Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے) · Chapter 4

(اس باب میں ان لوگوں کا بیان ہے جن کو زکات اور صدقۂ فطر لینا جائز نہیں)

16 narrations · In source reading order

Hadith 2287

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2687
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستہ سے گزر رہے تھے کہ آپ کی نظر ایک کھجور پر پڑی جو راستہ میں (پڑا ہوا) تھا، آپ اس کو دیکھ کر فرمائے اگر مجھے اس کا اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ کہیں کا صدقہ کا ہو تو میں اس کو کھا لیتا (لیکن میں اس کو نہیں کھایا، اس خوف کہ کہیں یہ صدقہ کا ہو)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

And the words of Allah, the Almighty: “Take from their wealth a charity by which you purify them” (At-Tawbah 9:103), and His words: “Or a poor person in severe hardship” (Al-Balad 90:16).

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2431 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1071b (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Chapter-heading commentary

By which you purify them.

(1) The statement: “By which you purify them.” Ali Al-Qari said: “It is like washing away dirt.”

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله: تطهرهم : قال علي القاري: فهي كغسالة الأوساخ.

Hadith 2288

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2688
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں جب (کہیں سے) کھانا پیش کیا جاتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دریافت فرماتے کیا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر عرض کیا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو آپ (ان) اصحاب سے (جو اہل بیت سے نہ ہوں) فرماتے آپ لوگ کھا لیجئے اور اگر یہ عرض کیا جاتا کہ (یہ کھانا) ہدیہ ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا دست مبارک بڑھاتے اور اپنے صحابہ کے ساتھ تناول فرماتے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2576 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1077a (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2289

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2689
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے زکات (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12) کے کھجور میں سے ایک کھجور لے کر منہ میں ڈال لیا (یہ دیکھ کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کِخْ کِخْ کہا (یعنی تھوک دو، تھوک دو) فرمایا تا کہ وہ کھجور منہ سے نکال کر پھینک دیں اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (تفہیم کے لئے) فرمایا کیا تم کو نہیں معلوم کہ ہم (بنی ہاشم) زکات اور صدقہ نہیں کھاتے ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1491 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1069a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

We do not eat charity.

(2) The statement: “We do not eat charity.” In Al-Durr Al-Mukhtar: “Charity cannot be given to Banu Hashim. The apparent ruling in the school is a general prohibition. The opinion of Al-Ayni and Al-Hashimi that it is permissible to give one’s charity to someone like them is incorrect. It is not permissible.” This is mentioned in Al-Nahr. In Sharh Al-Nuqayah: Al-Tahawi said: “Abu Hanifah held that all charities are permissible for Banu Hashim, and the prohibition was during the Prophet’s lifetime because they received a share of the Khums. When that ceased after his death, charity became permissible for them.” He said: “This is our position.”

Note 2

قوله

(۲) قوله : إنا لا نأكل لذلك قال في الدر المختار ولا يصرف إلى بني هاشم. ثم ظاهر المذهب إطلاق المنع. وقول العيني والهاشمي يجوز له دفع زكاته لمثله صوابه لا يجوز. نهر) انتهى. وقال في شرح النقاية»: قال الطحاوي وعن أبي حنيفة لك أن الصدقات كلها جائزة على بني هاشم، والحرمة كانت في عهده ؛ الوصول الخمس إليهم. فلما سقط ذلك بموته حلت لهم الصدقة. قال: وبه نأخذ.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”إِنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ“ (ہم (بنی ہاشم) زکات اور صدقہ نہیں کھاتے ہیں) اسی بناء پر درمختار میں لکھا ہے کہ زکات اور صدقۂ فطر بنی ہاشم کو نہ دیئے جائیں۔ چنانچہ ظاہر مذہب یہ ہے کہ بنی ہاشم کو صدقہ دینا مطلقاً منع ہے اور علامہ عینیؒ نے فرمایا ہے کہ بنی ہاشم کا کسی بنی ہاشم کو زکات دینا جائز ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ بھی ناجائز ہے جیسا کہ نہر میں مذکور ہے۔ شرح الوقایہ میں لکھا ہے کہ امام طحاوی نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ بنی ہاشم کو اس زمانہ میں ہر قسم کے صدقات لینا جائز ہے اور صدقات لینے کی حرمت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک ہی میں تھی کیونکہ بنو ہاشم کو مال غنیمت میں خُمس ملا کرتا تھا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد ساقط ہوگیا۔ جس کی وجہ سے بنو ہاشم کے لئے صدقات کا قبول کرنا جائز ہوگیا۔ امام طحاوی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ زکات اور دیگر صدقات بنی ہاشم کو دینا جائز ہے۔12

