Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے) · Chapter 3

(صدقہ فطر کے وجوب کا بیان)

10 narrations · In source reading order

Hadith 2277

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2671
عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر سے ایک دو دن پہلے لوگوں کو مخاطب فرمائے اور ارشاد فرمائے کہ ہر دو آدمیوں کی طرف سے ایک صاع گیہوں (صدقۂ فطر میں) ادا کرنا (واجب) ہے (یہاں دو آدمیوں میں ایک صاع کا جو ارشاد ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر ایک آدمی پر) خواہ وہ آزاد ہو یا غلام (عورت ہو یا مرد، بچہ ہو یا بڑا۔ جیسا کہ ہدایہ میں مذکور ہے۔12)) نصف صاع کی مقدار واجب ہے۔ گیہوں کے سوا اگر کھجور یا جَو (یعنی بارلی) ہوں تو ہر آدمی کی جانب سے ایک صاع کی مقدار ادا کرنا (واجب) ہے۔ اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے اور شیخ ابن الہمام نے کہا ہے کہ اس حدیث کی

Qur’an-related source paragraphs

And the words of Allah, the Almighty: “He has certainly succeeded who purifies himself” (Al-A’la 87:14).

Commentary and footnotes (3)

Chapter-heading commentary

Who purifies himself.

(1) The statement: “Who purifies himself.” In Al-Khazin: It refers to the charity of Fitr. It is narrated from Abu Sa’id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) regarding the verse: “He has certainly succeeded who purifies himself” (Al-A’la 87:14), he said: “It means giving the charity of Fitr.” This is mentioned in Al-Targhib wa Al-Tarhib.

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله: من تزكى وقال في «الخازن» هو صدقة الفطر، روي عن أبي سعيد الخدري الله في قوله: ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى ﴾ (الأعلى : ١٤) قال : أعطى صدقة الفطر. كذا في الترغيب والترهيب».

Note 1

سند صحیح ہے، اور ابوداؤد نے بھی اس کی روایت اسی کے قریب قریب کی ہے۔

Hadith 2278

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2673
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ معظمہ میں ایک آدمی کو یہ ندا دینے کے لئے روانہ فرمائے تھے کہ ہر مسلمان پر صدقۂ فطر واجب ہے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے، اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اگرچیکہ بخاری اور مسلم نے ان الفاظ سے اس حدیث کی روایت نہیں کی ہے۔

Hadith 2279

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2674
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم فرمائے ہیں کہ صدقۂ فطر ہر چھوٹے، بڑے آزاد اور غلام کی جانب سے ادا کیا جائے، جن کی پرورش کی ذمہ داری تم پر ہے۔ اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔

Hadith 2280

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2675
ابن مبارک ابن لہیعہ سے وہ عبیداللہ ابن ابی جعفر سے اور وہ اعرج سے اور اعرج ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابوہریرہ صدقۂ فطر ہر اس شخص کی جانب سے ادا کرتے تھے جو ان کے زیر پرورش ہوتا، چاہے وہ نابالغ ہو، یا بالغ، آزاد ہو یا غلام، اگرچہ غلام نصرانی کیوں نہ ہو اگر گیہوں ہوتے تو دو مدّ اور اگر کھجور ہوتے تو ایک صاع (ہر ایک کی جانب سے صدقۂ فطر میں دیا جاتا تھا)۔ اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے مشکل الآثار میں کی ہے۔

[Narrated by Al-Tahawi in Mushkil Al-Athar]

Commentary and footnotes (5)

Note 2

Ibn Lahi’ah.

(2) The statement: “Ibn Lahi’ah.” Al-Allamah Al-Ayni said: “The hadith of Ibn Lahi’ah is suitable for corroboration, especially when narrated by Ibn Al-Mubarak from him. No one has abandoned it.”

Note 3

Even if they were Christian.

