اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4472
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم (اپنی بیوی) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں (تشریف لے جاتے تو) کچھ دیر
ٹھہر جاتے اور آپ کے پاس شہد نوش فرماتے (ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ) میں نے اور بی بی
حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا اور یہ طے کر لیا کہ ہم دونوں میں سے جس کے پاس بھی تشریف
لائیں تو وہ یوں کہے کہ (یا رسول اللہ) آپ کے (دہن مبارک) سے مغافیر کی بو آتی ہے تو کیا
آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ (اس کے بعد) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم دونوں میں سے کسی ایک
کے پاس تشریف لائے تو اس نے یہی کہا (یعنی طے شدہ بات کو دہرا دیا گیا) (یہ سن کر) حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ میں نے بی بی زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے۔
(اور اگر تم کو شہد پینے سے بدبو آ رہی ہے) تو آئندہ نہیں پیوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ”
يٰأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ “۔ (اس آیت کی روایت بخاری نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4912 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ حدیث شریف میں مغافیر کا لفظ مذکور ہے۔ مغافر یا مغافیر ایک پھل ہے جس کا مغز گوند ہے۔