Hadith 2290

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2690
عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ صدقات لوگوں کے (اموال کے) میل ہیں (جو لوگوں کو اور ان کے مالوں کو پاک کرتے ہیں اس لئے) نہ تو یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے حلال ہیں، نہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کے لئے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1072b (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ صدقات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے حلال نہیں، اس بارے میں مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ یہاں ”آل محمد“ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مراد اقرباء یعنی بنو ہاشم ہیں جن کی تفصیل یہ ہے: اولاد حارث بن عبدالمطلب، اولاد عباس بن عبدالمطلب، اولاد حضرت علی بن ابی طالب، اولاد جعفر بن ابی طالب، اولاد عقیل بن ابی طالب، ہدایہ میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔

Hadith 2291

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2691Noor 2692
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ بَرِیرَہ (جو حضرت عائشہ کی آزاد کردہ باندی تھیں) کی وجہ سے شریعت کے تین احکام معلوم ہوئے (ایک) یہ کہ جب بَرِیرَہ آزاد کر دی گئیں تو ان کو اپنے شوہر کے نکاح میں رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیا گیا (اس کو خیارِ عتق کہتے ہیں۔ خیارِ عتق یہ ہے کہ باندی جب آزاد کر دی جائے تو وہ مختار ہے کہ چاہے تو وہ اپنے سابقہ نکاح کو فسخ کر دے یا باقی رکھے خواہ شوہر آزاد ہو یا غلام)۔ جیسا کہ اشعۃ اللمعات اور مرقات میں مذکور ہے)۔ اور بخاری نے اس کی روایت مُقَطَّعًا یعنی چیدہ چیدہ کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1493 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(دوسرا حکم یہ تھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بَرِیرَہ کے آزاد کرنے کے موقع پر) ارشاد فرمائے کہ حق ولاء اسی کو حاصل ہے جس نے اس کو آزاد کیا (یعنی غلام یا باندی کو کوئی آزاد کر دے اور اس کے بعد ان کے پاس مال و دولت آ جائے پھر وہ مر جائیں اور ان کا کوئی حقیقی وارث نہ ہو تو آزاد کرنے والا ہی ان کا وارث ہوگا۔ اس حق کو حق ولاء کہتے ہیں)۔ جیسا کہ اشعۃ اللمعات اور نور الانوار میں مذکور ہے۔12 (تیسرا حکم یہ تھا کہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک دفعہ تشریف لائے اس وقت ہانڈی میں گوشت پک رہا تھا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے روٹی اور گھر کا دوسرا سالن پیش کیا گیا تو حضور فرمائے کیا میں ہانڈی میں گوشت پکتا ہوا نہیں دیکھ رہا ہوں (یہ مجھے کیوں نہیں دیا جاتا) عرض کیا گیا کہ جی ہاں گوشت پک رہا ہے لیکن یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ کو بطور صدقہ دیا گیا تھا۔ اور آپ چونکہ صدقہ نہیں کھاتے ((اس لئے آپ کو نہیں دیا گیا) اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ (وہ گوشت) جو بریرہ کو دیا گیا تھا وہ ان کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے (بریرہ کی جانب سے) ہدیہ ہے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی چیز حاجتمند کو بطور زکات یا صدقہ دی جائے اور وہ شخص کسی ایسے شخص کو وہ مال دیدے جس پر زکات حرام ہے تو اس کو مال کا لے لینا جائز ہے کیونکہ ملک کی تبدیلی اس چیز کے وصف کی تبدیلی کا سبب ہے۔) (جیسا کہ اشعۃ اللمعات اور نور الانوار میں مذکور ہے۔12۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Hadith 2292

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2693
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہدیہ قبول فرمایا کرتے تھے اور ہدیہ کا بدلہ دیا کرتے تھے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2585 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2293

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2694
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روایت فرماتے ہیں کہ اگر مجھے بکرے کے ایک پایہ کی بھی دعوت دی جائے (اس سے ادنیٰ سے ادنیٰ چیز مراد ہے) تو میں اس کو قبول کروں گا اور اگر میرے پاس بکرے کا ایک دست بھی ہدیۃً بھیجا جائے تو میں اس کو قبول کرلوں گا۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5178 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2568 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2294

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2695
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (حقیقی) مسکین وہ نہیں ہے جو ایک ایک دو دو لقموں اور ایک ایک دو دو کھجوروں کے لئے لوگوں کے گرد گھومتا رہے لیکن (حقیقی) مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جو اس کی کفایت کرے اور اپنی ضرورت کی تکمیل کے لئے لوگوں سے (اس کو) بے نیاز کردے اور (وہ کسی سے سوال نہیں کرتا اس وجہ سے) لوگوں کو اس کی ضرورت کا علم نہیں ہوتا کہ اس کو خیرات دیں اور نہ ہی وہ لوگوں کے پاس جا کر مانگتا پھرتا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1479 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1039a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Who does not have enough to suffice him.

