English
Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “I have exempted horses and slaves from charity. So bring the charity on silver: one dirham for every forty dirhams. There is no charity due on one hundred and ninety dirhams. When it reaches two hundred dirhams, the charity is five dirhams.” [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawud]
Al-Bayhaqi narrated a similar report from him and said: “It has a strong chain of narration.” Ibn Hazm said: “It is authentic and well-supported.”
In a narration by Al-Daraqutni: The Messenger of Allah (ﷺ) wrote to Sharhabil ibn Abd Kalal and Naim ibn Abd Kalal with Amr ibn Hazm: “For every five vessels of silver, the charity is five dirhams. For any amount exceeding that, the charity is one dirham for every forty dirhams.”
Al-Bayhaqi narrated the same and said: “The chain is strong.” Many memorizers narrated it with a connected and good chain. Al-Bayhaqi also narrated from Ahmad ibn Hanbal that he said: “I hope it is authentic.”
In a narration by Nasa’i, Ibn Hibban, and Al-Hakim: “For every five awaq of silver, the charity is five dirhams. For any amount exceeding that, the charity is one dirham for every forty dirhams. There is no charity due on less than five awaq.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٢٥٧ - وَعَنْ عَلَى (رضي الله عنه) قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : «قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَهَاتُوْا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا، وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ، وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ عَنْهُ نَحْوَهُ. وَقَالَ ابْنُ حَزَمٍ: صَحِيحٌ مُسْنَدٌ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِلدَّارَي : أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كَتَبَ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزَمٍ إِلَى شَرْحْبِيْلَ بْنِ عَبْدِ كَلَالٍ وَنَعِيمِ بْنِ عَبْدِ كَلَالٍ أَنَّ فِي كُلِّ خَمْسِ أَوَانِي مِنَ الْوَرِقِ خَمْسَةَ دَرَاهِمٍ، فَمَا زَادَ1 فَفِي كُلِّ أَرْبَعِيْنَ دِرْهَمًا دِرْهَمُ.
وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ مِثْلَهُ، وَقَالَ: مُجَوَّدُ الْإِسْنَادِ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةُ الْحُفَّاظِ مَوْصُوْلًا حَسَنًا. وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ عَنِ احْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَالَ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا. وَفِي رِوَايَةٍ لِلنَّسَائِي وَابْنِ حِبَّانَ وَالْحَاكِمِ: وَفِي كُلِّ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَمَا زَادَ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِيْنَ دِرْهَمًا دِرْهَمُ، وَلَيْسَ فِيْمَا دُوْنَ خَمْسِ أَوَاقٍ شَيْءٌ.
اردو
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ میں نے (ان) گھوڑوں اور غلاموں کی زکات معاف
کردی ہے (جو تجارت کے لئے نہ ہوں بلکہ سواری اور خدمت کے لئے ہوں) اور تم چاندی کی
زکات ادا کرو، ہر چالیس درہم پر ایک درہم (درہم چاندی کا سکہ ہوتا ہے جس کا
وزن(3-1/2) ساڑھے تین ماشے ہوتا تھا۔ غیاث اللغات۔12) (بشرطیکہ وہ دو سو درہم یا اس
سے زیادہ ہو جائیں اور ان پر ایک سال بھی گزر جائے) اور ایک سو نوے درہم پر زکات واجب نہیں،
اور جب پورے دو سو درہم ہو جائیں تو ان پر (ہر چالیس پر ایک درہم کے حساب سے) پانچ درہم
واجب ہیں۔ اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے اور بیہقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے
اسی طرح روایت کی ہے اور ابن حزم نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح اور متصل السند ہے
اور دارمی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے توسط سے شرحبیل بن عبدکلال اور نعیم بن عبدکلال کے پاس
یہ فرمان لکھ بھیجا تھا کہ چاندی کے ہر پانچ اوقیہ پر (جس کی قیمت دو سو درہم ہوتی ہے) پانچ درہم
(بطور زکات) دیئے جائیں اور جب پانچ اوقیہ یعنی دو سو درہم سے زائد ہو جائے تو اس میں ہر
چالیس درہم پر ایک درہم (زکات میں) دیا جائے۔
20-21/2646-2647-2648۔ اور بیہقی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے، اور
بیہقی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی اسناد جید ہے۔ اور اس کی روایت حفاظ حدیث کی ایک جماعت نے
متصل سند کے ساتھ کی ہے اور یہ سند حسن ہے۔
اور نسائی، ابن حبّان اور حاکم (تینوں کی کتابوں) میں یہ روایت مذکور ہے کہ
چاندی کے ہر پانچ اوقیہ پر پانچ درہم (زکات میں) واجب ہیں اور جب چاندی (پانچ اوقیہ یعنی
دو سو درہم سے) زائد ہو جائے تو ہر چالیس درہم پر ایک درہم (زکات میں) دیا جائے اور پانچ اوقیہ
(یعنی دو سو درہم) سے کم چاندی پر (زکات میں) کچھ بھی واجب نہیں، اور عمدۃ القاری میں مذکور ہے
کہ صاحب التمہید نے کہا ہے کہ ابن المسیب، حسن بصری، مکحول، عطاء، طاؤس، عمرو بن دینار،
زہری ان سب حضرات کا چاندی کی زکات کے بارے میں وہی قول ہے جو ابھی اوپر بیان کیا گیا،
اور امام ابوحنیفہ اور امام اوزاعی بھی اسی کے قائل ہیں اور خطابی کا بیان ہے کہ شعبی بھی (چاندی کی
زکات کے نصاب میں) ان سب حضرات کے مسلک سے متفق ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 620 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1573 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “For any amount exceeding that.” In ‘Umdat Al-Qari, it is said: “The author of Al-Tamhid said: This is the opinion of Ibn Al-Musayyib, Al-Hasan, Makhul, Ata, Tawus, Umar ibn Abd Al-Aziz, and Al-Zuhri. Abu Hanifah and Al-Awza’i also held this opinion. Al-Khattabi included Al-Sha’bi with them.”
Note 1
(۱) قوله : فما زاد إلخ وفي عمدة القاري»: قال صاحب التمهيد»: وهو قول ابن المسيب والحسن ومكحول وعطاء وطاوس وعمر وابن دينار والزهري، وبه يقول أبو حنيفة والأوزاعي، وذكر الخطابي الشعبي معهم.