(3) The statement: “Even if they were Christian.” Al-Thawri, Abu Hanifah, and his companions held that one must give the charity of Fitr on behalf of their non-Muslim slave. This is also the opinion of Ata, Mujahid, Sa’id ibn Jubayr, Umar ibn Abd Al-Aziz, and Al-Nakha’i. It is narrated from Abu Hurairah and Ibn Umar. They used as evidence the authentic hadith: “There is no charity due on a Muslim’s slave except the charity of Fitr,” which includes non-Muslims. Similarly, the hadith of Ibn Umar and Al-Khudri: “For every free person and slave.” Ibn Bazizah said: “The addition of ‘from the Muslims’ is inconsistent and doubtful in terms of chain and meaning, as Ibn Umar, its narrator, held the opinion of giving charity for non-Muslim slaves. When a narrator contradicts what he narrates, it weakens his narration.” This is the summary of what is in ‘Umdat Al-Qari and Al-Jawhar Al-Naqi.

Note 2

قوله

(٢) قوله: ابن لهيعة: قال العلامة العيني وحديث ابن لهيعة يصلح للمتابعة سيما رواية ابن المباك عنه، ولم يتركه أحد.

Note 3

قوله

(۳) قوله: نصرانيا: قال الثوري وأبو حنيفة وأصحابه عليه أن يؤدي صدقة الفطر عن عبده الكافر، وهو قول عطاء ومجاهد وسعيد بن جبير وعمر بن عبد العزيز والنخعي، وروي ذلك عن أبي هريرة وابن عمر ، واحتجوا في ذلك بما ثبت في الصحيح حديث: ليس على المسلم في عبده صدقة إلا صدقة الفطر، وهو بعمومه يتناول الكافر أيضًا، وكذا ما تقدم في حديث ابن عمر والخدري: عن كل حر وعبد». وقال ابن بزيزة: إن قوله : من المسلمين زيادة مضطربة من غير شك من جهة الإسناد والمعنى؛ لأن ابن عمر راويه كان من مذهبه إخراج الزكاة عن العبد الكافر، والراوي إذا خالف ما رواه كان تصعيفا لروايته. هذا حاصل ما في عمدة القاري» و«الجوهر النقي».

Note 1

ف: مذکورہ بالا دونوں حدیثوں میں صدقۂ فطر چھوٹے بچوں کے ساتھ بڑے یعنی بالغ بچوں کی طرف سے بھی ادا کرنے کا ذکر ہے جبکہ یہ زیر پرورش ہوں۔ ردالمختار میں لکھا ہے کہ باپ پر اپنے بالغ بچے کی طرف سے اس وقت صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے جبکہ وہ مجنون ہو، اگر بالغ بچہ عاقل بھی ہو تو باپ کے ذمہ ایسی صورت میں صدقۂ فطر ادا کرنا واجب نہیں، اگر باپ ایسے بچے کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کر دے تو استحساناً جائز ہے اور صدقۂ فطر ادا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح شوہر کے ذمہ بیوی کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب نہیں، اگر شوہر بیوی کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کر دے تو استحساناً جائز ہے اور صدقۂ فطر ادا ہو جاتا ہے۔12

Hadith 2281

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2676Noor 2677Noor 2678
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اپنے ہر غلام کی طرف سے چاہے وہ یہودی ہو یا نصرانی ہی کیوں نہ ہو صدقۂ فطر ادا کرے۔ اس کی روایت عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں کی ہے۔ اور بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا ہے کہ صدقۂ فطر نماز عید کے لئے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ اور بخاری کی ایک اور روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم صدقۂ فطر عیدالفطر کے ایک دن یا دو دن پہلے ادا کر دیا کرتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1509 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1511 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 986 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: ردالمحتار میں لکھا ہے کہ مستحب ہے کہ صدقۂ فطر عیدالفطر کے دن صبح صادق کے بعد عیدگاہ جانے سے پہلے دیدیا جائے، اور اگر عیدالفطر کے دن سے پہلے اور بعد میں صدقۂ فطر دیدے تو بھی درست ہے، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صدقۂ فطر عیدالفطر کے پہلے ادا کر دیا کرتے تھے، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں مذکور ہے۔ صاحب ردالمحتار نے اس بارے میں یہ صراحت کی ہے کہ صحابہ اس قسم کے کام اسی وقت انجام دیتے جبکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں سنا ہو، یا حضور کو کرتے ہوئے دیکھا ہو۔