(1) The statement: “Who does not have enough to suffice him.” Ali Al-Qari said in Al-Mirqat: “This is evidence for the opinion of Abu Hanifah, Malik, and their followers that the poor person (miskin) is the one who owns nothing, making him worse off than the needy (faqir), who owns something but not enough to suffice him. The recipients of charity are the needy (faqir), who own less than the nisab, and the poor (miskin), who own nothing according to the school. Some say the opposite, but the first opinion is more correct. Al-Shafi’i held that the needy (faqir) is worse off than the poor (miskin).” This is mentioned in Al-Durr Al-Mukhtar and Rad Al-Muhtar.

Note 1

قوله

(۱) قوله: لا يجد غنى: أي شيئًا أو مالا يغنيه أي عن غيره ويكفيه، وفيه حجة لما ذهب إليه أبو حنيفة ومالك ومن تبعهما من أن المسكين هو الذي لا يملك شيئًا، فهو أسوأ حالا من الفقير؛ لأنه يملك ما لا يكفيه. قاله علي القاري في «المرقاة». حاصله: أن مصرف الزكاة الفقير أي من له ما دون النصاب، والمسكين أي من لا شيء له على المذهب. قيل: على العكس، والأول أصح. وعن الشافعي: أن الفقير أسوأ حالا من المسكين، الدر المختار» و«رد المحتار ملتقط منهما.

Note 1

ف: واضح ہو کہ زکات کے مستحق مسکین اور فقیر دونوں ہیں، فقیر ایسے شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس تھوڑا سا مال ہو، اور مسکین وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ بھی مال نہ ہو، اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ“ (سورة البلد، آیت نمبر:16، پ:30، ع:1، میں) یا کسی مسکین خاک نشین کو، اسی وجہ سے، امام اعظم اور امام مالک رحمہما اللہ دونوں کے پاس اور ان کے پاس بھی جنہوں نے ان دونوں ائمہ کی پیروی کی ہے، مسکین، فقیر سے زیادہ تنگ حال ہوتا ہے۔ یہ مضمون مرقات، درمختار اور ردالمحتار سے ماخوذ ہے۔

Hadith 2295

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2696
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو زکات وصول کرنے کے لئے روانہ فرمایا تو انہوں نے ابو رافع سے (جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے) کہا: تم بھی میرے ساتھ چلو تمہیں بھی اس میں سے کچھ مل جائے گا تو ابو رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں (میں تمہارے ساتھ نہیں چل سکتا) تاوقتیکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر ہو کر اجازت نہ حاصل کرلوں۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس مسئلہ کو دریافت کئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں (اس لئے کہ ہم بنی ہاشم ہیں) اور قوم کے غلام اسی قوم میں (شمار) ہوتے ہیں (یعنی غلام بھی اپنے آقا کی قوم میں شمار کئے جاتے ہیں اس لئے تم پر بھی صدقہ حلال نہیں)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 657 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1650 (unverified) 97% confidence · Validation similarity: 0.653

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2296

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2697Noor 2698
حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جس کسی شخص نے بغیر فقر و احتیاج کے سوال کیا (اور بغیر استحقاق کے مال حاصل کرلیا تو گویا وہ مال نہیں کھاتا ہے بلکہ) وہ آگ کھاتا ہے۔ اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔ اور ترمذی، ابوداؤد، دارمی، امام احمد، نسائی اور ابن ماجہ، ان سب کتابوں کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے کہ غنی کے لئے صدقہ لینا حلال نہیں ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 653 (unverified) 93% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 654 (unverified) 86% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Without being in need.

(1) The statement: “Without being in need.” Al-Tahawi said: “This narration from Hubshi confirms what the Hanafis have reported: that asking is only permissible in cases of need.”

Note 2

Charity is not permissible for the wealthy.

(2) The statement: “Charity is not permissible for the wealthy.” In Sharh Al-Nuqayah: “We do not give charity to wealthy soldiers or pilgrims. Malik and Al-Shafi’i permitted giving charity to wealthy soldiers based on the narration in Sunan Abu Dawud and Ibn Majah from Abu Sa’id Al-Khudri, who said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Charity is not permissible for the wealthy except for five: the collector of charity, one who buys it with his wealth, a debtor, a fighter in the path of Allah, or a poor person who receives charity and gives it as a gift to a wealthy person.” We rely on the narration in Abu Dawud and Tirmidhi from Abdullah ibn Amr ibn Al-As: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Charity is not permissible for the wealthy...”’ Al-Hakim narrated it and said: ‘It is authentic according to the conditions of the two Shaykhs, but they did not narrate it.’” Ibn Al-Humam said: “It is said that this hadith (from Ata ibn Yasar) is not established, and even if it were, it would not outweigh the hadith of Muadh, which was narrated by the authors of the six books along with its counterpart: ‘Charity is not permissible for the wealthy.’ Even if it were strong, the hadith of Muadh would outweigh it because it is prohibitive, while the other is permissive.”

Note 1

قوله

(۱) قوله: من غير فقر : وقال الطحاوي: فهذا حبشي قد حكى هذا عن النبي ، فوافق ما حكى من ذلك ما حكاه الحنفية من أن المسألة إنما تحل بالفقر.

