمًا دِرْهَمُ، وَلَيْسَ فِيْمَا دُوْنَ الْأَرْبَعِيْنَ صَدَقَةٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2650Noor 2651
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے زکات وصول کرنے پر مقرر فرمایا تھا اور مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں ہر بیس دینار پر (زکات میں) نصف دینار وصول کروں (اس زمانہ میں ایک دینار دس درہم کے برابر ہوتا تھا (جیسا کہ ہدایہ کے ”باب زکات المال“ میں مذکور ہے۔)، اس طرح بیس دینار کے دو سو درہم ہوئے) اور جو اس سے زیادہ ہو جائے یہاں تک کہ اس کی مقدار چار دینار (یعنی چالیس درہم) کو پہنچ جائے تو (زکات میں) ایک درہم لیا جائے اور (مجھے) یہ بھی (حکم دیا تھا) کہ میں ہر دو سو درہم پر پانچ درہم (زکات میں) وصول کیا کروں اور جو اس سے زیادہ ہو جائے اور چالیس درہم کی مقدار کو پہنچ جائے تو ہر چالیس درہم پر ایک درہم لیا کروں۔ اس کی روایت ابوعبیدہ قاسم بن سلّام نے کتاب الاموال میں کی ہے۔ اور امام عبدالرزاق کی کتاب ”الاحکام“ میں ابوبکر بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہما کے دونوں صاحبزادوں حضرت عبداللہ اور حضرت محمد رحمہما اللہ سے روایت ہے، وہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے یہ نامہ مبارک حضرت عمرو بن حزم کے نام لکھا جبکہ آپ نے انہیں یمن کی طرف روانہ کیا، اور اس میں زکات کے احکام تھے کہ اس (مال) میں زکات واجب نہیں یہاں تک کہ وہ دو سو درہم تک پہنچ جائے، اور جب وہ دو سو درہم تک پہنچ جائے تو اس میں پانچ درہم واجب ہوں گے، اور جو زیادہ ہو تو ہر چالیس درہم پر ایک درہم واجب ہوگا اور چالیس سے کم پر زکات واجب نہیں۔
[Narrated by Abu Ubaid Al-Qasim ibn Salam in Kitab Al-Amwal]