Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتوں کا بیان ہے)

Hadith 2925

(اس باب میں ان دعاؤں کا بیان ہے جن میں اکثر چیزوں سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتوں کا بیان ہے)

(اس باب میں ان دعاؤں کا بیان ہے جن میں اکثر چیزوں سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے)

Zujajat al-Masabih 2925Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3444
حضرت ابو الیسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا (بھی) فرمایا کرتے تھے: یا الٰہی (مکان کے مجھ پر) گرنے سے میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور میں (بلند جگہ سے نیچے) گرنے سے، اور (پانی میں) ڈوب جانے سے، اور (آگ وغیرہ میں) جل جانے سے اور بڑھاپے (کی برائی جیسے عقل میں فتور وغیرہ) سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اور موت کے وقت شیطان کے مجھے مخبوط الحواس بنا دینے یعنی پریشان کرنے سے میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور آپ کی راہ (یعنی جہاد) میں پیٹھ پلٹا کر بھاگنے کی موت سے (بھی) آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اور میں ( سانپ بچھو وغیرہ کے) کاٹنے کے سبب سے مر جانے سے (بھی) آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔ اور نسائی کی ایک دوسری روایت میں غم سے بھی پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1552 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 5531 (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.743

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں ناگہانی موت جیسے دب کر یا اوپر سے گر کر مر جانے یا زہریلے جانور کے ڈسنے وغیرہ سے پناہ مانگی گئی ہے حالانکہ ناگہانی اموات سے شہادت کا درجہ ملتا ہے۔ صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ ناگہانی اموات میں بے انتہا اور شدید تکلیف ہوتی ہے اس لئے اندیشہ لگا رہتا ہے کہ مرنے والا بے صبری کے عالم میں کفریہ کلمات کہہ دے اور نتیجۃً خاتمہ برا ہو جائے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناگہانی اموات سے پناہ مانگنے کی امت کو تعلیم دی ہے۔12