Note 2

قوله

(۲) قوله: لا تحل الصدقة لغني: لذلك قال في شرح النقاية»: لا يدفع الزكاة على أغنياء الغزاة والحجاج عندنا، وجوز مالك والشافعي دفعها إلى أغنياء الغزاة؛ لما في سنن أبي داود وابن ماجه عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله ﷺ: لا يحل الصدقة لغني إلا لخمسة: العامل عليها، ورجل اشتراها بماله، أو غارم، أو غاز في سبيل الله، أو مسكين تصدق بها عليه، فأهديها لغني، ولنا ما في أبي داود والترمذي من حديث عبد الله بن عمرو بن العاص : أن رسول الله ﷺ قال: لا تحل الصدقة لغني إلخ رواه الحاكم، وقال: صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه انتهى. وقال ابن الهمام: قيل: لم يثبت هذا الحديث يعني حديث عطاء بن يسار، ولو ثبت لم يقو قوَّةً ترجح حديث معاذ؛ فإنه رواه أصحاب الكتب الستة مع قرينه من الحديث الآخر، يعني قوله: لا تحل الصدقة لغني، ولو قوي قوته ترجح حديث معاذ بأنه مانع و ما رواه مبيح.

Note 1

ف(1): صدر کی حدیث میں بغیر فقر و احتیاج کے سوال کرنے کی جو وعید مذکور ہے، اس سے مسلک حنفی کی تائید ہوتی ہے کہ سوال اسی وقت کرنا جائز ہے جبکہ کوئی فقر اور تنگی میں ہو، جیسا کہ امام طحاوی نے فرمایا ہے۔ ف(2): واضح ہو کہ حدیث شریف کے دوسرے حصے میں ارشاد ہے کہ غنی کے لئے صدقہ لینا حلال نہیں، اس بارے میں مرقات میں محیط کے حوالے سے لکھا ہے کہ غنی یعنی تونگری کی تین قسمیں ہیں: (1) غنی کی ایک قسم یہ ہے کہ جس سے زکات واجب ہوتی ہو اور وہ یہ ہے کہ کوئی شخص نصاب کا مالک ہو، اور اس پر سال بھی گزرے اور وہ مال نامی یعنی اس میں بڑھنے کی صلاحیت موجود ہو۔ (2) غنی کی دوسری قسم یہ ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کو صدقہ لینا اس لئے جائز نہیں کہ اس پر صدقہ فطر اور قربانی واجب ہے اور صدقہ فطر اور قربانی واجب ہونے کا نصاب یہ ہے کہ کسی کے پاس اس کے ضروری اسباب سے زیادہ اتنی قیمت کا مال و اسباب موجود ہو کہ اتنی قیمت پر زکات واجب ہو جاتی ہے اور (3) غنی کی تیسری قسم یہ ہے کہ جس کی وجہ سے اگر کوئی اس کو صدقہ دیدے تو وہ صدقہ تو لے سکتا ہے لیکن سوال نہیں کر سکتا۔ اور وہ یہ ہے کہ اس کے پاس ایک دن کی خوراک اور اتنا کپڑا موجود ہو، جس سے اس کی ستر پوشی ہو جائے۔ مرقات کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔ اور شرح نقایہ میں لکھا ہے کہ زکات اغنیاء کو نہ دی جائے چاہے وہ جہاد کے لئے جا رہے ہوں یا حج کے لئے اور یہی شافعی مذہب ہے۔12

Hadith 2297

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2699
عبداللہ بن عدی بن الخیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے دو آدمیوں نے بیان کیا کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، آپ اس وقت زکات کا مال تقسیم فرما رہے تھے، انہوں نے بھی آپ سے زکات کا مال طلب کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو غور سے دیکھا اور نگاہیں نیچے کر لیں، ہم کو قوی اور تندرست دیکھ کر حضور فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تم کو اس میں سے دیدوں، لیکن زکات میں نہ تو غنی کا حصہ ہے اور نہ ایسے قوی شخص کا حصہ ہے جو کمانے کی طاقت رکھتا ہو۔ اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1633 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2598 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 3

If you wish, I will give you.

(3) The statement: “If you wish, I will give you.” In Al-Mirqat: “Charity is not permissible for someone whose limbs are healthy and who is strong enough to earn enough to support himself and his family. This is the opinion of Al-Shafi’i and the Hanafis, provided he does not own the nisab. Shaykh Ibn Al-Humam said: ‘The answer is that the hadith indicates the prohibition of asking for them, as he said: “If you wish, I will give you.” If taking it were prohibited without exempting the giver, he would not have done it.’ Al-Sindi said: ‘This indicates that if someone gives it to them, it is permissible for them to take it and valid for the giver; otherwise, it would not be valid for him to give it to them at their request.’ Al-Tahawi said: ‘The evidence for the Hanafis is that his statement, “If you wish, I will give you, but there is no share in it for the wealthy,” means that if your wealth is hidden from me, and if you are wealthy, there is no share for you. If you wish, I will give you because I do not know about your wealth, but it is prohibited for you to take what I give you if you know that you are wealthy, contrary to what I see from your apparent condition that indicates your poverty. This is the meaning of his statement: “If you wish, I will give you, but there is no share in it for the wealthy.” As for his statement: “Nor for the strong who can earn,” it means that there is no share in it for the strong who can earn in all the ways that require a share.’”

