Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2283

(صدقہ فطر کے وجوب کا بیان)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(صدقہ فطر کے وجوب کا بیان)

Zujajat al-Masabih 2283Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2682
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کو کہ معظم یہ ندا دینے کے لئے روانہ فرمائے کہ صدقہ فطر اسلام کا (ایک شرعی) حق ہے جس کا ادا کرنا (ہر مسلمان پر) واجب ہے (اور جس کی مقدار یہ ہے) گیہوں (دینا چاہے تو ہر آدمی کی طرف سے) دو مدّ اور (اگر) جو یا کھجور (دینا چاہے) تو ایک صاع (دیا جائے)۔ اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے اور بزار نے بھی اس کی روایت اسی طرح کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Two mudd of wheat.

(1) The statement: “Two mudd of wheat.” This measurement is established for wheat based on the practice of Umar, Ali (as narrated by Al-Tahawi), Abu Bakr (as narrated by Al-Bayhaqi), Ibn Al-Zubayr, Jabir, Ibn Abbas, Ibn Mas’ud, and Abu Hurairah (as narrated by Abd Al-Razzaq). There are also marfu’ narrations in Abu Dawud, Al-Daraqutni, and others, though some chains are weak, as detailed by Al-Zayla’i in Takhrij Ahadith Al-Hidayah. However, this does not harm the ruling, as the practice of the senior Companions supports it. As for the measurement of one sa’ for dates and barley, it is established through several narrations in the books of Sunnah and other authentic collections. This is mentioned in ‘Umdat Al-Ri’ayah.

Note 1

قوله

(۱) قوله: مدان من قمح: أي نصف صاع ثبت هذا التقدير في الحنطة عن عمر وعلي عند الطحاوي وعن أبي بكر عند البيهقي، وعن ابن الزبير وجابر وابن عباس وابن مسعود وأبي هريرة عند عبد الرزاق، ورويت في ذلك أيضًا أحاديث مرفوعة عند أبي داود والدارقطني وغيرهما، وسند بعضها ضعيف، كما فصله الزيلعي في تخريج أحاديث الهداية، لكن لا يضر ذلك بعد ما ثبت عمل أكابر الصحابة على وفقه. وأما التقدير بالصاع في التمر والشعير فثابت من عدة أحاديث مخرجة في كتب السنن وغيرها من الصحاح. قاله في «عمدة الرعاية».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں صدقہ فطر کی مقدار دو مدّ گیہوں مقرر فرمائی گئی ہے، واضح ہوکہ اس زمانہ کے پیمانہ کے لحاظ سے دو مدّ کے دو کیلو ہوتے ہیں، اور جو یا کھجور کی مقدار ایک صاع مقرر فرمائی گئی ہے جس کے چار کیلو ہوتے ہیں، کیونکہ دو مدّ نصف صاع کے برابر ہوتے ہیں، جس کو امام طحاوی نے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے اور بیہقی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اور عبدالرزاق نے حضرات ابن زبیر، جابر، ابن عباس، ابن مسعود اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے اور ابوداود اور دارقطنی کے پاس دو مدّ نصف صاع کے برابر ہونے کے بارے میں مرفوع حدیثیں بھی مروی ہیں، اور اگر گیہوں کے بجائے صدقہ فطر میں کھجور یا جو دی جائے تو ہر آدمی کی طرف سے ایک صاع مقدار کا ادا کرنا ایسی احادیث سے ثابت ہے جس کی روایت سنن کی کتابوں میں صحیح حدیثوں کے ذریعہ کی گئی ہے جیسا کہ عمدۃ الرعایہ میں مذکور ہے۔12