Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتوں کا بیان ہے)

Hadith 2818

(اس باب میں گناہوں سے مغفرت مانگنے اور توبہ یعنی گناہوں پر پشیمان ہونے

In this book

Current reading

(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتوں کا بیان ہے)

(اس باب میں گناہوں سے مغفرت مانگنے اور توبہ یعنی گناہوں پر پشیمان ہونے

Zujajat al-Masabih 2818Volume 2

اردو

عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: جو شخص (صدق دل سے) توبہ کر لیتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح پاک و صاف کر دیا جاتا ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو (یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسے تائب پر کوئی مواخذہ نہیں ہوتا)۔ اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور طبرانی نے اس کی روایت کبیر میں کی ہے۔ اور اسی بیان میں امام قشیری نے اپنی کتاب رسالہ میں انس رضی اللہ عنہ سے اور اسی کو ابن نجار نے بھی روایت نقل کی ہے۔ اور حاکم نے ابو سعید سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن عساکر نے روایت کی ہے۔ شرح السنہ میں ابن مسعود سے موقوفاً مروی ہے کہ: ندامت توبہ ہے اور گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 4250 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Regret is repentance...

(1) The statement: "Regret is repentance..." In Al-Mirqat, it is said: "Regret is the greatest pillar of repentance, as it leads to leaving the sin, resolving not to return, and rectifying wrongs when possible."

Note 1

قوله

(۱) قوله: الندم توبة إلخ : قال في «المرقاة»: أي ركن أعظمها الندامة؛ إذ يترتب عليها بقية الأركان من القلح والعزم على عدم العود وتدارك الحقوق ما أمكن.

Note 1

ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں، ابن حجر نے اس حدیث کے شواہد کی بنیاد پر اس کو حدیث حسن کا درجہ دیا ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت شعب الایمان میں کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس حدیث کے راویوں میں طبرانی مجہول راوی ہیں لیکن ابن حجر فرماتے ہیں کہ راوی کے مجہول ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لئے کہ فضائل کے بیان میں ضعیف حدیث قابل عمل ہے۔