Note 3

قوله

(۳) قوله: إن شئتها إلخ: وفي المرقاة: لا تحل الزكاة لمن أعضاؤه صحيحة، وهو قوي يقدر على الاكتساب بقدر ما يكفيه وعياله. وبه قال الشافعي والحنفية على أنه إن لم يكن له نصاب حلت له الصدقة. وقال الشيخ ابن الهمام: والجواب: أن الحديث دل على أن المراد حرمة سؤالهما لقوله: وإن شئتما أعطيتكما، فلو كان الأخذ محرما غير مسقط عن صاحب المال لم يفعله انتهى. وقال السندي: هذا يدل على أنه لو أدى أحد إليهما يحل لهما أخذه ويجزئ عنه، وإلا لم يصح له أن يؤدي إليهما بمشيئتهما انتهى. وقال الطحاوي: فالحجة للحنفية عليه في ذلك أن قوله: وإن شئتهما أعطيتكما ولا حظ فيها لغني أي إن غناكما يخفى علي؛ فإن كنتما غنيين فلا حظ لكما فيها، وإن شئتما أعطيتكما؛ لأني لم أعلم بغناكها ، فمباح لي إعطاؤكما، وحرام عليكما أخذ ما أعطيتكما إن كنتما تعلمان من حقيقة أموركما في الغنى خلاف ما أرى من ظاهر كما الذي استدللت به على فقركما. فهذا معنى قوله: «إن شئتما أعطيتكما ولاحظ فيها لغني». وأما قوله: ولا لقوي مكتسب فذلك على أنه لا حظ فيها للقوي المكتسب من جميع الجهات التي يجب الحظ فيها.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”وَإِنْ شِئْتُمَا اعطيتكما“ ان دو قوی شخصوں سے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زکات کا مال طلب کیا تھا، حضور ارشاد فرمائے ”اگر تم دونوں چاہو تو میں تم کو اس (مال زکات میں سے) کچھ دیدوں‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد مبارک کے دو جزء ہیں:(1) ایک یہ کہ قوی اور کمانے کی طاقت رکھنے والے کا سوال کرنا۔(2) دوسرا یہ کہ قوی اور کمانے کی طاقت رکھنے والے کو مال زکات کا دینا۔ ان دونوں صورتوں میں امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک یہ ہے کہ قوی اور تندرست شخص کو زکات کا دینا حرام ہے خواہ وہ سوال کرے یا نہ کرے۔ مسلک حنفی پہلے جزء کے بارے میں یہ ہے کہ قوی اور تندرست شخص کا سوال کرنا حرام ہے کیوں کہ اگر قوی اور تندرست کا سوال کرنا حرام نہ ہوتا تو حضور ان سے یہ نہ فرماتے کہ اگر تم چاہو تو غنی مال طلب کرو، کیوں کہ بظاہر تمہارا قوی اور تندرست ہونا اور کمانے کی طاقت رکھنا تمہارے لئے سوال کرنے کی حرمت کا سبب ہے۔ اس سے قوی اور تندرست کے لئے حرمت سوال کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ شیخ ابن الہمام اور امام طحاوی نے فرمایا ہے کہ جس کو صاحب مرقات نے بیان کیا ہے۔ ارشاد مبارک ”و ان شئتما اعطيتكما“ کے دوسرے جزء قوی اور تندرست کو مال زکات کا دینا ہے۔ اس بارے میں مذہب حنفی یہ ہے کہ قوی اور تندرست کو جب کہ وہ سوال کرے مال زکات کا دینا جائز ہے۔ اس لئے کہ سوال کرنے والے کی حقیقت حال سے دینے والا باخبر نہیں ہوتا اور اگر ایسے شخص کو اگر زکات دی جائے تو زکات ادا ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تم کو (مال زکات میں سے) دیدوں۔ اگر ان قوی اور تندرست آدمیوں کا مال زکات کا لینا حرام ہوتا کہ جس کی وجہ سے زکات دینے والے کی زکات ہی ادا نہ ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے یہ نہ فرماتے کہ میں اس میں سے تم کو دیدیتا ہوں۔ (یہ مضمون ہدایہ سے ماخوذ ہے اور ابن الہمام اور امام طحاوی اور سندھی نے بھی ایسا ہی کہا ہے) اور اعلاء السنن میں مذکور ہے کہ قوی اور تندرست شخص جو کمانے کی طاقت بھی رکھتا ہو اگر وہ فقیر اور تنگدست ہو تو ایسے شخص کو بھی زکات دینا جائز ہے۔12

