ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت شریف ”اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ
لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِيْنِ“ الخ کی تفسیر میں آپ نے فرمایا کہ اس آیت میں جن جن لوگوں کو مستحق
زکات قرار دیا گیا ہے ان میں سے تم جس کسی کو بھی زکات دو گے تمہاری زکات ادا ہو جائے گی۔
اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔
اور ابن ابی شیبہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
ف(1): آیت ”اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِيْنِ“ کی تفصیل اس سے پہلے والی
حدیث کے فائدہ میں گزر چکی ہے۔
ف(2): اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ مستحقین زکات میں سے جس کسی کو زکات دی
جائے تو زکات ادا ہو جائے گی اس بارے میں ہدایہ میں لکھا ہے کہ زکات ادا کرنے والے کو اختیار ہے
کہ چاہے تو وہ مذکورہ مستحقین زکات میں سے ہر ایک کو دے یا چاہے تو وہ مذکورہ لوگوں میں کسی ایک ہی
کو دیدے۔ ہر دو صورتوں میں زکات ادا ہو جائے گی اور یہی مذہب حنفی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): آیت ”اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِيْنِ“ کی تفصیل اس سے پہلے والی حدیث کے فائدہ میں گزر چکی ہے۔ ف(2): اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ مستحقین زکات میں سے جس کسی کو زکات دی جائے تو زکات ادا ہو جائے گی اس بارے میں ہدایہ میں لکھا ہے کہ زکات ادا کرنے والے کو اختیار ہے کہ چاہے تو وہ مذکورہ مستحقین زکات میں سے ہر ایک کو دے یا چاہے تو وہ مذکورہ لوگوں میں کسی ایک ہی کو دیدے۔ ہر دو صورتوں میں زکات ادا ہو جائے گی اور یہی مذہب حنفی ہے۔