Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2300

(اس باب میں ان لوگوں کا بیان ہے جن کو زکات اور صدقۂ فطر لینا جائز نہیں)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(اس باب میں ان لوگوں کا بیان ہے جن کو زکات اور صدقۂ فطر لینا جائز نہیں)

Zujajat al-Masabih 2300Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2703
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم کو تنگدستی لاحق ہوئی تو میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: جو شخص (باوجود تنگی کے) سوال کرنے سے بچے (اور اپنی تنگی کا دوسروں سے شکوہ نہ کرے) تو اللہ تعالیٰ اس کو (دوسروں کا) محتاج ہونے سے بچا لیتے ہیں اور جو (دوسروں کے مال سے اپنے دل کو) غنی رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کو غنی بنا دیتے ہیں اور جو ہم سے مانگے ہم اس کو دیں گے۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں میں اپنے دل میں یہ ٹھان لیا کہ میں اب کسی سے سوال نہیں کروں گا تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے (دوسروں کا) محتاج بننے سے بچائے اور اپنے (قلب) کو غنی رکھوں گا تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے غنی بنا دے وہ کہتے ہیں کہ (میرے اس عزم کے بعد) خدا کی قسم چند ہی روز نہ گزرنے پائے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام میں کشمش تقسیم فرمائی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں سے ہمارے لئے بھی حصہ روانہ فرمائے۔ پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو تقسیم فرمائے تو اس میں سے بھی ہمارے پاس حصہ روانہ فرمائے، پھر کیا تھا کہ ہم پر دنیا کا سیلاب امڈ آیا اور (دنیا نے تونگری میں) ہم کو ڈبو دیا۔ ہاں مگر وہی شخص محفوظ رہا جس کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 2

Whoever asks us, we will give him.

(2) The statement: “Whoever asks us, we will give him.” Al-Tahawi said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever asks us, we will give him,’ addressing his companions, most of whom were healthy and not disabled, but they were poor. He did not prevent them from charity due to their health. This indicates what we have mentioned, and the one who refrains from asking is better than the one who asks. Abu Sa’id did not ask for this reason, and if he had asked, the Prophet (ﷺ) would have given him, as he had offered it to him and others like him among his companions.”

Note 2

قوله

(۲) قوله: من سألنا أعطيناه وقال الطحاوي: فهذا رسول الله ﷺ يقول : من سألنا أعطيناه، ويخاطب بذلك أصحابه، وأكثرهم صحيح لا زمانة به، إلا أنه فقير، فلم يمنعهم منها لصحتهم. فقد دل ذلك على ما ذكرنا، وفضل من استعف ولم يسأل على من سأل، فلم يسأله أبو سعيد لذلك، ولو سأله لأعطاه؛ إذ قد كان بذل ذلك له ولأمثاله من أصحابه.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”مَنْ سَأَلَنَا أَعْطَيْنَا“ یعنی جو ہم سے مانگے ہم اس کو دیں گے۔ اس بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خطاب اپنے صحابہ سے تھا جن میں اکثر و بیشتر صحیح و تندرست تھے ان میں کوئی اپاہج یا مریض نہ تھے، ہاں البتہ تنگدست ضرور تھے، ان کے صحیح و تندرست ہونے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو زکات حاصل کرنے سے نہیں روکا، اور یہ نہیں فرمایا کہ ہم اسی کو زکات دیں گے جو صحیح اور تندرست نہ ہو، اس سے معلوم ہوا کہ زکات لینا جائز ہونے کی شرط صحت اور مرض نہیں بلکہ تنگدستی ہے۔ اس حدیث شریف سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کرنے پر اس شخص کو فضیلت دی ہے جو سوال نہ کرتا ہو اور اپنے کو مانگنے سے بچاتا ہو، جیسا کہ امام طحاوی نے فرمایا ہے۔12