Hadith 2298

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2700
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کا امیر بنادیا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ان کے صدقات یعنی زکات میں سے کچھ مقرر فرمادیجئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (میرے لئے زکات میں سے کچھ حصہ) مقرر فرمایا، اور ایک حکم نامہ بھی لکھوادیا۔ ایک دوسرا شخص خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے بھی زکات میں سے کچھ دیدیجئے تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے زکات کے متعلق فیصلہ نبی یا غیر نبی کسی کے ہاتھ میں نہیں رکھا بلکہ اللہ بزرگ و برتر نے اس کے بارے میں آسمان سے حکم نازل فرمایا ہے۔ پس تقسیم کیا اللہ تعالیٰ نے (زکات کو) آٹھ حصوں پر (یعنی آٹھ قسم کے آدمیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے زکات کو حلال کیا ہے پس اگر تم ان (آٹھ) قسم کے لوگوں میں سے ہو تو میں تم کو زکات دیدوں گا۔ اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1630 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He appointed me.

(1) The statement: “He appointed me.” Al-Tahawi said: “This Suda’i was appointed by the Messenger of Allah (ﷺ) over his people, and it is impossible that he appointed him while he was disabled. He then asked for some of his people’s charity, which is their Zakat, and the Prophet (ﷺ) gave it to him without preventing him due to his physical health. Then another man asked him, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If you are among the portions that Allah, the Almighty, has divided the charity into, I will give you from it.’ The Messenger of Allah (ﷺ) thus referred the ruling on charity to what Allah, the Almighty, referred it to in His words: ‘Charities are only for the poor and the needy...’ (At-Tawbah 9:60). Whoever falls under the category of any of those groups is among the recipients of charity, as Allah, the Almighty, has designated for them in His Book and His Messenger in his Sunnah, whether they are disabled or healthy.”

Note 1

قوله

(۱) قوله: أمرني إلخ وقال الطحاوي: فهذا الصدائي قد أمره رسول الله له على قومه، ومحال أن يكون أمره وبه زمانة، ثم قد سأله من صدقة قومه، وهي زكاتهم، فأعطاه منها ولم يمنعه منه لصحة بدنه، ثم سأله الرجل الآخر بعد ذلك، فقال له رسول الله ﷺ: إن كنت من الأجزاء الذين جزأ الله عز وجل الصدقة فيهم أعطيتك منها، فرد رسول الله ﷺ بذلك حكم الصدقات إلى ما ردَّها الله عز وجل إليه بقوله: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ (التوبة: ٦٠) الآية. فكل من وقع عليه اسم صنف من تلك الأصناف فهو من أهل الصدقة الذين جعلها الله عز وجل لهم في كتابه، ورسوله في سنته زمنًا كان أو صحيحًا.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مستحقین زکات کا ذکر ہے، ان کو اس آیت مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے وہ آیت یہ ہے (سورۃ توبہ، آیت نمبر:60، پ:10، ع:8) ”إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ“ (فرض صدقات یعنی زکات تو صرف غریبوں کا اور محتاجوں کا اور زکات کے وصول کرنے والوں کا اور ان کا حق ہے جن کی دلجوئی کرنا منظور ہے اور غلاموں کو آزاد کرانے میں صرف کرنا اور قرض داروں (کے قرض کی ادائی) میں خرچ کرنا اور راہ جہاد میں صرف کرنا، اور مسافروں کی امداد میں دینا)۔ آیت شریفہ میں زکات کے مستحق آٹھ آدمیوں کو قرار دیا گیا ہے جن میں فقراء اور مساکین کی تفصیل حدیث 69 کے فائدہ میں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے گزر چکی ہے بقیہ اشخاص کی تفصیل ملاحظہ ہو: (3) عاملین یعنی محصلین زکات جو سلطان اسلام کی طرف سے مقرر ہوں ان کو باوجود غنی ہونے کے اس زکات میں سے بطور اجرت کے دینا جائز ہے مگر عامل بنی ہاشم ہو تو اس کو مال زکات میں سے دینا جائز نہیں۔ (4) ”وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ“: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ان لوگوں کو بھی زکات دی جاتی تھی جو مسلمان نہ ہوں مگر ان کے مسلمان ہونے کی امید پر یا ان کے شر اور فتنہ سے بچنے کے لئے، صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں ان کے زکات کے مستحق نہ ہونے پر اجماع ہوگیا اور اب یہ حکم باقی نہ رہا۔ (5) وَفِي الرِّقَابِ: یعنی مکاتب غلام، ایسا غلام جس کو اس کے مالک نے کہہ دیا ہے کہ تو اتنا روپیہ دیدے تو آزاد ہے، ایسے غلام کو زکات دینی جائز ہے تاکہ وہ اپنے آقا کو وہ رقم دے کر آزاد ہوجائے۔ (6) وَالْغَارِمِينَ: سے مراد ایسے قرضدار ہیں جن پر اتنا قرض ہو کہ قرض کے منہا ہونے کے بعد جو رقم باقی رہ جائے وہ نصاب سے کم ہو تو ایسے لوگوں کو زکات کی رقم لے کر ان کے قرض کو ادا کرنا درست ہے۔ (7) وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ: ایسے مجاہد اور غازی کو زکات کا دینا درست ہے جو اپنا گھر اور مال و اسباب تو رکھتا ہے مگر میدان جہاد میں گھر سے جدا ہو کر حاجت مند ہو گیا ہے اور یہاں اس کے پاس کوئی سامان نہیں، یہی حکم حاجی کا ہے۔ (8) وَابْنِ السَّبِيْلِ: ایسا مسافر جو اپنے وطن میں مال و دولت رکھتا ہو، لیکن مسافرت میں غریب الوطن ہو کر حاجت مند ہو گیا ہے، ایسے شخص کو بھی مال زکات دینا درست ہے۔ ان ساری صورتوں میں شرط یہ ہے کہ جن کو زکات دی جائے ان کو اس کا مالک کر دیا جائے، بغیر مالک بنائے زکات ادا نہ ہوگی۔ یہ سارے احکام فرض زکات سے متعلق ہیں۔ نفل صدقات میں یہ شرائط نہیں ہیں۔ ان تمام مذکورہ بالا صورتوں میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ زکات لینے والا ہاشمی نہ ہو۔ (ہدایہ تفسیرات احمدیہ)12

