اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2704
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے (یمن کا حاکم بنا کر) بھیجے تو فرمایا اے کرم تم ایک ایسی قوم میں
جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں (یعنی یہود و نصاریٰ ہیں) پس تم ان کو (اسلام کی) دعوت دینا کہ اللہ
کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ
اس کو مان لیں (یعنی اسلام قبول کر لیں) تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن و رات میں پانچ
نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اس بات کو (یعنی پنجگانہ نمازوں کی فرضیت کو) مان لیں تو ان کو بتلانا کہ
اللہ تعالیٰ نے ان پر زکات فرض کی ہے جو ان کے (ایسے) مالداروں سے لی جائے گی (جو صاحب
نصاب ہیں اور جن کے مال زکات واجب ہونے کے شرائط پر پورے اترتے ہیں) اور ان کے
(مسلمان) فقراء پر تقسیم کی جائے گی (جو زکات لینے کے مستحق ہیں) اگر وہ اس بات کو بھی مان لیں تو
ان کا بہترین مال (زکات میں) نہ لینا (اور اسی طرح ناقص مال بھی نہ لینا بلکہ متوسط مال لینا کہ نہ تو
زکات دینے والے کا نقصان ہو اور نہ بیت المال کا اور زکات کا مال وصول کرنے میں زیادتی اور
بدزبانی سے زکات دینے والے کو تکلیف نہ دینا) اور (ایسے) مظلوم کی بددعاء سے خود کو بچائے
رکھنا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1496 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 19a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ“ یعنی زکات ان ہی کے فقراء پر تقسیم کی جائے گی۔ اس بارے میں اعلاء السنن میں لکھا ہے کہ فرض زکات مسلمان فقراء ہی میں تقسیم کی جائے، البتہ نفل صدقات غیر مسلم فقراء کو بھی دے سکتے ہیں۔ حدیث شریف کے مذکورہ بالا ارشاد سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ زکات کو اسی مقام کے فقراء میں تقسیم کرنا چاہئے، اس لئے زکات کا ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کرنا درست نہیں، البتہ اگر دوسرے شہر میں قرابت دار ہوں یا وہاں کے لوگ زیادہ محتاج ہوں تو اس صورت میں زکات کا منتقل کرنا درست ہے جیسا کہ ہدایہ میں مذکور ہے۔12