Hadith 2282

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2679Noor 2680Noor 2681
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ صدقہ فطر ہر تونگر (پر واجب) ہے۔ اس کی روایت امام احمد نے اپنی مسند میں کی ہے۔ اور امام بخاری نے اس کو اپنی صحیح میں تعلیقاً کتاب الوصایا میں بیان کیا ہے اور امام بخاری کی تعلیقات کا حکم احادیث صحیحہ کا ہے۔ اور امام بخاری نے ایک مرتبہ اس روایت کو دیگر الفاظ کے ساتھ مسنداً بیان کیا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1426 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ صدقہ فطر غنی یعنی تونگر پر واجب ہے اور شریعت میں تونگر ایسے شخص کو کہتے ہیں جس پر زکات واجب ہو، یا اس پر زکات تو واجب نہیں لیکن اس کے پاس ضروری اسباب (جیسے گھر، کپڑے اور گھر کا سامان وغیرہ) سے زیادہ اتنی قیمت کا مال و اسباب ہوکہ جتنی قیمت پر زکات واجب ہوجاتی ہے، خواہ وہ تجارت کا مال ہو، یا نہ ہو، اور خواہ اس پر سال گزرے یا نہ گزرے (ہدایہ۔ ردالمحتار)۔

Hadith 2283

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2682
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کو کہ معظم یہ ندا دینے کے لئے روانہ فرمائے کہ صدقہ فطر اسلام کا (ایک شرعی) حق ہے جس کا ادا کرنا (ہر مسلمان پر) واجب ہے (اور جس کی مقدار یہ ہے) گیہوں (دینا چاہے تو ہر آدمی کی طرف سے) دو مدّ اور (اگر) جو یا کھجور (دینا چاہے) تو ایک صاع (دیا جائے)۔ اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے اور بزار نے بھی اس کی روایت اسی طرح کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Two mudd of wheat.

(1) The statement: “Two mudd of wheat.” This measurement is established for wheat based on the practice of Umar, Ali (as narrated by Al-Tahawi), Abu Bakr (as narrated by Al-Bayhaqi), Ibn Al-Zubayr, Jabir, Ibn Abbas, Ibn Mas’ud, and Abu Hurairah (as narrated by Abd Al-Razzaq). There are also marfu’ narrations in Abu Dawud, Al-Daraqutni, and others, though some chains are weak, as detailed by Al-Zayla’i in Takhrij Ahadith Al-Hidayah. However, this does not harm the ruling, as the practice of the senior Companions supports it. As for the measurement of one sa’ for dates and barley, it is established through several narrations in the books of Sunnah and other authentic collections. This is mentioned in ‘Umdat Al-Ri’ayah.

Note 1

قوله

(۱) قوله: مدان من قمح: أي نصف صاع ثبت هذا التقدير في الحنطة عن عمر وعلي عند الطحاوي وعن أبي بكر عند البيهقي، وعن ابن الزبير وجابر وابن عباس وابن مسعود وأبي هريرة عند عبد الرزاق، ورويت في ذلك أيضًا أحاديث مرفوعة عند أبي داود والدارقطني وغيرهما، وسند بعضها ضعيف، كما فصله الزيلعي في تخريج أحاديث الهداية، لكن لا يضر ذلك بعد ما ثبت عمل أكابر الصحابة على وفقه. وأما التقدير بالصاع في التمر والشعير فثابت من عدة أحاديث مخرجة في كتب السنن وغيرها من الصحاح. قاله في «عمدة الرعاية».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں صدقہ فطر کی مقدار دو مدّ گیہوں مقرر فرمائی گئی ہے، واضح ہوکہ اس زمانہ کے پیمانہ کے لحاظ سے دو مدّ کے دو کیلو ہوتے ہیں، اور جو یا کھجور کی مقدار ایک صاع مقرر فرمائی گئی ہے جس کے چار کیلو ہوتے ہیں، کیونکہ دو مدّ نصف صاع کے برابر ہوتے ہیں، جس کو امام طحاوی نے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے اور بیہقی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اور عبدالرزاق نے حضرات ابن زبیر، جابر، ابن عباس، ابن مسعود اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے اور ابوداود اور دارقطنی کے پاس دو مدّ نصف صاع کے برابر ہونے کے بارے میں مرفوع حدیثیں بھی مروی ہیں، اور اگر گیہوں کے بجائے صدقہ فطر میں کھجور یا جو دی جائے تو ہر آدمی کی طرف سے ایک صاع مقدار کا ادا کرنا ایسی احادیث سے ثابت ہے جس کی روایت سنن کی کتابوں میں صحیح حدیثوں کے ذریعہ کی گئی ہے جیسا کہ عمدۃ الرعایہ میں مذکور ہے۔12