Hadith 2299

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2701Noor 2702
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت شریف ”اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِيْنِ“ الخ کی تفسیر میں آپ نے فرمایا کہ اس آیت میں جن جن لوگوں کو مستحق زکات قرار دیا گیا ہے ان میں سے تم جس کسی کو بھی زکات دو گے تمہاری زکات ادا ہو جائے گی۔ اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔ اور ابن ابی شیبہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1): آیت ”اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِيْنِ“ کی تفصیل اس سے پہلے والی حدیث کے فائدہ میں گزر چکی ہے۔ ف(2): اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ مستحقین زکات میں سے جس کسی کو زکات دی جائے تو زکات ادا ہو جائے گی اس بارے میں ہدایہ میں لکھا ہے کہ زکات ادا کرنے والے کو اختیار ہے کہ چاہے تو وہ مذکورہ مستحقین زکات میں سے ہر ایک کو دے یا چاہے تو وہ مذکورہ لوگوں میں کسی ایک ہی کو دیدے۔ ہر دو صورتوں میں زکات ادا ہو جائے گی اور یہی مذہب حنفی ہے۔

Hadith 2300

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2703
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم کو تنگدستی لاحق ہوئی تو میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: جو شخص (باوجود تنگی کے) سوال کرنے سے بچے (اور اپنی تنگی کا دوسروں سے شکوہ نہ کرے) تو اللہ تعالیٰ اس کو (دوسروں کا) محتاج ہونے سے بچا لیتے ہیں اور جو (دوسروں کے مال سے اپنے دل کو) غنی رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کو غنی بنا دیتے ہیں اور جو ہم سے مانگے ہم اس کو دیں گے۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں میں اپنے دل میں یہ ٹھان لیا کہ میں اب کسی سے سوال نہیں کروں گا تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے (دوسروں کا) محتاج بننے سے بچائے اور اپنے (قلب) کو غنی رکھوں گا تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے غنی بنا دے وہ کہتے ہیں کہ (میرے اس عزم کے بعد) خدا کی قسم چند ہی روز نہ گزرنے پائے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام میں کشمش تقسیم فرمائی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں سے ہمارے لئے بھی حصہ روانہ فرمائے۔ پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو تقسیم فرمائے تو اس میں سے بھی ہمارے پاس حصہ روانہ فرمائے، پھر کیا تھا کہ ہم پر دنیا کا سیلاب امڈ آیا اور (دنیا نے تونگری میں) ہم کو ڈبو دیا۔ ہاں مگر وہی شخص محفوظ رہا جس کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 2

Whoever asks us, we will give him.

(2) The statement: “Whoever asks us, we will give him.” Al-Tahawi said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever asks us, we will give him,’ addressing his companions, most of whom were healthy and not disabled, but they were poor. He did not prevent them from charity due to their health. This indicates what we have mentioned, and the one who refrains from asking is better than the one who asks. Abu Sa’id did not ask for this reason, and if he had asked, the Prophet (ﷺ) would have given him, as he had offered it to him and others like him among his companions.”

Note 2

قوله

(۲) قوله: من سألنا أعطيناه وقال الطحاوي: فهذا رسول الله ﷺ يقول : من سألنا أعطيناه، ويخاطب بذلك أصحابه، وأكثرهم صحيح لا زمانة به، إلا أنه فقير، فلم يمنعهم منها لصحتهم. فقد دل ذلك على ما ذكرنا، وفضل من استعف ولم يسأل على من سأل، فلم يسأله أبو سعيد لذلك، ولو سأله لأعطاه؛ إذ قد كان بذل ذلك له ولأمثاله من أصحابه.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”مَنْ سَأَلَنَا أَعْطَيْنَا“ یعنی جو ہم سے مانگے ہم اس کو دیں گے۔ اس بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خطاب اپنے صحابہ سے تھا جن میں اکثر و بیشتر صحیح و تندرست تھے ان میں کوئی اپاہج یا مریض نہ تھے، ہاں البتہ تنگدست ضرور تھے، ان کے صحیح و تندرست ہونے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو زکات حاصل کرنے سے نہیں روکا، اور یہ نہیں فرمایا کہ ہم اسی کو زکات دیں گے جو صحیح اور تندرست نہ ہو، اس سے معلوم ہوا کہ زکات لینا جائز ہونے کی شرط صحت اور مرض نہیں بلکہ تنگدستی ہے۔ اس حدیث شریف سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کرنے پر اس شخص کو فضیلت دی ہے جو سوال نہ کرتا ہو اور اپنے کو مانگنے سے بچاتا ہو، جیسا کہ امام طحاوی نے فرمایا ہے۔12

Hadith 2301

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2704
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے (یمن کا حاکم بنا کر) بھیجے تو فرمایا اے کرم تم ایک ایسی قوم میں جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں (یعنی یہود و نصاریٰ ہیں) پس تم ان کو (اسلام کی) دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ اس کو مان لیں (یعنی اسلام قبول کر لیں) تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن و رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اس بات کو (یعنی پنجگانہ نمازوں کی فرضیت کو) مان لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکات فرض کی ہے جو ان کے (ایسے) مالداروں سے لی جائے گی (جو صاحب نصاب ہیں اور جن کے مال زکات واجب ہونے کے شرائط پر پورے اترتے ہیں) اور ان کے (مسلمان) فقراء پر تقسیم کی جائے گی (جو زکات لینے کے مستحق ہیں) اگر وہ اس بات کو بھی مان لیں تو ان کا بہترین مال (زکات میں) نہ لینا (اور اسی طرح ناقص مال بھی نہ لینا بلکہ متوسط مال لینا کہ نہ تو زکات دینے والے کا نقصان ہو اور نہ بیت المال کا اور زکات کا مال وصول کرنے میں زیادتی اور بدزبانی سے زکات دینے والے کو تکلیف نہ دینا) اور (ایسے) مظلوم کی بددعاء سے خود کو بچائے رکھنا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1496 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 19a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ“ یعنی زکات ان ہی کے فقراء پر تقسیم کی جائے گی۔ اس بارے میں اعلاء السنن میں لکھا ہے کہ فرض زکات مسلمان فقراء ہی میں تقسیم کی جائے، البتہ نفل صدقات غیر مسلم فقراء کو بھی دے سکتے ہیں۔ حدیث شریف کے مذکورہ بالا ارشاد سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ زکات کو اسی مقام کے فقراء میں تقسیم کرنا چاہئے، اس لئے زکات کا ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کرنا درست نہیں، البتہ اگر دوسرے شہر میں قرابت دار ہوں یا وہاں کے لوگ زیادہ محتاج ہوں تو اس صورت میں زکات کا منتقل کرنا درست ہے جیسا کہ ہدایہ میں مذکور ہے۔12

Hadith 2302

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2705
زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ دودھ پیا، وہ آپ کو اچھا معلوم ہوا تو آپ نے اس شخص سے جس نے آپ کو یہ دودھ پلایا تھا دریافت کیا کہ یہ دودھ کہاں کا ہے تو انہوں نے کہا کہ پانی کی ایک جگہ پر اترا تھا جس کا انہوں نے نام بھی بتایا اور (کہا کہ) وہاں زکات کے کچھ اونٹ آئے ہوئے تھے اور لوگ ان کو پانی پلا رہے تھے تو اونٹ والوں نے ان کا دودھ نچوڑا یہی وہ دودھ ہے جس کو میں نے اپنے مشکیزہ میں ڈال لیا (اور آپ کو پیش کیا ہوں۔ یہ سن کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (حلق میں) انگلی ڈال کر قے کر دی (اور دودھ نکال دیا)۔ اس کی روایت امام مالک نے کی ہے اور بیہقی نے بھی شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1835 (unverified) 50% confidence
  • Candidate: Muwatta Malik 608 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1835

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قے کے ذریعہ دودھ جو نکال دیا آپ کا عمل تقویٰ اور پرہیزگاری کی بناء پر تھا۔ ورنہ اس طرح کا مال جو کسی فقیر کی جانب سے کسی غنی کو بطور ہدیہ دیا جائے، اس کا استعمال کرنا درست ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث 66 میں گزر چکا ہے جو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ ”لَهَا صَدَقَةٌ وَ لَنَا هَدِيَّةٌ“ (ان کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے)۔