Hadith 2284

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2683
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک منادی کو مکہ معظّمہ کی گلیوں میں یہ ندا دینے کے لئے روانہ فرمائے کہ صدقۂ فطر کا ادا کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے، اور (نداء کے الفاظ میں) یہ بھی (تھا) کہ (اگر) گیہوں (دیئے جائیں تو) دو مدّ دیئے جائیں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 674 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2285

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2684
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں صدقۂ فطر میں (ایک ایک آدمی کی طرف سے) دو دو مدّ گیہوں دیا کرتے تھے، یہ وہی مدّ ہوتا تھا جس کو ہم کھانے پینے (کے اجناس کے ناپ تول) میں استعمال کرتے تھے۔ اس کی روایت امام احمد نے اپنی مسند میں کی ہے۔

Hadith 2286

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2685Noor 2686
سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقۂ فطر (کی مقدار) دو مدّ مقرر فرمائے ہیں۔ اس کی روایت ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں کی ہے، اور امام طحاوی نے بھی سعید بن المسیب سے اسی طرح روایت کی ہے۔ اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقۂ فطر کو روزہ کی حالت میں ہونے والے بیہودہ کاموں اور فحش باتوں سے پاک کرنے والا قرار دیا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (صدقۂ فطر کو) اس لئے بھی (واجب) قرار دیا ہے کہ اس سے مساکین کی خوراک کا انتظام ہوتا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1609 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

A purification for the fasting person from idle talk and obscenity.

(1) The statement: “A purification for the fasting person from idle talk and obscenity.” Ibn Al-Malik said: “This is because good deeds erase bad deeds. Those who do not consider the charity of Fitr obligatory for children use this as evidence, as they are not required to fast, so purification does not apply to them. However, the majority consider it obligatory for them, perhaps viewing the reason for its obligation as a combination of purification and feeding the poor, giving priority to the poor. Al-Shafi’i also held that its obligation is conditional on owning what exceeds one’s daily sustenance for oneself and one’s dependents, as both the rich and poor are equal in its being a purification. I say: Just as this condition is mentioned, we consider the nisab (minimum amount) a condition, based on the evidence, to reconcile the hadiths as much as possible.” This is mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: طهر طهرة للصائم لصيام من اللغو والرفث قال ابن الملك: وهذا؛ لأن الحسنات يذهبن السيئات. تمسك به من لم يوجب الفطرة على الأطفال؛ لأنهم إذا لم يلزمهم الصيام لم يلزم طهرتهم. والأكثرون على إيجابها عليهم، ولعلهم نظروا إلى أن علة الإيجاب مركبة من الطهرة والطعمة؛ رعاية الجانب المساكين. وذهب الشافعي مع هذا أيضًا إلى أن شرط وجوبها أن يملك ما يفضل عن قوت يومه لنفسه وعياله؛ لاستواء الغني والفقير في كونها طهرة. أقول: كما أنه شرط ما ذكر شرطنا النصاب؛ لما تقدم من الأدلة جمعًا بين الأحاديث ما أمكن. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”زَكَاةُ الْفِطْرِ طُهْرَةٌ لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةٌ لِلْمَسَاكِينِ“ (روزہ میں جو لغو کام اور فحش باتیں ہو جائیں، صدقہ فطر ان کے لئے کفارہ ہے اور صدقہ فطر سے مساکین کی خوراک کا بھی انتظام ہو جاتا ہے) فقہاء نے بالغ اور مکلّف لوگوں پر صدقہ فطر کے وجوب کی علت طُهْرَةٌ لِلصَّائِمِ کو قرار دی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ“۔ (نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں)(سورۂ ہود، پ:12، ع:10، آیت نمبر:114) اور نابالغ بچوں پر صدقہ فطر کے وجوب کی علت ”وَطُعْمَةٌ لِلْمَسَاكِينِ“ قرار دی گئی ہے، اس لئے کہ بچوں پر روزہ فرض نہیں، اس لئے کہ وہ غیر مکلّف ہیں تو بچوں پر صدقہ فطر اس لئے واجب ہے کہ ان کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنے سے مساکین کی خوراک کا انتظام ہو جاتا ہے۔ (یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے)12